سری لنکا کے صدر انورا کمارا نے پاکستانی وزیر اعظم کے فیصلے کو کرکٹ کیلئے خوش آئند قرار دیا ، شاہد آفریدی نے کہاکہ یہ کھیل کی جیت ہوئی ہے، دیگر کھلاڑیوں نے بھی ستائش کی۔
EPAPER
Updated: February 11, 2026, 9:59 AM IST | Agency | New Delhi
سری لنکا کے صدر انورا کمارا نے پاکستانی وزیر اعظم کے فیصلے کو کرکٹ کیلئے خوش آئند قرار دیا ، شاہد آفریدی نے کہاکہ یہ کھیل کی جیت ہوئی ہے، دیگر کھلاڑیوں نے بھی ستائش کی۔
ٹی ٹوینٹی ورلڈ کپ میں ۱۵؍ فروری کو ہندوستان اور پاکستان کے درمیان ہونے والے میچ پر چھائے بے یقینی کے بادل چھٹ گئے ہیں کیوں کہ پاکستانی حکومت نے ابتدائی اگر مگر کےبعد اپنی ٹیم کو یہ میچ کھیلنے کی اجازت دے دی ہے۔ ویسے یہ اندازہ سبھی کو تھا کہ پاکستان شروعات میں تمام ناز نخرے دکھائے گا لیکن آخر میں چپ چاپ مان جائے گا۔ وہی ہوا بھی ۔ پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف نے ٹویٹ کرکے اس کی اطلاع دی کہ انہوں نے پاکستان کو ہندوستان کے خلاف میچ کھیلنے کی اجازت دے دی ہے۔ اس سے آئی سی سی ، بی سی سی آئی اور خود پاکستانی کرکٹ بورڈ نے راحت کی سانس لی ہے کیوں کہ اس ایک مقابلے پر کروڑوں روپے لگے ہوئے ہیں۔ ابتدائی اندازہ کے مطابق صرف اس ایک میچ پر سرکاری طور پر ۴۸؍ ہزار کروڑ روپے کی خطیررقم لگی ہوئی ہے جس میں سے پاکستان کو بھی حصہ ملنا ہے اور اگر پاکستان نہیں کھیلتا تو اسے اس رقم سے ہاتھ دھونا پڑسکتا تھا۔
سری لنکا کے صدر نے ستائش کی
سری لنکا کے صدر انورا کمارا دیسانائیکے نے آئی سی سی ورلڈ کپ میں ہند۔پاک ہائی وولٹیج مقابلے کے انعقاد کو یقینی بنانے پر پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف کے فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے۔ صدر نائیکے نے اس اہم پیش رفت پر پاکستان کی قیادت کا خصوصی شکریہ ادا کیا ہے۔ ایکس پر جاری اپنے ایک بیان میں صدر دیسانائیکے نے ٹورنامنٹ کے تسلسل کو برقرار رکھنے کے لیے پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف، انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) اور دیگر متعلقہ حکام کی کوششوں کو سراہا۔ انہوں نے لکھا کہ ’’وزیراعظم شہباز شریف، آپ کا شکریہ کہ آپ نے اس بات کو یقینی بنایا کہ وہ کھیل جس سے ہم سب محبت کرتے ہیں، بغیر کسی رکاوٹ کے جاری رہے۔ مجھے بے حد خوشی ہے کہ کولمبو میں جاری ورلڈ کپ میں شائقین کا پسندیدہ ہند۔پاک مقابلہ اپنے مقررہ وقت پر منعقد ہو رہا ہے۔‘‘ واضح رہے کہ سری لنکا، جو اس ٹورنامنٹ کا مشترکہ میزبان ہے، نے اس بحران کو ٹالنے کے لیے عالمی کرکٹ باڈی اور تمام اسٹیک ہولڈرز کے مثبت کردار کی تعریف کی ہے۔ بورڈ کئی مرتبہ کہہ چکا تھا کہ سری لنکا تمام ٹیموں اور شائقین کی میزبانی کے لیے پرعزم ہے اور اس بڑے مقابلے کا انعقاد کرکٹ کی عالمی برادری کے لیے ایک بڑی خوشخبری ہے۔
شاہد آفریدی کا ردعمل
حکومت پاکستان کی جانب سے اپنی ٹیم کو ہندوستان کے خلاف میچ کھیلنے کی اجازت ملنے کے بعد سابق کپتان شاہد آفریدی کا اہم بیان سامنے آیا ہے، جس میں انہوں نے اس فیصلے کو کھیل کی جیت قرار دیا ہے۔سابق مایہ ناز آل راؤنڈر شاہد آفریدی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکومت پاکستان نے میچ میں شرکت کی اجازت دے کر ورلڈ کپ کے وقار اور کرکٹ کی اسپرٹ کو محفوظ کر لیا ہے۔ اس فیصلے سے عالمی کرکٹ کے استحکام کو تقویت ملے گی۔
یہ بھی پڑھئے:پرینکا چوپڑا ہاروڈر یونیورسٹی کے ۲۳؍ ویں انڈیا کانفرنس سے خطاب کریں گی
عمران خواجہ کا رول کیا ہے؟
اگر پاکستان ہندوستان کے ساتھ میچ کھیلنے پر راضی ہوا ہے تو اس کا ذمہ دار ایک شخص ہے۔ اس شخص کا نام عمران خواجہ ہے۔ سنگاپور کے رہنے والے عمران خواجہ ہی ہیں جنہوں نے پی سی بی کے سربراہ محسن نقوی کو قائل کیا۔ انہوں نے پاکستان کو کھیلنے پر آمادہ کیا، کبھی جرمانے کی دھمکیاں دے کر اور کبھی سمجھا بجھا کر ۔ عمران خواجہ آئی سی سی کے ڈپٹی چیئرمین ہیں۔ ان کی عمر ۶۴؍ سال ہے اور وہ ایک وکیل بھی ہیں۔ انہوںنے پردے کے پیچھے نہایت خاموشی سے کام کیا۔ انہوں نے اکیلے ملاقاتوں اور مذاکرات کے ذریعے سب کچھ حل کیا۔کہا جاتا ہے کہ جب بھی آئی سی سی کو کسی پرسکون ثالث کی ضرورت ہوتی ہے تو وہ عمران خواجہ کی طرف ہی دیکھتے ہیں اور اس مرتبہ بھی انہوں نے اپنا کردار بخوبی نبھایا۔