Inquilab Logo Happiest Places to Work

سنگل سلمیٰ: سماج میں لڑکیوں پرعائد پابندیوں سے متعلق کہانی

Updated: November 01, 2025, 11:18 AM IST | Mohammed Habib | Mumbai

ہما قریشی کی اداکاری سے سجی فلم میں لڑکیوں کی عمر بڑھنے کے باوجود شادی نہ ہونے اور ایسے ہی دیگر کئی مسائل کو عمدہ انداز میں پیش کیا گیا ہے۔

Huma Qureshi can be seen in a scene from the film `Single Salma`. Photo: INN
فلم’سنگل سلمیٰ‘ کے ایک منظر میںہما قریشی کو دیکھا جاسکتاہے۔ تصویر: آئی این این

سنگل سلمیٰ (Single Salma)
اسٹارکاسٹ:ہما قریشی،شریاس تلپڑے، سنی سنگھ،آکانکشا پانڈے،سیمی جوناس ہینی، کل صابر،نونی پریہار،کنول جیت سنگھ
ڈائریکٹر :نچیکیت سامنت
رائٹر :مدثر عزیز، آمنہ خان، روی کمار
پروڈیوسر:ہما قریشی، ثاقب سلیم،آلوک جین، فیروزی خان
سنیماٹو گرافر:اینڈریو بولٹر، شکیل خان
ایڈیٹر:آنند ابھیشیک،اشیش ترپاٹھی
پروڈکشن ڈیزائنر:نادری طارق خان، طارق عمر خان
کاسٹیوم ڈیزائنر:ویرا کپور
پروڈکشن منیجر:انوبھو کرشنا،اکشے کھتری،یاسین چوبی
 ریٹنگ: ***

