Inquilab Logo Happiest Places to Work

کھانڈی آبشار تک جانےکا راستہ آسان اور نہایت ہی دلکش ہے

Updated: August 13, 2026, 12:49 PM IST | Mohammed Habib | Mumbai

دلچسپ بات یہ ہے کہ کھانڈی کو محض ایک آبشار کہنا درست نہیں، بلکہ یہ پورا علاقہ درجنوں چھوٹے بڑے آبشاروں سے مل کرانتہائی خوبصورت بن جاتا ہے۔

A waterfall cascading from a height can be seen. Picture: INN
اونچائی سے گرتا آبشار دیکھا جاسکتاہے۔ تصویر: آئی این این

مہاراشٹر میں برسات کا موسم آتے ہی سہیادری کے پہاڑوں کا رنگ ہی بدل جاتا ہے۔خشک اور بھورے پہاڑ چند ہی دنوں میں سبز چادر اوڑھ لیتے ہیں، چھوٹی بڑی ندی نالیاں زندگی سے بھر جاتی ہیں اور پہاڑوں کی چٹانوں سے گرتے آبشار یوں محسوس ہوتے ہیں جیسے فطرت نے اپنے ہاتھوں سے وادیوں میں چاندی کی لکیریں کھینچ دی ہوں۔ پونے کے قریب واقع کھانڈی بھی ایسی ہی ایک جگہ ہے، جو خاص طور پر مانسون میں قدرت کے بے شمار رنگ اپنے اندر سمیٹ لیتی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ کھانڈی کو محض ایک آبشار کہنا درست نہیں، بلکہ یہ پورا علاقہ درجنوں چھوٹے بڑے آبشاروں، سرسبز پہاڑوں، دھان کے کھیتوں، وادیوں اور تھوکرواڑی ڈیم کے پسِ منظر سے مل کر ایک مکمل قدرتی منظرنامہ بن جاتا ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: رندھا آبشار: سہیا دری کے دل میں گونجتا قدرت کا عظیم شاہکار

محل و قوع

پونے شہرسےتقریباً ۷۵؍سے ۸۰؍کلومیٹر کے فاصلے پر واقع کھانڈی، ماؤل تعلقہ کے علاقے میں آتا ہے۔ کانہے پھاٹا سے اس کی سمت سفر کیا جائے تو راستے میں ہی قدرت اپنا جلوہ دکھانا شروع کردیتی ہے۔ عام دنوں میں یہی سڑکیں نسبتاً خاموش اور سادہ نظر آتی ہیں، لیکن جولائی سے ستمبر کے درمیان بارش کے موسم میں یہی راستہ آبشاروں کی ایک لمبی قطار میں تبدیل ہوجاتا ہے۔ مسافروں کے مطابق کانہے سے کھانڈی تک کا پورا راستہ کئی چھوٹے بڑے آبشاروں سے مزین ہے اور یہی اس سفر کی اصل خوبصورتی بھی ہے۔ 

یہاں کی خصوصیت

کھانڈی کی خاص بات یہ ہے کہ یہاں پہنچنے کے لیے کسی مشکل اور طویل ٹریکنگ کی ضرورت نہیں پڑتی۔ پونے سے پرانے ممبئی- پونے ہائی وے کی سمت بڑھتے ہوئے سوماتانے پھاٹا اور کانہے پھاٹا کے راستے کھانڈی کی طرف جایا جاسکتا ہے۔ کانہے پھاٹا کے بعد راستہ جیسے جیسےپہاڑوں کی طرف بڑھتا ہے، شہری زندگی پیچھے رہ جاتی ہے اور سہیادری کی خاموش، سبز دنیا سامنے آتی جاتی ہے۔ کہیں دھان کے کھیت بارش کے پانی سے چمکتے دکھائی دیتے ہیں، کہیں پہاڑی ڈھلوان سے پانی کی ایک باریک دھار نیچے آتی نظر آتی ہے اور کچھ ہی دور جاکر وہی دھار ایک بھرپور آبشار کی شکل اختیار کرلیتی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: تھوسے گھر آبشار: مغربی گھاٹ میں گرتا ہوا قدرت کا شاہکار

متعدد آبشاروں کا مجموعہ

کھانڈی کے علاقے میں صرف ایک آبشار نہیں بلکہ متعدد آبشار موجود ہیں۔ جگتاپ آبشار، تھوکرواڑی آبشار، لال واڑی آبشار اور بینڈے واڑی آبشار ان میں نمایاں نام ہیں۔مقامی اور سیاحتی معلومات کے مطابق پورا کھانڈی علاقہ مانسون میں ۲۰؍سےبھی زیادہ چھوٹے بڑے آبشاروں کا منظر پیش کرسکتا ہے، جبکہ بعض مقامی سفری ذرائع یہاں آبشاروں کی تعداد۴۰؍سے زیادہ بتاتے ہیں۔ تعداد میں یہ فرق اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ کھانڈی کو کسی ایک آبشار کے بجائے ایک وسیع آبشار زار کے طور پر دیکھنا زیادہ مناسب ہے، کیونکہ بارش کی شدت کے ساتھ نئی نئی پانی کی دھاریں پہاڑوں سے نمودار ہوتی رہتی ہیں۔ 

یہ بھی پڑھئے: تاریخی شہر حیدر آباد میں سیاحتی مقامات کی کوئی کمی نہیں

منزل سے زیادہ راستہ دلکش

کھانڈی کا حسن صرف آبشاروں تک محدود نہیں۔ اس علاقے کا اصل جادو اس راستے میں پوشیدہ ہے جو مسافر کو آبشاروں کے درمیان سےگزارتا ہوا تھوکرواڑی ڈیم کے قریب لے جاتا ہے۔ پہاڑوں کے درمیان ڈیم کا پھیلا ہوا پانی، اس کے کناروں پر چھائی سبزیاں اور دور تک نظر آنے والی سہیادری کی پہاڑی سلسلے ایک ایسا منظر بناتے ہیں جسے دیکھنے کے لیے کسی فلٹر یا کیمرے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ کھانڈی پوائنٹ کے آس پاس سے وادیوں، پہاڑوں اور پانی کے وسیع مناظر دیکھے جاسکتے ہیں۔ بعض سیاحوں کے نزدیک یہاں اصل کشش منزل سے زیادہ راستہ ہے، کیونکہ سفر کے دوران منظر مسلسل بدلتا رہتا ہے۔ برسات میں کھانڈی کا منظر خاص طور پر قابل دید ہوتا ہے۔ پہاڑوں پر بادل یوں اتر آتے ہیں جیسے سہیادری نے دھند کی سفید چادر اوڑھ لی ہو۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK