Updated: August 05, 2026, 3:09 PM IST
| London
ایک صدی قبل جاپانی شہنشاہ ہیروہیتو نے بائبری کو ”مقدس مقام“ اور شاعر ولیم مورس نے اسے ”انگلینڈ کا سب سے خوبصورت گاؤں“ کہا تھا۔ گزشتہ سال فوربس کی جانب سے ملنے والے اعزاز کی وجہ سے یہاں آنے والے سیاحوں کی تعداد میں زبردست اضافہ ہوا ہے، جس کے بارے میں رہائشیوں کا کہنا ہے کہ اس نے گاؤں کے محدود بنیادی ڈھانچے کو درہم برہم کرکے رکھ دیا ہے۔
بائبری کا ایک دلکش منظر۔ تصویر: ایکس
انگلینڈ کے کاٹس والڈز (Cotswolds) میں واقع محض ۶۲۷ افراد کی آبادی والے ایک چھوٹے سے گاؤں بائبری (Bibury) کو گزشتہ سال ٹریفک چالان کی مد میں ۴۵ ہزار پاؤنڈ (تقریباً ۵۸ لاکھ روپے) کی آمدنی ہوئی۔ واضح رہے کہ ۲۰۲۵ء میں فوربس (Forbes) میگزین کی جانب سے بائبری کو ”دنیا کا سب سے خوبصورت گاؤں“ قرار دیئے جانے کے بعد یہاں آنے والے سیاحوں کی تعداد میں زبردست اضافہ ہوا ہے۔
سترھویں صدی کے بنکروں کی جھونپڑیوں اور خوبصورت آبی سبزہ زار کی وجہ سے جانا جانے والا یہ گاؤں طویل عرصے سے سیاحوں کو اپنی طرف متوجہ کرتا رہا ہے۔ ایک صدی قبل جاپانی شہنشاہ ہیروہیتو نے اسے ”مقدس مقام“ اور شاعر ولیم مورس نے اسے ”انگلینڈ کا سب سے خوبصورت گاؤں“ کہا تھا۔ گزشتہ سال فوربس کی جانب سے ملنے والے اعزاز کی وجہ سے یہاں آنے والے سیاحوں کی تعداد میں زبردست اضافہ ہوا ہے، جس کے بارے میں رہائشیوں کا کہنا ہے کہ اس نے گاؤں کے محدود بنیادی ڈھانچے کو درہم برہم کر کے رکھ دیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ۳؍ برس میں ۲؍ لاکھ ۶۸؍ اسرائیلیوں نے اسرائیل چھوڑ دیا: تحقیق
گاؤں میں پارکنگ کی شدید قلت کی وجہ سے گھروں کے باہر دہری پیلی لائنوں اور فٹ پاتھوں پر گاڑیاں کھڑی کر دی جاتی ہیں جس سے مقامی رہائشیوں اور سیاحوں کے درمیان کشیدگی کے واقعات سامنے آئے ہیں۔ ’دی انڈیپنڈنٹ‘ کی رپورٹ کے مطابق، کچھ تنازعات بڑھ کر ہاتھا پائی تک جا پہنچتے ہیں۔ ایک رہائشی نے بتایا کہ پارکنگ کے تنازع کے دوران ایک کار اس کے پیر پر چڑھ گئی۔ اسی طرح ایک اور رہائشی اور ایک سیاح کے درمیان فٹ پاتھ پر کھڑی گاڑی کو ہٹانے کے معاملے پر لڑائی ہوگئی تھی۔
ایک مقامی رہائشی نے ’دی انڈیپنڈنٹ‘ کو بتایا کہ سیاح جہاں بھی جگہ ملتی ہے گاڑی پارک کر دیتے ہیں اور قانونی جگہیں ختم ہونے پر اکثر فٹ پاتھوں یا ڈبل پیلی لائنوں کا سہارا لیتے ہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ عالمی سطح پر شناخت ملنے کے بعد سے سیاحت نے اس چھوٹے سے گاؤں پر کتنا دباؤ ڈال دیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: فرانس: خشک سالی کے باعث دریاؤں کے بہاؤ میں کمی، تین جوہری ری ایکٹر بند
ان واقعات کا نوٹس لیتے ہوئے گلوسٹر شائر کاؤنٹی کونسل نے غیر قانونی پارکنگ کے خلاف کارروائیوں میں تیزی لائی ہے اور ۲۰۲۵ء میں ۶۵۱ پارکنگ نوٹس جاری کئے۔ ۲۰۱۹ء میں جاری کئے جانے والے پارکنگ نوٹس کی کل تعداد صرف ۲۸ تھی۔ غیر قانونی پارکنگ کرنے پر ۳۵ پاؤنڈ (تقریباً ۴۵۰۰ روپے) کا جرمانہ عائد کیا جاتا ہے جسے دو ہفتوں کے اندر اداکیا جا سکتا ہے۔ اگر اس مدت کے دوران جرمانہ ادا نہیں کیا گیا تو وہ بڑھ کر ۷۰ پاؤنڈ (تقریباً ۹ ہزار روپے) ہو جاتا ہے۔ کونسل کو سال بھر میں ان جرمانوں سے ۴۵ ہزار ۵۷۰ پاؤنڈ (تقریباً ۵۸ لاکھ ۳۰ ہزار روپے) یا تقریباً ۳۷۹۷ پاؤنڈ (تقریباً ۳ لاکھ ۶۰ ہزار روپے) ماہانہ حاصل ہوئے۔
یہ بھی پڑھئے: گرما کی تعطیلات میں مدینہ منورہ بدستور زائرین کیلئے کشش کا مرکز بن رہا ہے
تاہم، کارروائی کے اخراجات تقریباً ۴۰۰۰ پاؤنڈ (تقریباً ۵ لاکھ ۱۲ ہزار روپے) ماہانہ آ رہے ہیں، جس کا مطلب ہے کہ جمع کئے گئے جرمانوں سے اخراجات مکمل طور پر پورے نہیں ہو رہے ہیں۔ اس سے نمٹنے کیلئے، کونسل ’پے اینڈ ڈسپلے‘ پارکنگ سسٹم متعارف کرانے کا منصوبہ بنا رہی ہے۔ اس کے تحت مارچ اور اکتوبر کے درمیان دو گھنٹے کیلئے تقریباً ۶ سے ۷ پاؤنڈ (۸۰۰ سے ایک ہزار روپے) وصول کئے جائیں گے۔ حکام کو توقع ہے کہ اس اسکیم سے سالانہ ۲ لاکھ ۱۸ ہزار ۸۸۰ پاؤنڈز (تقریباً ۲ کروڑ ۸۱ لاکھ روپے) حاصل ہوں گے، جس کا متوقع منافع چار برسوں کے اندر بڑھ کر ۳ لاکھ ۶۰ ہزار ۶۸۰ پاؤنڈ (تقریباً ۴ کروڑ ۶۱ لاکھ روپے) تک پہنچ جائے گا۔