Inquilab Logo Happiest Places to Work

رندھا آبشار: سہیا دری کے دل میں گونجتا قدرت کا عظیم شاہکار

Updated: August 06, 2026, 10:58 AM IST | Mohammed Habib | Mumbai

احمد نگر ضلع کے مشہور سیاحتی مقام بھنڈاردرا کے قریب واقع رندھا آبشار بلندی سے گرتی ہوئی آبی دھار، گرجدار آواز اور اردگرد کےمناظر کی وجہ سےمشہور ہے۔

The Rindha waterfall falling from above in the picture. Photo: INN
تصویر میں اوپر سے گرتا ہوا رندھا آبشار۔ تصویر: آئی این این

مہاراشٹر کانام آتے ہی ذہن میں ساحلی علاقے، قدیم قلعے، سرسبز پہاڑ اور دلکش آبشاروں کی تصاویر ابھرنے لگتی ہیں۔ ریاست کے مغربی گھاٹ، جنہیں سہیا دری کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، قدرتی حسن کا ایسا خزانہ ہیں جہاں ہر موسمِ برسات میں بے شمار آبشار پوری آب و تاب کے ساتھ بہنے لگتے ہیں۔ انہی میں سے ایک نہایت دلکش اور طاقتور آبشار رندھا آبشارہے، جو اپنی بلند گرتی ہوئی آبی دھار، گرجدار آواز اور اردگرد کے سرسبز مناظر کی وجہ سے سیاحوں کی اولین پسند بن چکا ہے۔ احمد نگر ضلع کے مشہور سیاحتی مقام بھنڈاردرا کے قریب واقع رندھا آبشار نہ صرف مہاراشٹر بلکہ پورے مغربی ہندوستان کے خوبصورت ترین آبشاروں میں شمار کیا جاتا ہے۔ برسات کے موسم میں یہاں کا منظر ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے قدرت نے سبز مخمل پر دودھیا پانی کی چادر بچھا دی ہو۔

محل و قوع

رندھا آبشار مہاراشٹر کے ضلع احمد نگر میں واقع بھنڈاردرا سے تقریباً۱۰؍کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ یہ آبشار دریائے پراورا پر واقع ہے،جو مغربی گھاٹ کے پہاڑوں سے نکل کر مختلف علاقوں کو سیراب کرتی ہے۔دریائے پراورا یہاں تقریباً ۱۷۰؍ فٹ(۵۲؍میٹر)کی بلندی سے ایک گہری پتھریلی گھاٹی میں گرتا ہے، جس سے زوردار شور پیداہوتا ہے۔ پانی کی یہ گرج دور دور تک سنائی دیتی ہے اور اسی وجہ سے یہ مقام سیاحوں کے لیے انتہائی پرکشش بن گیا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: تھوسے گھر آبشار: مغربی گھاٹ میں گرتا ہوا قدرت کا شاہکار

مانسون میں دلکشی

جون سے ستمبر تک کا موسم رندھا آبشار کی سیر کے لیے بہترین سمجھا جاتا ہے۔ انہی مہینوں میں بارش کی وجہ سے دریائے پراورا پانی سے لبریز ہو جاتا ہے اور آبشار اپنی پوری طاقت کے ساتھ بہنے لگتا ہے۔پانی کا دباؤ اس قدر زیادہ ہوتا ہے کہ اس کی آواز کئی سو میٹر دور تک سنائی دیتی ہے۔ یہی موسم فوٹوگرافروں، قدرتی مناظر کے شوقین افراد اور سیاحوں کو اپنی طرف کھینچ لاتا ہے۔

قدرتی حسن کا بے مثال نمونہ

رندھا آبشار کی سب سے بڑی خصوصیت اس کا قدرتی ماحول ہے۔چاروں طرف بلند پہاڑ، گھنے جنگلات، سرسبز وادیاں اور چٹانی ڈھلوانیں اس مقام کو ایک منفرد خوبصورتی عطا کرتی ہیں۔بارش کے دنوں میں جب بادل پہاڑوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیتے ہیں تو ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے آبشار بادلوں کے درمیان سے زمین کی طرف اتر رہاہو۔پانی کی بوندیں فضا میں بکھر کر ایک قدرتی دھند پیدا کرتی ہیں جبکہ سورج کی روشنی پڑنے پر اکثر قوسِ قزح بھی دکھائی دیتی ہے۔

رندھا آبشار کا ویو پوائنٹ

ریاستی حکومت نے سیاحوں کی سہولت کے لیے آبشار کے قریب محفوظ ویو پوائنٹس تعمیر کیے ہیں،جہاں سے پورے آبشار کا دلکش منظر دیکھا جا سکتاہے۔یہاں حفاظتی جنگلے، بیٹھنے کی جگہیں اور نظارے سے لطف اندوز ہونے کے لیے مناسب انتظامات موجود ہیں۔ چونکہ بارش کے دوران چٹانیں پھسلن والی ہو جاتی ہیں، اس لیے حفاظتی حدود سے باہر جانا سخت خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔

قدرتی گھاٹی کی حیرت انگیز ساخت

رندھا آبشار صرف ایک آبشار نہیں بلکہ ایک حیرت انگیز ارضیاتی تشکیل بھی ہے۔ہزاروں برسوں سےگرتے ہوئے پانی نے سخت آتش فشانی چٹانوں کو کاٹ کر ایک گہری اور تنگ گھاٹی تشکیل دی ہے۔نیچے موجود چٹانوں کی منفرد ساخت اس مقام کو ارضیات کے طلبہ اور محققین کے لیے بھی دلچسپی کا باعث بناتی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: امبولی آبشار: سہیادری کی آغوش میں قدرت کا دلکش شاہکار

یہاں کیسے پہنچیں؟

رندھا آبشار سڑک کے ذریعے آسانی سے پہنچا جا سکتا ہے۔ ممبئی سے اس کا فاصلہ تقریباً ۱۷۰؍کلومیٹر جبکہ ناسک سے تقریباً ۷۵؍ کلومیٹرہے۔احمد نگر، ناسک اور ممبئی سے بھنڈاردرا کے لیے بسیں اور ٹیکسیاں دستیاب رہتی ہیں۔ بھنڈاردرا پہنچنے کے بعد رندھا آبشار صرف چند منٹ کی ڈرائیو پر واقع ہے۔

یاد رہے: یہ محض رہنمائی کا کالم ہے، آمدورفت  اور قیمت وغیرہ کی حتمی تفصیل قارئین خود حاصل کرکے اطمینان کرلیں۔ کون سا پوائنٹ کتنا محفوظ ہے اس پر بھی توجہ دے لیں کیونکہ یہ بہت ضروری ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK