صدر دروپدی مرمو پی ایم پوشن اسکیم کے تحت اکشے پاترا فاؤنڈیشن کا ۵؍ارب واں کھانا پیش کریں گی۔ یہ تقریب راشٹرپتی بھون میں منعقد ہوگی۔
EPAPER
Updated: March 14, 2026, 10:04 PM IST | New Delhi
صدر دروپدی مرمو پی ایم پوشن اسکیم کے تحت اکشے پاترا فاؤنڈیشن کا ۵؍ارب واں کھانا پیش کریں گی۔ یہ تقریب راشٹرپتی بھون میں منعقد ہوگی۔
صدر دروپدی مرمو۱۷؍ مارچ کو راشٹرپتی بھون میں پی ایم پوشن (پرائم منسٹرز اوور آرچنگ اسکیم فار ہولسٹک نورشمنٹ) اسکیم کے تحت اکشے پاترا فاؤنڈیشن کی جانب سے فراہم کردہ۵؍ ارب واں کھانا پیش کریں گی۔ اکشے پاترا فاؤنڈیشن اسکیم پر۲۰۰۱ء سے حکومت کی شراکت دار رہی ہے۔ فاؤنڈیشن کے شریک بانی اور نائب صدر چنچلا پاٹی داس نے بتایا کہ اسکیم کے اگلے پانچ سالہ مرحلے کے تحت فاؤنڈیشن کا ہدف اسکولوں میں مزید۳؍ کروڑ بچوں کو غذا فراہم کرنا ہے۔انہوں نے کہا، ’’ہم فی الحال پی ایم پوشن کے تحت ساڑھے تئیس لاکھ بچوں کو مڈ ڈے میل (دوپہر کا کھانا) فراہم کر رہے ہیں اور۲۰۳۰ء تک مزید بچوں تک پہنچنے کی امید رکھتے ہیں۔ ہم مورننگ نیوٹریشن پروگرام (ایم این پی) کے دائرے میں مزید۳۰؍ لاکھ بچوں کو لانے کا بھی ارادہ رکھتے ہیں۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: رسوئی گیس کی قلت کے معاملے پر اپوزیشن کا پھر احتجاج
انہوں نے مزید بتایا کہ فی الحال فاؤنڈیشن اس پروگرام کے تحت۸؍ لاکھ بچوں کو خدمت فراہم کر رہی ہے۔انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا، ’’اسکول میں باقاعدہ اور غذائیت سے بھرپور کھانے کی سہولت کا اثر نہ صرف بچوں پر بلکہ ان کے خاندانوں اور برادریوں پر بھی گہرا پڑا ہے۔ جب بچوں کو اسکول میں روزانہ کھانا ملنے کی یقین دہانی ہو جاتی ہے تو حاضری اور تعلیم کو جاری رکھنے کی شرح میں نمایاں بہتری آتی ہے، کیونکہ والدین اپنے بچوں کو باقاعدگی سے اسکول بھیجنے کے لیے زیادہ ترغیب دیتے ہیں۔‘‘ انہوں نے کہا کہ یہ خاص طور پر کمزور برادریوں میں اہم ہے جہاں معاشی مجبوریاں اکثر بچے کی تعلیم کی راہ میں رکاوٹ بنتی ہیں۔
داس نے بتایا کہ ایک غذائیت سے بھرپور کھانا اسکول میں بھوک کو دور کرنے، صلاحیت کو بہتر بنانے اور سیکھنے کے بہتر نتائج میں معاون ثابت ہوتا ہے، جس سے طلبہ اسکول میں زیادہ فعال طور پر حصہ لے پاتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ تعلیم میں یہ تسلسل بچوں کے اسکول کی تعلیم مکمل کرنے اور اعلیٰ تعلیم یا بامعنی روزگار کے حصول کے امکانات کو بڑھاتا ہے۔ اس کے علاوہ، یہ خاندانوں پر مالی دباؤ کو بھی کم کرتا ہے۔مستقبل میں، فاؤنڈیشن اپنے سابقہ طلبہ (ایلومنی) کے نیٹ ورک کو بھی استعمال کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ انہوں نے کہا، ’’فاؤنڈیشن کا منصوبہ ہے کہ وہ سابقہ طلبہ کو تقریبات میں شامل کرے اور موجودہ مستفید ہونے والوں کے لیے رہنمائی (مینٹرشپ) کے مواقع فراہم کرے۔ طویل مدت میں، وژن یہ ہے کہ ایک منظم سابقہ طلبہ کمیونٹی تیار کی جائے جو طلبہ کی آنے والی نسلوں کی مدد، ترغیب اور انہیں واپس دینے کا کام کر سکے، جبکہ فاؤنڈیشن کے اثرات کے نظام (امپیکٹ ایکو سسٹم) کو بھی مضبوط بنایا جا سکے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: سپریم کورٹ کا کیس لسٹنگ اور بینچوں کی تقسیم کے لئے اے آئی نظام متعارف کرانے کا منصوبہ
واضح رہے کہ فاؤنڈیشن۲۰۰۱ء سے حکومت کے ساتھ شراکت داری کر رہی ہے، جس کا آغاز بنگلور کے سرکاری اسکولوں سے ہوا تھا، اور اب یہ ریاستوں بھر میں بچوں کے لیے اسکولوں میں مڈ ڈے میل اور ناشتہ فراہم کرتی ہے۔ شریک بانی نے کہا، ’’اکشے پاترا فاؤنڈیشن بڑے پیمانے پر موثر باورچی خانے کے آپریشنز، غذائیت سے متعلق اختراعات اور ٹیکنالوجی سے چلنے والے ترسیلی نظاموں کے ذریعے پروگرام کی حمایت جاری رکھنے کے لیے حکومت اور مختلف اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ کام کرتی رہے گی۔‘‘