اس میں تاریخی ہولناکی، سیاسی سازشوں کی جھلک اور روحانی دنیا کا ایک الگ تخیلاتی رنگ موجود ہے، اس کی کہانی بعض مقامات پر الجھی ہوئی ہے۔
EPAPER
Updated: September 06, 2026, 12:09 PM IST | Mohammed Habib | Mumbai
اس میں تاریخی ہولناکی، سیاسی سازشوں کی جھلک اور روحانی دنیا کا ایک الگ تخیلاتی رنگ موجود ہے، اس کی کہانی بعض مقامات پر الجھی ہوئی ہے۔
دی ایسٹ پیلس (The East Palace)
اسٹریمنگ ایپ :نیٹ فلکس(۸؍ایپی سوڈ)
اسٹار کاسٹ: نام جو ہیوک، روہ یون سیو، چو سیونگ ووو، پارک سو ییون، جنگ ینگ نام، کلو پارک، لز برنیٹ، کواک ڈونگ یون
ڈائریکٹر:جنگ کیو چوئی
رائٹر:سو را کیون، جائے وون سیو
سنیماٹوگرافر:جونگ ہون پارک
ریکارڈنگ انجینئر:گوئی اراد
ویژوئل افیکٹ:گائین ٹرونگ سون، ساگر شریناتھ
کیمرہ:جیہون پارک، جونیئرلوکانو
ریٹنگ:***
کورین ڈراموں نےگزشتہ چند برسوں میں عالمی ناظرین کے درمیان اپنی ایک الگ شناخت قائم کی ہے۔ رومانوی کہانیوں، جذباتی ڈراموں اور کرائم تھرلرزکے بعد اب کورین تخلیق کار تاریخی پس منظر میں فینٹسی اور ہارر کو بھی نہایت بڑے پیمانے پر پیش کر رہے ہیں۔ نیٹ فلکس کی نئی کورین ویب سیریز ’دی ایسٹ پیلس‘ (The East Palace) اسی سلسلے کی ایک دلچسپ پیشکش ہے، جس میں قدیم شاہی محل، بدروحیں، پراسرار موتیں، سیاسی سازشیں اور ایک ایسے خوفناک راز کو یکجا کیا گیا ہے جس کی جڑیں تین دہائیوں پرانے ماضی میں پیوست ہیں۔
کہانی
کہانی ایک فرضی تاریخی کوریامیں قائم ہے، جہاں شاہی محل کا مشرقی حصہ ایک خوفناک لعنت کی زد میں آجاتا ہے۔ کئی برس پہلے اسی محل سے جڑا ایک ہولناک واقعہ پیش آیا تھا، جس کی یادیں وقت کےساتھ دھندلی ضرور پڑ گئیں، لیکن اس کا انتقام ختم نہیں ہوا۔ اچانک ولی عہد کی پراسرار موت پورے شاہی دربار میں خوف کی لہر دوڑا دیتی ہے۔ اس موت کا تعلق محل کے قریب موجود تالاب کی ایک روح سے جوڑا جاتا ہے، جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس نے ۳؍ دہائیاں قبل بھی شاہی خاندان کو تباہ کرنے کی کوشش کی تھی۔
بادشاہ کے سامنے مسئلہ صرف ایک موت کا نہیں بلکہ پورے شاہی خاندان کی بقا کا ہے۔ ایسے میں وہ خفیہ طور پر گو چیون نامی ایک ایسے شخص کو طلب کرتا ہے جو زندہ اور مردہ کی دنیا کے درمیان سفر کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور بدروحوں کا خاتمہ کرنا اس کا کام ہے۔ گو چیون کے کردار میں نام جو ہیوک نظر آتے ہیں۔ اس خطرناک مشن میں ان کا ساتھ دیتی ہے سینگ گینگ، جو بظاہر محل سے وابستہ ایک خاتون ہے، لیکن اس کے پاس مردہ روحوں کی آوازیں سننے اور ان سے رابطہ کرنے کی غیر معمولی صلاحیت ہے۔ یہ دونوں مل کر مشرقی محل کے ان رازوں تک پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں جنہیں برسوں سے جان بوجھ کر دفن رکھا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: آپریشن سفید ساگر: کارگل جنگ کے پوشیدہ رازوں سے پردہ اٹھاتی ہے
