ممبئی شہر و مضافات اور اطراف کے علاقوں میں لوکل ٹرینوں اور طویل مسافتی ٹرینوں میں دروازے پر سفر کرنے والے افراد ’پھٹکاگینگ‘ کا شکار ہوجاتے ہیں۔ اس گینگ کے ممبرپٹریوں کے اطراف کھمبوں کی آڑے میں یا ریلوے پلوں کے نیچے چھپے ہوتے ہیں اور لکڑی یا لوہے کی سلاخوں سے حملہ کرکے مسافروں کا قیمتی سامان لوٹ لیتے ہیں۔
ممبئی کی لوکل ٹرین۔ تصویر:آئی این این
ممبئی شہر و مضافات اور اطراف کے علاقوں میں لوکل ٹرینوں اور طویل مسافتی ٹرینوں میں دروازے پر سفر کرنے والے افراد ’پھٹکاگینگ‘ کا شکار ہوجاتے ہیں۔ اس گینگ کے ممبرپٹریوں کے اطراف کھمبوں کی آڑے میں یا ریلوے پلوں کے نیچے چھپے ہوتے ہیں اور لکڑی یا لوہے کی سلاخوں سے حملہ کرکے مسافروں کا قیمتی سامان لوٹ لیتے ہیں۔ اب اس گینگ سے نمٹنےکیلئے گورنمنٹ ریلوے پولیس ( جی آر پی ) نے نہ صرف ان کے خلاف سختی سے کارروائی کا سلسلہ شروع کیا ہے بلکہ اس کا خاتمہ کرنے کیلئے سختی حفاظتی انتظامات کے ساتھ ساتھ پٹریوں کے اطراف پولیس گشت کا سلسلہ بھی شروع کر دیا گیا ہے۔
ریلوے پولیس نے خصوصی طور پر مشرقی اور مغربی مضافات کی لوکل ٹرینوں اور اس کے مسافروں کی حفاظت کے پیش نظر پتھر مار کر یا لکڑی اور لوہے کی سلاخوں سے ہاتھوں پر وار کرکے قیمتی موبائل فون ، بیگ اور دیگر قیمتی سامان لوٹنے والوں پر شکنجہ کستے ہوئے ایسے مقامات کی نشاندہی کی ہے جہاں پٹریوںکے اطراف کھمبوں، پلوں کے نیچے یا کم روشنی والے علاقوں میں چھپ کربدمعاش مسافروں کو اپنا نشانہ بناتے ہیں ۔جی آر پی کے بقول مشرقی اور مغربی مضافات میں لوکل ٹرینوں کے مسافروں پر جن مقامات پر حملہ کیا جاتا ہے ، ایسے ۶۰؍ مقامات کی نشاندہی کرنے کے بعد اس علاقے میں سیکوریٹی بڑھانے کے ساتھ ہی پولیس گشت کا سلسلہ بھی شروع کیا گیاہے ۔ یہی نہیں کم روشنی والے علاقوں میں بھی روشنی کا معقول انتظام کیا گیا ہے ۔
ریلوے کے بقول مسافروں کی جان و مال کی حفاظت کے لئے دو شفٹوں میں پولیس اہلکاروں کو تعینات کیا گیاہے اور گشت کا سلسلہ تیز کر دیا گیا ہے ۔ اس کے علاوہ لٹیروں کو رنگے ہاتھوں پکڑنے کیلئے ڈرون کابھی استعمال کیا جارہا ہے ۔ اس کی مدد سےنگرانی رکھنے کا سلسلہ شروع کرنے سے بر وقت پولیس الرٹ ہوجاتی ہے اور مسافر محفوظ رہتے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے:پاکستان نے امریکہ کو ۳۲؍ رن سے شکست دی
جی آر پی کے ایک سینئر افسر نے بتایا کہ پھٹکا گینگ کے نام سے مشہور لٹیرے اکثر پتھر مار کر یا کھمبوں کی آڑ سے ٹرینوں میں سفر کرنے والوں پر لوہے کی سلاخ یا لکڑی سے حملہ کرتے ہیں اور ان کی موبائل فون ، پرس یا دیگر قیمتی سامان لوٹ کر فرار ہوجاتے ہیں ۔اس حملہ میں بعض اوقات مسافر زخمی بھی ہوجاتے ہیں یا کبھی چلتی ٹرین سے گر کر بری طرح زخمی بھی ہوجاتے ہیں ، کبھی ان کی جان بھی چلی جاتی ہے۔
یہ بھی پڑھئے:بچوں میں لت پیدا کرنے کے الزام پر میٹا اور یوٹیوب کیخلاف امریکی عدالت میں مقدمہ
جی آر پی کمشنر ایم راکیش کلاساگر نے بارے میں کہا کہ ’’سیکوریٹی میں اضافہ کرنے ، ڈرون سے نگرانی کرنے اور پولیس گشت بڑھانے سے پتھر مار نے یا لکڑی اور لوہے کی سلاخ سے حملہ کرنے کے واقعات میں کمی آئی ہے ۔اس سے قبل تک سیکوریٹی میں اضافہ نہ کئے جانے ، پولیس گشت نہ بڑھانے اور ڈرون سے نگرانی نہ کرانے سے ہر سال ۸۰؍ سے ۸۵؍ مسافر ’پھٹکا گینگ‘ کا شکار ہوجاتے تھے۔تاہم ایسے معاملات میں کمی کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ گزشتہ سال محض ۱۲؍ مسافر ہی پھٹکا گینگ کا شکار ہو ئے تھے ۔ اب ایسے واقعات پر مکمل طورپرقابو کرنے کیلئے گشت کو مزید بڑھانے کا حکم دیا گیا ہے ۔‘‘