فریمانٹ میں واقع ہند نژاد جیولری اسٹور ’کمار جیولرز‘ میں کوئی ڈکیتی کی ویڈیو فوٹیج میں دیکھا جاسکتا ہے کہ کس طرح نقاب پوش چوروں کا گروہ محض ۷۰ سیکنڈز کے اندر تقریباً ۱۷؍ لاکھ ڈالر (تقریباً ۱۵ کروڑ ۷۴ ہزار روپے) کی مالیت کے زیورات لوٹ کر فرار ہوگیا۔
EPAPER
Updated: March 14, 2026, 10:05 PM IST | Sacramento
فریمانٹ میں واقع ہند نژاد جیولری اسٹور ’کمار جیولرز‘ میں کوئی ڈکیتی کی ویڈیو فوٹیج میں دیکھا جاسکتا ہے کہ کس طرح نقاب پوش چوروں کا گروہ محض ۷۰ سیکنڈز کے اندر تقریباً ۱۷؍ لاکھ ڈالر (تقریباً ۱۵ کروڑ ۷۴ ہزار روپے) کی مالیت کے زیورات لوٹ کر فرار ہوگیا۔
امریکی حکام نے ریاست کیلیفورنیا کے شہر فریمانٹ (Fremont) میں واقع ہند نژاد جیولری اسٹور ’کمار جیولرز‘ میں منظم انداز میں انجام دی گئی ڈکیتی کی سی سی ٹی وی فوٹیج جاری کی ہے۔ اس فوٹیج میں دیکھا جاسکتا ہے کہ کس طرح نقاب پوش چوروں کا ایک گروہ محض ۷۰ سیکنڈز کے اندر تقریباً ۱۷؍ لاکھ ڈالر (تقریباً ۱۵ کروڑ ۷۴ ہزار روپے) کی مالیت کے زیورات لوٹ کر فرار ہوگیا۔ امریکی محکمہ انصاف کی جانب سے جاری کردہ معلومات کے مطابق، ۱۸ جون ۲۰۲۵ء کو تقریباً دو درجن مشتبہ افراد نے جیولری اسٹور پر دن دہاڑے دھاوا بول کر یہ واردات انجام دی۔
70 seconds.
— SILENT BRIEF (@SilentBriefHQ) March 14, 2026
24 masked robbers.
$1.7M in gold and diamonds gone.
Kumar Jewelers in Fremont was wiped out almost instantly. 75% of the inventory stolen. Only four arrests so far while most suspects remain at large. pic.twitter.com/9Cde4MuhlJ
چوری کی واردات کی تفصیل
ویڈیو فوٹیج میں دیکھا جاسکتا ہے کہ جیولری اسٹور کے باہر کئی گاڑیاں اچانک آ کر رکیں جس کے فوراً بعد کئی نقاب پوش افراد کا گروہ دکان میں داخل ہوا۔ زیادہ تر ملزمین نے گہرے رنگ کی ہوڈی پہن رکھی تھیں اور ان کے پاس بیک پیکس (کاندھے پر لٹکانے والے بیگ) تھے۔ اندر داخل ہوتے ہی چوروں نے ہتھوڑوں اور دیگر اوزاروں کی مدد سے شیشے کے ڈسپلے کیسز توڑ دیئے اور زیورات نکال کر بیگوں میں بھرنے لگے۔ وفاقی عدالت کی دستاویزات کے مطابق، اسٹور کے مالک کا تخمینہ ہے کہ دکان کی ۷۵ سے ۸۰ فیصد انوینٹری لوٹ لی گئی جس سے تقریباً ۱۷ لاکھ ڈالر کا نقصان ہوا۔
چوروں کا گروہ ایک منٹ سے کچھ ہی زیادہ میں چوری کی کارروائی مکمل کرکے باہر کھڑی گاڑیوں میں سوار ہو کر تیزی سے فرار ہوگیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ فرار کے لئے استعمال ہونے والی کئی گاڑیاں چوری شدہ تھیں، جس کی وجہ سے لائسنس پلیٹوں کے ذریعے ملزمین کا سراغ لگانا مشکل ہوگیا۔ پولیس نے ایک سیاہ رنگ کی ’ایکورا‘ (Acura) گاڑی کا فریمانٹ کے رہائشی علاقوں میں پیچھا کیا۔ استغاثہ کے مطابق، پولیس افسران سے بچنے کی کوشش میں تقریباً ۸۰ میل فی گھنٹہ کی رفتار سے کار چلائی، کئی اسٹاپ سائنز توڑے اور سڑک کی غلط سمت میں گاڑی چلائی۔
گرفتاریاں اور جاری تحقیقات
اس ڈکیتی کے سلسلے میں چار مشتبہ افراد افاتوپیتائیکی فاسی سیلا، ہوزے ہیراڈا-اراگون، اینڈریس پلسٹینو اور ٹام پارکر ڈونیگن کو گرفتار کیا گیا ہے۔ حکام نے بتایا کہ فاسی سیلا اور پلسٹینو کو کیس کی کارروائی کے دوران رہا کر دیا گیا ہے۔ تفتیش کاروں کا ماننا ہے کہ ڈکیتی میں ملوث کئی دیگر مشتبہ افراد تاحال مفرور ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: امریکی فوجی طیارہ مغربی عراق میں گر کر تباہ، کشیدگی میں اضافہ
استغاثہ اس ڈکیتی اور سان ریمون (San Ramon) کے ’ہیلر جیولرز‘ میں ہونے والی ڈکیتی کے درمیان مماثلت کا جائزہ لے رہے ہیں۔ تفتیش کاروں نے ڈونیگن کی شناخت دونوں ڈکیتیوں میں ممکنہ ’گیٹ وے ڈرائیور‘ (گاڑی چلانے والا) کے طور پر کی ہے۔ وفاقی حکام کا کہنا ہے کہ تحقیقات تاحال جاری ہیں اور وہ ان منظم چوریوں میں ملوث دیگر ملزمین کی شناخت اور گرفتاری کی کوشش کر رہے ہیں۔