ہدایت کاری
’دی ایسٹ پیلس‘ کی کہانی میں سب سے زیادہ کشش اس کا ماحول پیدا کرتا ہے۔ وسیع و عریض شاہی عمارتیں، سنسان راہداریاں، اندھیرےکمرے، دھند میں لپٹے تالاب اور رات کے سناٹے میں سنائی دینے والی پراسرار آوازیں سیریز کو ایک خوفناک مگر دلکش فضا عطا کرتی ہیں۔ تخلیق کاروں نے تاریخی ڈرامے کے روایتی شاہی ماحول کو محض پس منظر کے طور پر استعمال نہیں کیا بلکہ اسے کہانی کے خوف کا بنیادی حصہ بنا دیا ہے۔ محل خود بھی یہاں ایک کردار کی طرح محسوس ہوتا ہے، جس کی ہر دیوار اپنے اندر کوئی راز چھپائے ہوئے ہے۔
سیریز کادوسرا مضبوط پہلو کورین لوک داستانوں اور روحانی عقائد کا استعمال ہے۔ یہاں بھوت محض ڈرانے کے لیے نہیں آتے بلکہ ہر روح کے پیچھے ایک تاریخ، ایک دکھ اور انتقام کی ایک وجہ موجود ہے۔ یہی بات ’دی ایسٹ پیلس‘ کو عام ہارر سیریز سے کچھ مختلف بناتی ہے۔ تخلیق کاروں نے روحوں کی دنیا اور حقیقی دنیا کے درمیان سفر کو خاص بصری انداز میں پیش کیا ہے، جس سے کئی مناظر واقعی متاثر کن بن پڑے ہیں۔
اداکاری
نام جو ہیوک نےگو چیون کے کردار میں اچھی واپسی کی ہے۔ ان کےکردار میں ایک طرف بہادری اور خود اعتمادی ہے تو دوسری طرف ایک ایسا پراسرار پن بھی ہے جو ناظرین کو مسلسل اس کے ماضی کے بارے میں سوچنے پر مجبور کرتا ہے۔ وہ روایتی ہیرو کی طرح ہر وقت نیک اور مثالی نظر نہیں آتے بلکہ ان کے کردار میں تلخی اور پیچیدگی بھی موجود ہے۔ روحوں کے ساتھ ان کی لڑائیاں اور حقیقی دنیا سے ان کا تعلق سیریز کے کئی اہم سوالات کو جنم دیتا ہے۔ روہ یون سیو نے سینگ گینگ کے کردار کو محض ایک معاون خاتون کرداربننے نہیں دیا۔ ان کے کردار کے پاس اپنی صلاحیتیں اور اپنے رازہیں۔ گو چیون اور سینگ گینگ کی جوڑی میں روایتی کورین ڈراموں جیسا رومانوی انداز نمایاں نہیں بلکہ دونوں کے درمیان ایک عجیب سی شراکت اور اعتماد کی کیفیت ہے، جو کہانی آگے بڑھنے کے ساتھ مضبوط ہوتی جاتی ہے۔
نتیجہ
محلوں کی چمکتی دیواروں کے پیچھے چھپے اندھیرے، تخت کی حفاظت کیلئےدفن کیے گئے راز اور موت کے بعد بھی چین نہ پانے والی روحیں ’دی ایسٹ پیلس‘ انہی عناصر کو ایک ساتھ جوڑ کر ایسی دنیا تخلیق کرتی ہے جہاں زندہ لوگوں سے زیادہ خطرناک وہ لوگ ہیں جو مرنے کے باوجود واپس جانے پر آمادہ نہیں۔