ہمارے معاشرے میں جب کوئی لڑکی ۳۰؍سال کی ہو جاتی ہے تو ہر کوئی پھر چاہے وہ خاندان کا فرد ہو بلکہ گائوں والے، محلے والے اور دور و نزدیک کے رشتہ دار ایک ہی فکر میں مبتلا ہوجاتے ہیں کہ اب اس سے کون شادی کرے گا۔یہ ایک ایسا موضوع ہے جس سے تقریباً ہر فرد متاثر ہوتا ہے،جس پر یہ فلم’سنگل سلمیٰ‘ مرکوزہے۔ اس فلم میں ہما قریشی نے اہم کردار ادا کیا ہے۔یہ فلم اس کے علاوہ لڑکیوں سےمتعلق دیگرکئی موضوعات پر بھی روشنی ڈالتی ہے۔
فلم کی کہانی
آمنہ خان کی تحریر کردہ، یہ کہانی لکھنؤ کے ایک سابق نواب (کنولجیت سنگھ) کی بیٹی سلمیٰ رضوی (ہما قریشی) کے بارے میں ہے۔ نواب کی شاہی مدت ختم ہو چکی ہے لیکن وہ اس سے غافل ہے۔ اس لیے سلمیٰ، جو اربن ڈیولپمنٹ ڈپارٹمنٹ میں کام کرتی ہے، نے گھرکی ساری ذمہ داری اپنے کاندھوں پر اٹھا رکھی ہے۔پھر چاہے رہن رکھی ہوئی حویلی پر سود ادا کرنا ہو، بہنوں کے گھر کوآباد کرنا ہو یا اپنے بھائی کے کرکٹر بننے کے خواب کو زندہ رکھنا ہو وہ ان سب کے تعلق سےفکرمند رہتی ہے لیکن ایسے میںاس کے اپنے خواب جیسے کہیںکھو گئےہیں۔یہاں تک کہ شادی کی عمر (جیسا کہ معاشرے نےمقرر کیا ہے) گزر چکی ہے۔ ۳۳؍سال کی’سنگل سلمیٰ‘گلی کے موالیچھیڑنےسے بھی باز نہیں آتے۔پھر، ایک دن، اپنی ماں کے اصرار پر، سلمیٰ شادی کے لیے راضی ہوجاتی ہے، اور تقریباً ایک درجن نمونوں کے ذریعہ دیکھے جانےکےبعد،سکندر (شریاس تلپڑے) اس کی زندگی میں داخل ہوتا ہے۔
اپنے ہاتھ سے اپنی تقدیر لکھنے والا سکندر جوسوٹنگ شرٹنگ کی دکان چالاتا ہےپہلی ہی نظرمیں سلمیٰ کی خوبصورتی پر فدا ہوجاتا ہے۔ سلمیٰ اس کی ایمانداری سے متاثرہے۔ ان کی شادی طے پا گئی ہے لیکن ان کی منگنی کے دن سلمیٰ کو اپنی ٹیم کے ساتھ سرکاری تربیت کے لیے لندن جانا ہے۔ لندن میں قیام کے۲؍مہینوں میں،سلمیٰ نہ صرف خودآگہی حاصل کرتی ہےبلکہ اسے خود سےملوانے والےمیت (سنی سنگھ)سے پیار کرنے لگتی ہے۔اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس کی ڈولی لکھنؤ سےسکندر کے گھر جاتی ہے یا لندن والے میت کے یہاں یہ آپ کو فلم دیکھنے کے بعد ہی پتہ چلے گا۔
ہدایت کاری
نچیکیت سامنت کی یہ فلم صرف محبت کے تکون ڈرامے تک ہی محدود نہیں ہے، بلکہ پیدائش سے لے کر ملازمت تک ہر سطح پر لڑکیوں کودرپیش امتیازی سلوک اور لباس سے لے کر کردار تک ہر چیز پر مبنی فیصلے پر بھی سوالیہ نشان ہے۔ جہاں یہ لڑکیوں کے تئیں معاشرے کے تنگ نظر رویوں کو بے نقاب کرتی ہے، وہیں یہ انہیں خود سے محبت اور خود کو اولین ترجیح دینا بھی سکھاتی ہے۔ تاہم سب کچھ ایک ساتھ دکھانے کی یہ کوشش بھی فلم کی کمزوری ہے۔
یہ فلم بیٹی کو بیٹے سے کمتر ماننے،کپڑوں سے لڑکیوں کے کردارکا اندازہ لگانے،خاندان کی خاطر شادی کرنے، لڑکیوںکواپنی مرضی کے مطابق جینے کی آزادی نہ ہونے جیسےمتعددمسائل پیش کرنے کے چکر میںیہ فلم کچھ کھنچی ہوئی محسوس ہوتی ہے۔یہ فلم بعض اوقات حد سے زیادہ ڈرامائی محسوس ہوتی ہے، خاص طور پر کلائمکس کی بیان بازی۔ مدثر عزیز کے مکالمے دلکش اور طنز آمیز ہیں۔ فلم کی موسیقی ایک بڑی کمزوری ہے۔ ایک بھی گانا یادگار نہیں ہے، اور اس کے بجائے، یہ کہانی کی رفتار کو کم کر دیتا ہے۔
اداکاری 
اداکاروں کی اداکاری بہترین ہے۔ ہما قریشی سلمیٰ کے طور پر متاثرکن ہیں۔ شریاس تلپڑے نے بھی معصوم سکندرکے طور پر دل جیت لیے۔ فلم دیکھتے ہوئےناظرین اس کی جیت کیلئےدعائیں کرتے ہیں۔سنی سنگھ بھی اپنے کردار میں ٹھوس ہیں۔ مزید برآں، ندھی سنگھ، سلمیٰ کی دوست، نونی پریہار، اس کی دفتری ساتھی مسز سریواستو، اور آصف خان جوراجیو کاکردار ادا کر رہے ہیں، بھی فلم کو مضبوط کرتے ہیں۔
کیوں دیکھیں؟
لڑکیوں کے تعلق سے سوچ بدلنے کی کوشش کے طور پر بنائی گئی یہ فلم ایک مرتبہ تو دیکھی ہی جاسکتی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK