چونکہ سندری کیرالا کی ہے، اس لئے فلم میں کیرالا کی ثقافت، رہن سہن اور فطری خوبصورتی کو بھرپور انداز میں دکھایا گیا ہے۔
EPAPER
Updated: August 30, 2025, 12:14 PM IST | Asmita Shrivastava | Mumbai
چونکہ سندری کیرالا کی ہے، اس لئے فلم میں کیرالا کی ثقافت، رہن سہن اور فطری خوبصورتی کو بھرپور انداز میں دکھایا گیا ہے۔
پرم سندری (Param Sundari)
اسٹارکاسٹ: سدھارتھ ملہوترا، جھانوی کپور، سنجے کپور اور ابھیشیک بنرجی وغیرہ۔
ڈائریکٹر : تشار جلوٹا
رائٹر : تشار جلوٹا، گورومشرا، ارش وورا
پروڈیوسر: رادھیکا جوشی، شاردا کرکی، پونم، شیو دسانی، دنیش وجین
سنیماٹوگرافر: سنتھانا کرشنن روی چندرن
ایڈیٹر:منیش پردھان
کاسٹنگ ڈائریکٹر: انمول اہوجا
آرٹ ڈائریکٹر:ایتشا جین، پرینکا گھوش ریا
ریٹنگ:ےے چ چ چ
سدھارتھ ملہوترا اور جھانوی کپور کی رومانٹک کامیڈی فلم ’پرم سندری‘ تھیٹر میں ریلیز ہو چکی ہے۔ اس فلم کے ٹریلر کو پسند کیا گیاتھا۔ ناظرین میں پہلی بار اس جوڑی کو پردے پر دیکھنے کا جوش تھا لیکن کیا یہ دونوں اداکار ناظرین کی توقعات پر پورے اترے یا نہیں ؟ آئیے دیکھتے ہیں :
پرم سندری کی کہانی کیا ہے؟
یہ کہانی دہلی کے ’پرم‘ (سدھارتھ ملہوترا) کی ہے، جو کئی اسٹارٹ اپ میں سرمایہ لگا کر کروڑوں روپے گنوا چکا ہے۔ اسے ایک ایپ ’فائنڈ یور سول میٹ‘ کا خیال آتا ہے۔ سول میٹ یعنی سچا پیار..جنم جنم کا ساتھی۔ اس ایپ میں اپنی پروفائل رجسٹر کرنی ہوتی ہے۔ پرم کو اس کی سول میٹ کیرالا کے ایک گاؤں میں ملتی ہے۔ وہ ایپ کی سچائی پرکھنے کے لئے کیرالا جانے کا فیصلہ کرتا ہے لیکن اس کے والد پرمیت سچدیو (سنجے کپور) شرط رکھتے ہیں کہ ایک مہینے میں اُسے اپنی ہم سفر ڈھونڈنی ہوگی۔ پرم اپنے بچپن کے دوست جگی (منجوت سنگھ) کے ساتھ کوچی کے ایک دور دراز گاؤں کی طرف روانہ ہوتا ہے۔ سفر کے دوران ان کی گاڑی حادثے کا شکار ہو جاتی ہے۔ وہ دھکے کھاتے ہوئے بس اور پھر کشتی کے ذریعے گاؤں پہنچتے ہیں ۔ یہاں یہ سوال اٹھتا ہے کہ ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری کرنے والا پرم جانتا ہے کہ کیرالا سب سے زیادہ تعلیم یافتہ ریاست ہے، پھر بھی وہ ٹیکسی یا کیب استعمال نہیں کرتا۔ خیرجب پرم کی ملاقات سندری (جھانوی کپور) سے ہوتی ہے تو وہ اُس پر فریفتہ ہو جاتا ہے۔ اس دوران شمالی اور جنوبی ہند کے اداکاروں سے متعلق سطحی معلومات کے سبب ہلکی پھلکی نوک جھونک بھی ہوتی ہے لیکن جیسے ہی دونوں قریب آتے ہیں سندری کی منگنی اُس کے بچپن کے دوست ’وینو‘ (سدھارتھ شنکر)سے ہو جاتی ہے۔ اب سندری اور پرم کی محبت کیسے پروان چڑھے گی؟ یہی فلم کا مرکزی سوال ہے۔
کہانی کی کمزوریاں
چونکہ سندری کیرالا کی ہے، اس لئے فلم میں کیرالا کی ثقافت، رہن سہن اور فطری خوبصورتی کو بھرپور انداز میں دکھایا گیا ہے۔ سینماٹوگرافر سنتھانا کرشنن روی چندرن نے مناظر کو شاندار طریقے سے قید کیا ہے لیکن رومانٹک کامیڈی کے طور پر پیش کی گئی یہ فلم نہ تو رومانس میں کامیاب ہے اور نہ ہی کامیڈی میں ۔
گورَو مشرا، ارش وورا اور تشار جَلوٹا کی لکھی کہانی کمزور پڑ جاتی ہے۔ پرم اور سندری کی محبت، اُن کے جذبات اور وینو کے ساتھ رشتے کو بہتر طور پر نہیں دکھایا گیا۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ پرم کشتی کی دوڑ میں حصہ لیتا ہے اور ناریل کے درخت پر بھی باآسانی چڑھ جاتا ہے جبکہ یہ دونوں کام برسوں کی محنت اور مہارت مانگتے ہیں ۔ سگائی کے ایک منظر میں کسی کے سر پر بوتل لگنے سے خون نکلتا ہے مگر نرس اُس کے بازو میں درد کا انجکشن لگا دیتی ہے۔ یہ سب کمزور کہانی نویسی کی مثالیں ہیں ۔ نتیجتاً شاندار مناظر کے باوجود فلم متاثر کن نہیں بن پاتی ہے۔
جھانوی -سدھارتھ کی
کیمسٹری کی کمی
یہ پہلی بار ہے کہ سدھارتھ ملہوترا اورجھانوی کپور ایک ساتھ اسکرین پر آئے ہیں لیکن دونوں کے درمیان کیمسٹری دلکش نہیں لگتی۔ چاہے پیار کے جذبات ہوں یا پرم کی سچائی، پوری فلم میں جذبات کی کمی نظر آتی ہے۔ سدھارتھ نے اپنی سِکس پیک ایبز تو دکھائے ہیں مگر پرم کی نادانی اور معصومیت کو حقیقی طور پر نہیں نبھا پائے۔ جھانوی نے اپنے کردار کے لئے ملیالم سیکھی جس کی محنت کچھ مناظر میں دکھائی دیتی ہے۔ سنجے کپور کو خاص موقع نہیں ملا لیکن آخر میں اُن کے چند مناظر بہتر ہیں ۔ منجوت سنگھ ہمیشہ کی طرح دوست کے کردار میں ہیں مگر اب وقت ہے کہ وہ نئی قسم کے کردار نبھائیں ۔ سندری کی چھوٹی بہن کے کردار میں عنایت ورمامتاثر کرتی ہیں ۔
نتیجہ
رومانٹک فلمیں تبھی دل کو چھوتی ہیں جب ہیروہیروئن کی محبت اور اُن کے سفر سے ناظرین جڑ پائیں لیکن پرم سندری میں ابتداء سے اختتام تک یہ کمی صاف جھلکتی ہے۔