کارگل جنگ میں فوجیوں کی بہادری کے قصوں پر کئی فلمیں بن چکی ہیں لیکن فضائیہ کی جوانمردی پر کم کام ہوا ہے، اسی کمی کو یہ سیریز پورا کرنے کی کوشش ہے۔
EPAPER
Updated: August 30, 2026, 12:31 PM IST | Mohammed Habib | Mumbai
کارگل جنگ میں فوجیوں کی بہادری کے قصوں پر کئی فلمیں بن چکی ہیں لیکن فضائیہ کی جوانمردی پر کم کام ہوا ہے، اسی کمی کو یہ سیریز پورا کرنے کی کوشش ہے۔
آپریشن سفید ساگر
(Operation Safed Sagar)
اسٹریمنگ ایپ: نیٹ فلکس(۶؍ایپی سوڈ)
اسٹار کاسٹ: ابھے ورما، سدھارتھ، مہیر آہوجا، پراجکتا کولی، جمی شیرگل، عادل حسین، دیا مرزا، منورشی چڈھا، ونے پاٹھک
ڈائریکٹر: اونی سین
رائٹر: سندیپ جین، ارشاد کامل، نکھل روی، ابھیجیت سنگھ پرمار، برون کشیپ، کشال سریواستو
پروڈیوسر: ابی جون، ابھیجیت سنگھ پرمار، محبوب پال سنگھ برار
موسیقار: انوراگ سیکیا، امیت تریویدی
سنیماٹوگرافر: ستیہ جیت پانڈے
ایڈیٹر: بھوپیش شرما
ریٹنگ:***
کارگل جنگ میں فوج کے جوانوں کی حب الوطنی، بہادری اور قربانیوں پر ’ایل او سی کارگل‘، ’لکشیہ‘ اور ’شیرشاہ‘ جیسی کئی فلمیں بن چکی ہیں، لیکن اس جنگ میں ہندوستانی فضائیہ کے کردار کو فلمی پردےپرنسبتاً کم جگہ ملی ہے۔ ایسے میں ویب سیریز ’آپریشن سفید ساگر‘ ہندوستانی فضائیہ کے ان بہادر سپوتوں کو خراجِ تحسین پیش کرتی ہے، جنہوں نے ۱۹۹۹ءکی جنگ میں اپنی بے مثال جرأت، حاضر دماغی اور ہار نہ ماننے کے جذبے سے ملک کی فتح کی راہ ہموار کی تھی۔ نیٹ فلکس پر۶؍ایپی سوڈپر مشتمل یہ سیریز۷؍اگست کو ریلیز ہو چکی ہے۔ آئیے جانتے ہیں کہ ہدایت کار اونی سین کی حب الوطنی کے جذبے سے لبریز یہ وار ڈراما کیسا ہے۔
کہانی
کہانی فضائیہ کے اس جانباز اسکواڈرن ’گولڈن ایروز‘ کی ہے، جسے ’ریزر بلیڈ‘ کے نام سے بھی جانا جاتا تھا اور جس نے کارگل جنگ کے دوران دنیا کے سب سے بلند اور دشوار گزار فضائی مشن ’آپریشن سفید ساگر‘ کو کامیابی سے انجام دیا۔
دراصل ۱۹۹۹ءمیں ہندوستان کے اس وقت کے وزیراعظم اٹل بہاری واجپئی، جن کا کردار انجَن شریواستو نے ادا کیا ہے، اپنے پڑوسی ملک پاکستان کے ساتھ امن کی امیدلے کر لاہور بس یاترا پر گئے تھے۔ وہاں پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف، جن کے کردار میں ونئے پاٹھک ہیں، کے ساتھ امن معاہدے پر دستخط ہو رہے تھے۔ لیکن دوسری جانب پاکستان کے اس وقت کے آرمی چیف پرویز مشرف، جن کا کردار منو رشی چڈھا نے نبھایا ہے، ہندوستان کی پیٹھ میں چھرا گھونپنے کی تیاری کر رہے تھے۔
مشرف کے اشارے پر پاکستانی فوجیوں نے لائن آف کنٹرول یعنی ایل او سی عبور کرکے کارگل، دراس، بٹالک اور مشکوہ جیسی بلند ہندوستانی چوٹیوں پر قبضہ کر لیا۔ چونکہ پاکستانی فوجی بلندی پر موجود تھے، اس لیے ہندوستانی فوج کے جوان روزانہ لڑتے ہوئے شہید ہو رہے تھے۔ ایسے نازک وقت میں فضائیہ کے جوان اپنے زمینی فوجی بھائیوں کا ساتھ دینے کے لیے آسمان میں اتر آئے۔
ونگ کمانڈر بیرندر سنگھ دھنووا، جن کا کردار جمی شیرگل نے ادا کیا ہے، کی قابل قیادت میں اسکواڈرن لیڈر اجے آہوجا (سدھارتھ)، فلائنگ آفیسر آر ایس دھالیوال عرف دھالی(ابھے ورما)، سی ایچ بال ریڈی عرف بالڈی (مہیر آہوجا)، جتیندر سانگوان عرف سینگی (تارک رینا) اور امت گپتا عرف گوفی (ارنو بھسین) جیسے بہادر جنگجوؤں نے ۱۵؍ہزار سے ۱۸؍ہزارفٹ کی بلندی پر دشمن کی میزائلوں اور اپنی جان کی پروا کیے بغیر بے شمار پروازیں کیں ۔
اسی دوران اجے آہوجاشہید ہو گئے، لیکن ان کی قربانی کے باوجود مشن کا حوصلہ کم نہیں ہوا۔ انتہائی بلندی، آکسیجن کی کمی، خراب موسم، جیٹ طیاروں کی تکنیکی حدود اورنیچے پھیلی برف کی اس وسیع سفیدچادر، جو کسی سفید سمندر کا منظر پیش کرتی تھی، جیسی بے شمار مشکلات کے باوجود ان بہادرپائلٹوں نے لیزر گائیڈڈ بموں سے دشمن کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا اور انہیں تباہ کرتے ہوئے ہندوستان کی فتح کی داستان رقم کر دی۔ برف کے اسی سفید سمندر جیسے منظر کی وجہ سے اس مشن کو ’سفید ساگر‘ کا نام دیا گیا تھا۔
یہ بھی پڑھئے: مسافر کیفے: سکون اور دل کے سفر پر نکلنے والوں کیلئے پیار پیش کرنے والا کیفے
ہدایت کاری
سیریز کے خالق کشل شریواستو خود فضائیہ سے وابستہ رہ چکے ہیں، شاید یہی وجہ ہے کہ سیریز میں اس مشن، اس کی پیچیدگیوں، فضائیہ کے پائلٹوں کی نجی زندگی اور فوجی ضابطوں و پروٹوکول کو خاصی حقیقت پسندی کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔ عام حب الوطنی پر مبنی فلموں کی طرح یہ سیریز غیر ضروری شور و غوغا سے کام نہیں لیتی اور نہ ہی کسی ایک کردار کو واحد ہیرو بنا کر پیش کرتی ہے۔
اداکاری
اس کاکریڈٹ متوازن اسکرین پلے اور فنکاروں کی عمدہ اداکاری کو بھی جاتا ہے۔ عادل حسین، ونئے پاٹھک، منو رشی چڈھا، جمی شیرگل، سدھارتھ، ابھے ورما اور مہیر آہوجا سمیت تمام اداکاروں نے اپنے کرداروں کو بھرپور انداز میں زندہ کیا ہے۔ کم اسکرین اسپیس کے باوجود اجے آہوجا کی اہلیہ الکاآہوجا کے کردار میں امرتا باگچی بھی متاثر کرتی ہیں ۔ دیا مرزا اور پراجکتا کولی کو نسبتاً زیادہ مواقع نہیں ملے، لیکن وہ بھی اپنے کرداروں کے ساتھ انصاف کرتی نظر آتی ہیں ۔ دوسری جانب برون سوبتی، سنجے سوری اور مہیش مانجریکر بھی عمدہ ہیں ۔
نتیجہ
کارگل جنگ کی ایک ایسی داستان جاننے کے لیے جو عام طور پر کم سنائی گئی ہےکو دیکھنے کے لیے یہ سیریز دیکھی جاسکتی ہے۔