• Sun, 30 November, 2025
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

دی فیملی مین۳: نارتھ ایسٹ کے پس منظر میں ہائی اوکٹین اسپائی ڈراما

Updated: November 30, 2025, 1:25 PM IST | Mohammed Habib | Mumbai

پچھلے ۲؍سیزن کی طرح یہ سیزن بھی سنسنی خیز اورتحیر زدہ کردینے والا ہے، منوج باجپئی سمیت تمام اداکاروں نے بہترین اداکاری کی ہے۔

Manoj Bajpayee can be seen in action in a scene from the web series `The Family Man 3`. Photo: INN
ویب سیریز’دی فیملی مین۳‘ کےایک منظر میںمنوج باجپئی کو ایکشن میں دیکھا جاسکتاہے۔ تصویر:آئی این این

دی فیملی مین۳ (The Family Man 3)
 اسٹریمنگ ایپ :امیزون پرائم(۸؍ایپی سوڈ)
اسٹار کاسٹ:منوج باجپئی، پریہ منی، شارب ہاشمی، ویدانت سنہا،اشلیشا ٹھاکر،شریہ دھنونتری، درشن کمار
ڈائریکٹر:کرشنا ڈی کے، راج ندی مورو
رائٹر:کرشنا ڈی کے، سمن کمار، راج ندی مورو
پروڈیوسر:کرشنا ڈی کے، راج ندی مورو
موسیقار:کیتن سوڈھا، سچن سنگھوی، دیویہ لمباسیا
سنیماٹوگرافر:نگم بومزان،عظیم مولان،کیمرون برائسن
ریٹنگ: ****

گزشتہ کچھ عرصے سے یہ بحث زوروں پر ہے کہ ناظرین کا اٹینشن اسپین کم ہوتا جا رہا ہے اور اب شاید طویل دورانیے والے شوز کا زمانہ ڈھل رہا ہے۔ لیکن ’دی فیملی مین سیزن۳؍‘ اس تاثر کو بڑی حد تک توڑ دیتا ہے۔ جب کہانی میں دم ہو، تحریر تنگیِ وقت سے آزاد ہو اور اداکار اپنی پوری قوت کے ساتھ اسکرین پر موجود ہوں تو ناظرین ایک ایک گھنٹے کے آٹھ ایپی سوڈ بھی دلچسپی سے دیکھ لیتے ہیں۔ پہلے دو سیزن کی غیر معمولی مقبولیت اور کلٹ اسٹیٹس نے تیسرے سیزن سے توقعات کو آسمان پر پہنچا دیا تھا، خوش آئند پہلو یہ ہے کہ نیا سیزن ان بلند توقعات کے دباؤ تلے دبنے کے بجائے ایک بھرپور اسپائی تھرلر، تیز رفتار بیانیے اور شاندار اداکاری کا ڈبل ڈوز پیش کرتا ہے۔
کہانی 
کہانی وہیں سے آگے بڑھتی ہے جہاں پچھلے سیزن کے اختتام پر اشارہ دیا گیا تھا کہ اگلا باب شمال مشرقی ہندوستان کے پس منظر میں ہوگا۔ نارتھ ایسٹ کے حساس خطے میں وقفے وقفے سے ہونے والے بم دھماکوں نے فضا کو بے حد کشیدہ بنا رکھا ہے۔ چین، میانمار کو بطور ڈھال استعمال کرتے ہوئے ہندوستان کے خلاف پراکسی جنگ چھیڑے ہوئے ہے اور اسی تناظر میں ہندوستان کی وزیراعظم (سیما بسواس) ’پروجیکٹ سہکار‘ کے ذریعے خطے میں امن بحال کرنے اور چین نواز عسکری نیٹ ورک کو توڑنے کی کوشش میں مصروف دکھائی دیتی ہیں۔ اس اہم مشن کی کمان ٹاسک فورس کے سربراہ کلکرنی (دلیپ تاہل) کے ہاتھ میں ہے، جو اپنے سب سے قابلِ اعتماد اور تجربہ کار افسر شری کانت تیواری (منوج باجپئی) کے ساتھ ناگالینڈ پہنچتے ہیں۔
منصوبہ یہ ہے کہ مختلف باغی گروہوں سے مذاکرات کے ذریعے پروجیکٹ سہکار کو آگے بڑھایا جائے، لیکن اس سے پہلے ہی حالات الٹ جاتے ہیں۔ ایک بدنام زمانہ کانٹریکٹ کلر اور ڈرگ لارڈ رُکما (جیدیپ اہلاوت) اچانک حملہ کر کے کلکرنی اور مقامی با اثر لیڈر ڈیوڈ خوجو کو قتل کر دیتا ہے۔ یہ کارروائی وہ بیرونِ ملک مقیم میرا (نمرَت کور) اور اس کے ساتھی دُوارکا ناتھ (جُگل ہنسراج) کے اشارے پر انجام دیتا ہے۔ زخمی شری کانت بیہوش ہونے سے قبل رُکما کا چہرہ دیکھ کر پہچان لیتا ہے اور ہوش میں آتے ہی سازش کی تہہ تک پہنچنے کی کوشش شروع کرتا ہے، مگر جوں جوں وہ سچ کے قریب جاتا ہے، حالات اور زیادہ خطرناک ہو جاتے ہیں۔سرحد پر بحران اپنی جگہ، شری کانت کی ذاتی زندگی بھی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے۔ اس کی اہلیہ سُچی (پریامنی) کے ساتھ طلاق کا فیصلہ تقریباً طے ہو چکا ہے اور بیٹی دھرتی (اشلیشا ٹھاکر) اور بیٹا اتھرو (ویدانت سنہا) بھی اس تلخ حقیقت سے باخبر ہو جاتے ہیں۔ اس جذباتی انتشار میں جے کے (شارب ہاشمی) ہی واحد دوست ہے جو ہر موڑ پر شری کانت کا سہارا بن کر ساتھ کھڑا ہے۔
 ہدایت کاری
مصنف و ہدایتکار جوڑی راج اورڈی کے ایک بار پھر یہ ثابت کرتی ہے کہ وہ معاصر جیو پالیٹکس، سماجی فضا اور بدلتے شہری رشتوں کی نبض پہچاننے کی غیر معمولی صلاحیت رکھتی ہے۔ تیز رفتار اور ایکشن سے بھرپور اسپائی تھرلر کے بیچ کہانی کا جذباتی محور ہاتھ سے نہیں چھوٹتا،یہی اس جوڑی کی سب سے بڑی خوبی بن کر ابھرتی ہے۔ اس کا دلچسپ پہلو یہ ہے کہ جذباتی گہرائی صرف ہیرو شری کانت تک محدود نہیں رہتی بلکہ نئے ولن رُکما کے کردار میں بھی بھرپور انداز میں جھلکتی ہے، جب یہ سفاک قاتل اور ڈرگ اسمگلر محبت کے انتقام میں اندھاتو ہو جاتا ہے مگر اپنے ’ان چاہے‘ بیٹے کو ترک کرنے کی ہمت نہیں جٹا پاتا۔ نتیجتاً ناظر کرداروں کو محض ’ہیرو‘ اور ’ویلن‘ کے خانوں میں نہیں رکھ پاتا، بلکہ دونوں کو اپنے اپنے طور پر ’فیملی مین‘ کے طور پر دیکھنے لگتا ہے۔
اداکاری
اداکاری کے میدان میں تقریباً پوری کاسٹ نے اپنے کرداروں کو سنبھال کر، نکھار کر اور سنوار کر پیش کیا ہے۔ شری کانت تیواری کے روپ میں منوج باجپئی ایک بار پھر ثابت کرتے ہیں کہ وہ آج بھی اپنے عہد کے سب سے مضبوط کردار اداکاروں میں شمار ہوتے ہیں۔ 
نتیجہ
’دی فیملی مین سیزن۳‘ نہ دیکھنے کی کوئی وجہ نہیں ہے، لہٰذا یہ اس کے قابل ہے کہ اسے ضرور دیکھا جائے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK