سنجیو سانیا ل کی کتاب پر مبنی اس سیریز میں راس بہاری بوس اور ان کے ساتھیوں کے واقعات پیش کئے گئے ہیں کہ انہوں نے کس طرح جدوجہد کی۔
EPAPER
Updated: September 13, 2026, 11:15 AM IST | Mohammed Habib | Mumbai
سنجیو سانیا ل کی کتاب پر مبنی اس سیریز میں راس بہاری بوس اور ان کے ساتھیوں کے واقعات پیش کئے گئے ہیں کہ انہوں نے کس طرح جدوجہد کی۔
دی ریوولوشنریز
(The Revolutionaries)
اسٹریمنگ ایپ: امیزون پرائم ویڈیوز(۸؍ایپی سوڈ)
اسٹار کاسٹ: بھوون بام، روہت صراف، پرتبھا رانٹا، پرتیک موٹوانی، گرفتح پیرزادہ، کشش سلوجا، ٹوٹا رائے چودھری، جیسن شاہ
ڈائریکٹر: نکھل اڈوانی
رائٹر: سنجیو سانیال، نکھل اڈوانی، پرینکا داس گپتا، سنیوکت چائولہ، اکشتا وادھون، رتوی مہتا
پروڈیوسر: مونیشا اڈوانی، مدھو بھوجوانی، میناکشی شرما
موسیقار: تشار جوشی، شریاس پرانک، آکاش دیپ سین گپتا
سنیماٹوگرافر: گیرک سرکار
ایڈیٹر: ساگر مانک
ریٹنگ:***
آزادی کی داستانیں ہمیشہ سےفلم سازوں کی پسندیدہ رہی ہیں۔ گزشتہ کچھ عرصے سے نکھل اڈوانی بھی اس موضوع کی جانب خاصے متوجہ نظر آ رہے ہیں۔ ’فریڈم ایٹ مڈنائٹ‘ کے بعد ہندوستان کی جنگِ آزادی پر ان کی دوسری ویب سیریز ’دی ریوولوشنریز‘ پیش کی گئی ہے۔ اس میں وہ ان جانبازوں کی کہانی بیان کرتے ہیں جنہوں نےنہ صرف زمینی سطح پر انقلاب کی چنگاری کو زندہ رکھا بلکہ ملک کی خاطر اپنی جانیں بھی قربان کردیں۔ سنجیو سانیال کی بیسٹ سیلر کتاب ’ریوولوشنریز: دی ادر اسٹوری آف ہاؤ انڈیا وون اِٹس فریڈم‘ پر مبنی یہ سیریز آزادی کی اس ان کہی داستان کو سامنے لاتی ہے جو تاریخ کے صفحات میں کہیں پیچھے رہ گئی ہیں۔
کہانی
کہانی ان بے شمار انقلابیوں کی ہےجنہوں نے برطانوی حکومت کے سامنے گھٹنے ٹیکنے کے بجائے بغاوت اور مزاحمت کا راستہ اختیارکیا۔ کہانی کے مرکز میں نوجوان انقلابی راس بہاری بوس (بھون بام)، باگھا جتن (گورفتے پیرزادہ) اور سچندر ناتھ سانیال (روہت صراف) ہیں، جو مختلف علاقوں میں انقلاب کا بگل بجاتے رہے۔
سیریز کاآغازراس بہاری بوس کے گرد گھومتا ہے، جو اپنے ساتھی بسنت کمار بسواس کے ساتھ وائسرائے پر حملے کی منصوبہ بندی کو عملی جامہ پہنانے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس انقلابی حملے کے بعد طاقتور اور ظالم جنرل ڈائر (جیسن شاہ) کا واحد مقصد راس بہاری کو گرفتار کرکے پھانسی پر لٹکانا رہ جاتا ہے۔
دوسری جانب سانیال خاندان خفیہ طور پر انقلابیوں کی مدد کرتا ہے اور اسی خاندان کا بیٹا سچندر انقلابی بننے کا راستہ اختیار کرتا ہے۔ اس سفرمیں اس کی پڑھی لکھی اور خوب صورت منگیتر پرتیبھا (پرتیبھا رانٹا)بھی اس کا ساتھ دیتی ہے۔ دوسری طرف انقلاب کی مشعل روشن رکھنے والا باگھا جتن بھی برطانوی حکومت کے لیے دردِ سر بنا ہوا ہے اور اسے گرفتار کرنے پر ۲۵؍ ہزار روپے کا انعام مقرر کیا گیا ہے۔
بغاوت کا پرچم بلند کیے یہ انقلابی مسلح جدوجہد اور خفیہ نیٹ ورک کے ذریعے ۱۹۱۰ءکے دور میں بغاوت کا اعلان کرتے ہیں اور برطانوی راج کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کا عزم کرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: دی ایسٹ پیلس: کورین تاریخی ڈرامے، ہارر اور ڈارک فینٹسی پر مبنی سیریز
ہدایت کاری
اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ ہدایت کار نکھل اڈوانی نے او ٹی ٹی کی دنیا میں جنگِ آزادی کی ایسی داستان پیش کی ہے جو شجاعت، عظمت اور جذبات سے بھرپور ہے۔ سیریز کے ابتدائی ٹائٹل میں گرافکس اور پس منظر کی موسیقی کا جس طرح استعمال کیا گیا ہے، وہ ناظرین میں آگے کی کہانی دیکھنے کا تجسس پیدا کرتا ہے۔ ابتدائی دو تین اقساط میں راس بہاری بوس اور جنرل ڈائر کے درمیان بلی اور چوہے کا کھیل سنسنی خیز انداز میں پیش کیا گیا ہے۔
سچندر اور پرتیبھا کی محبت کی کہانی سیریز میں ایک نیا پہلو شامل کرتی ہے۔ اگرچہ درمیان کی چند اقساط قدرے سست محسوس ہوتی ہیں، لیکن باگھا جتن کی آمد کے ساتھ ہی کہانی میں ایک بار پھر نیا جوش پیدا ہوجاتا ہے۔ نکھل اڈوانی نے آزادی سے قبل کے ہندوستان کی دنیا تخلیق کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ چھوٹے چھوٹے کرداروں کے ذریعے ہی سہی، اس دور کی بغاوت میں جانوں کی قربانی دینے والے کئی گمنام انقلابیوں کو ان کے نام اور تعارف کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔ لالا ہردیال سنگھ (نیل بھوپالم)کے کردار اور بیرونِ ملک سے ان کی جدوجہد میں شمولیت کو بھی مناسب انداز میں دکھایا گیا ہے، جس سے کہانی کا دائرہ وسیع ہوجاتا ہے۔ برطانوی راج کے خلاف انقلابیوں کی مدد کرنے والے افراد اور خفیہ نیٹ ورک کو بھی مؤثر انداز میں پیش کیا گیا ہے۔
اداکاری
فن کاروں کی اداکاری سیریز کے بہترین پہلوؤں میں سے ایک ہے۔ راس بہاری بوس کے کردار میں بھون بام نے پوری تندہی سے خود کو ڈھالا ہے۔ مرکزی کردار کے طور پر وہ بوس کے وقار اور بہادری کو برقرار رکھتے ہیں۔ وہیں سچندر ناتھ سانیال کے کردار میں روہت صراف بھی اپنی چھاپ چھوڑتے ہیں، جبکہ پرتیبھا لاہڑی کے کردار میں پرتیبھا رانٹا چنچل پن اور جذبات کے امتزاج سے کردار میں گہرائی پیدا کرتی ہیں۔ دیگر نے بھی عمدہ اداکاری کی ہے۔
نتیجہ
ملک کی آزادی اور وطن کیلئےقربانی دینے والوں کی داستانیں ہمیشہ متاثر کرتی ہیں۔ مضبوط اداکاری اور جنگِ آزادی کے ایک نسبتاً کم بیان کیے گئے پہلو کو دیکھنے کے لیے ’دی ریوولوشنریز‘ ایمیزون پرائم ویڈیو پر دیکھی جاسکتی ہے۔