Updated: March 14, 2026, 10:02 PM IST
| Bhopal
مدھیہ پردیش: کمبھ میلہ کی وائرل لڑکی کے مسلمان نوجوان سے شادی کے بعد والد نے لو جہاد کا الزام لگاتے ہوئے وزیراعلیٰ سے مدد مانگی،جبکہ ہندو جاگرن منچ کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ مونالیزاکو گھر واپس آنے پر آمادہ کرنے کی کوشش کی جائے گی، جس نے کیرلا کے وزراء کی موجودگی میں بدھ کو فرمان خان سے شادی کی۔
مونالیزا بھونسلے۔ تصویر: ایکس
پریاگ راج میں گزشتہ سال کمبھ میلے کے دوران شہرت کی بلندیوں کو پہنچنے والی نوجوان خاتون مونالیزا بھونسلے کے والد نے جمعہ کو مدھیہ پردیش کے وزیراعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنی بیٹی کو بحفاظت ریاست واپس لانے میں مدد کریں، کیونکہ اس نے کیرلا میں ایک مسلمان نوجوان سے شادی کر لی ہے۔مدھیہ پردیش کے قصبے مہیشور سے تعلق رکھنے والی اور خانہ بدوش پاردھی برادری سے وابستہ۱۸؍ سالہ مونالیزا ، کمبھ میلے میں مالااور دیگر پوجا سے متعلق اشیاء فروخت کیا کرتی تھی، لیکن اس کا ویڈیوں منظر عام پر آنے کے بعد لوگ اس کی خوبصورتی سے کافی متاثر ہوئے، جس کے بعد وہ کافی مشہور ہوگئی۔
تاہم مونالیزا بھونسلے نے بدھ کو کیرلا کے پووار کے علاقے ارمناور میں واقع نینار مندر میں کیرلا کے کچھ وزراء کی موجودگی میں فرمان خان سے شادی کی۔بعد ازاں کیرلا سے واپس آنے کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ان کے والد جے سنگھ بھونسلے نے کہا کہ مونالیزا ’’ لو جہاد‘‘ کا شکار ہوئی ہے۔ یاد رہے کہ نام نہاد ’’لو جہاد‘‘ ایک اصطلاح ہے جو دائیں بازو کے گروپوں کی جانب سے اس سازش کے الزام کے لیے استعمال کی جاتی ہے کہ مسلمان مرد ہندو خواتین کو رشتوں اور شادی کے ذریعے پھنسا کر ان کا مذہب تبدیل کروا لیتے ہیں۔
جے سنگھ بھونسلے نے صحافیوں کو بتایا، ’’میری بیٹی نے پورے ملک میں نام کمایا ہے۔ میں وزیراعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو سے درخواست کرتا ہوں کہ مونالیزا کو بحفاظت مدھیہ پردیش واپس لانے کو یقینی بنایا جائے۔ اسے ایک مسلمان نوجوان فرمان خان نے دھوکے سے پھنسایا ہے۔ یہ لو جہاد کا معاملہ ہے۔‘‘انہوں نے دعویٰ کیا کہ ،’’ مجھے بتایا گیا تھا کہ میری بیٹی دو فلموں میں کام کر رہی ہے۔ اس نے خود کہا تھا کہ کچھ لوگ اسے اداکاری اور ڈانس سکھا رہے ہیں۔ ‘‘ انہوں نے کہا کہ وہ اسے تربیت دیں گے تاکہ وہ مستقبل میں فلموں میں کام کر سکے۔ جبکہ انہیں نہیں معلوم تھا کہ ایسا کچھ ہو جائے گا۔دوسری جانب ہندو جاگرن منچ کے عہدیداروں سمیر مہولے اور بھوپیندر چوہان نے کہا کہ مونالیزا کو گھر واپس آنے پر آمادہ کرنے کی کوشش کی جائے گی۔
واضح رہے کہ جمعرات کو جنوبی ریاست کیرلا کے دارالحکومت تروواننت پورم میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مونالیزنے کہا تھا کہ ایک مسلمان نوجوان سے ان کی شادی ان کی اپنی مرضی سے اور ہندو رسم و رواج کے مطابق ہوئی ہے۔اس نے اس الزام کو مسترد کر دیا کہ یہ لو جہاد کا معاملہ ہے۔ چار بہن بھائیوں میں سب سے بڑی مونالیزا نے کہا کہ ان کے والدین اس کی شادی اس کے چچا کے بیٹے سے کرنا چاہتے تھے، لیکن اس نے کی مخالفت کی، جس کے سبب اس کے والد اس سے ناراض ہیں۔