• Wed, 30 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

اولی: برف پوش پہاڑوں، سرسبز چراگاہوں اور دلکش وادیوں کی سرزمین

Updated: September 30, 2026, 1:54 PM IST | Mohammed Habib | Mumbai

یہاں صرف برف باری یا اسکیئنگ ہی نہیں بلکہ قدرتی مناظر، پہاڑی راستوں پر چہل قدمی، ٹریکنگ اور قریبی تاریخی و ثقافتی بستیوں کی سیر بھی دلچسپی کا باعث ہے۔

Tourists can be seen enjoying skiing on the snow. Photo: INN
سیاحوں کو برف پر اسکیئنگ سے لطف اندوز ہوتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔ تصویر: آئی این این

ہمالیہ کے دامن میں آباد اتراکھنڈ کا پہاڑی مقام اولی (Auli) قدرتی حسن، برف پوش چوٹیوں، سرسبز میدانوں اور مہم جوئی کے شوقین سیاحوں کے لیے ایک خاص کشش رکھتا ہے۔ ریاست کے ضلع چمولی میں واقع یہ پہاڑی مقام سطح سمندر سے تقریباً ۲۸۰۰؍ میٹرکی بلندی پر ہے۔ سردیوںمیںیہاں کی ڈھلوانیں برف کی سفید چادر اوڑھ لیتی ہیں، جب کہ گرمیوں میں گھاس کے سبز میدان، دیودار اور بلوط کے جنگلات اور دور تک پھیلی ہمالیائی چوٹیاں اس علاقے کو ایک الگ ہی روپ عطا کرتی ہیں۔ اتراکھنڈ کے سرکاری سیاحتی ادارے کے مطابق اولی ملک کے نمایاں اسکیئنگ مقامات میں شمار ہوتا ہے اور یہاں سے نندا دیوی سمیت کئی بلند پہاڑی چوٹیوں کے نظارے کیے جاسکتے ہیں۔

اسکیئنگ

اولی کی سب سے نمایاں پہچان یہاں کی برف پوش ڈھلوانیں ہیں۔ سردیوں میں جب برف بچھ جاتی ہے تو دور دور سے سیاح اسکیئنگ کے لیے یہاں پہنچتے ہیں۔ پہاڑوں کی ڈھلوانوں پر پھسلتے ہوئے برف پر اسکیئنگ کرنا ایک ایسا تجربہ ہے جس کے لیے اولی ملک بھر میں مشہور ہے۔

یہ بھی پڑھئے:آبنائے ہرمز کھولنے کی تجویز پر امریکہ کے جواب کا انتظار ہے: ایران

یہاں نئے سیکھنے والوں کے لیے اسکیئنگ کی تربیت اور سامان کرائے پرحاصل کرنے کی سہولت دستیاب ہے۔ تاہم ان سہولتوں، تربیتی کورسوں اور ڈھلوانوں کے کھلے ہونے کی صورت حال موسم کے مطابق بدل سکتی ہے۔ پہلی مرتبہ اسکیئنگ کرنے والوں کو تربیت یافتہ انسٹرکٹر کی نگرانی میں ہی اس سرگرمی میں حصہ لینا چاہیے۔ اسکیئنگ کیلئے جنوری سے مارچ تک کا عرصہ موزوں سمجھا جاتا ہے، لیکن برف باری کی مقدار ہر سال یکساں نہیں ہوتی۔

 روپ وے

اولی پہنچنے کا ایک دلچسپ طریقہ جوشی مٹھ سے روپ وے کا سفر ہے۔کیبل کار پہاڑی ڈھلوانوں، جنگلات اور وادیوں کے اوپر سے گزرتی ہے، جہاں سے ہمالیہ کے وسیع مناظر دیکھنے کو ملتے ہیں۔ صاف موسم میں نندا دیوی اور آس پاس کی دوسری بلند چوٹیوں کے نظارے اس سفر کو یادگار بنادیتے ہیں۔اتراکھنڈ کے سیاحتی ادارے کے مطابق جوشی مٹھ اور اولی کے درمیان روپ وے کا راستہ تقریباً ۳ء۹۶؍ کلومیٹر ہے۔ یہ سفر سڑک کے راستے پہاڑوں پر چڑھنے کے مقابلے میں ایک مختلف تجربہ فراہم کرتا ہے۔

گرسوں بگیال

اولی سے تقریباً۳؍کلومیٹر کے فاصلے پر واقع گرسوں بگیال اس علاقے کے قابل ذکرقدرتی مقامات میں شامل ہے۔ مقامی زبان میں بگیال ایسے بلند پہاڑی گھاس کے میدان کو کہا جاتا ہے جہاں موسم کے مطابق سرسبز گھاس اور جنگلی پھول نظر آتے ہیں۔گرمیوں میں یہ میدان سبز مخملی قالین کی طرح دکھائی دیتا ہے، جب کہ سردیوں میں اس کے بڑے حصے پر برف جم جاتی ہے۔ بلوط اور دوسرے پہاڑی درختوں کے درمیان سے گزرتا ٹریکنگ کا راستہ قدرتی مناظر سے لطف اندوز ہونے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ یہاں سےنندا دیوی، تریشول اور درون گری کی چوٹیوں کے نظارے بھی کیے جاسکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے:نوبرا وادی: لیہہ کے پہاڑوں کے درمیان ایک الگ دنیا کا احساس

مصنوعی جھیل

اولی کی مصنوعی جھیل بھی سیاحوں کی توجہ کا مرکز ہے۔ پہاڑی ڈھلوانوں کے درمیان واقع یہ جھیل آس پاس کے قدرتی مناظر کے ساتھ خوب صورت منظر پیش کرتی ہے۔ صاف موسم میں اس کے اطراف کی پہاڑیاں اور آسمان پانی میں عکس بناتے دکھائی دیتے ہیں۔یہ جھیل صرف سیاحتی دلکشی کے لیے نہیں بنائی گئی تھی، بلکہ اس کا تعلق اسکیئنگ کے لیے مصنوعی برف تیار کرنے کے نظام سے بھی ہے۔ جب قدرتی برف باری کم ہو تو مخصوص حالات میں اس پانی کو برف بنانے کے کام میں استعمال کیا جاسکتا ہے۔

چھترکنڈ جھیل

اولی سے تقریباً ۴؍ کلومیٹر کے فاصلے پر واقع چھترکنڈایک چھوٹی سی قدرتی جھیل ہے، جو گھنےجنگلات اور پہاڑی ہریالی کے درمیان واقع ہے۔ یہ گرسوں بگیال سے آگے ٹریکنگ کے راستے پر پڑتی ہے اور ان سیاحوں کے لیے خاص کشش رکھتی ہے جو بھیڑ بھاڑ سے دور فطرت کے قریب وقت گزارنا چاہتے ہیں۔جھیل کے اطراف درختوں، پہاڑی ڈھلوانوں اور خاموش ماحول کا امتزاج اسے قدرتی مناظر کی تصویر کشی کے لیے بھی موزوں بناتا ہے۔ یہاں کا سفر محض ایک جھیل دیکھنے تک محدود نہیں رہتا، بلکہ راستے میں جنگلات اور پہاڑوں کی خوب صورتی سے لطف اندوز ہونے کا موقع بھی ملتا ہے۔

کواری پاس

اولی کے اطراف کا ایک اہم ٹریکنگ راستہ کواری پاس کی جانب جاتاہے۔ یہ راستہ بلند ہمالیائی چوٹیوں، جنگلات، کھلے پہاڑی میدانوں اور دور تک پھیلے قدرتی مناظر کیلئے معروف ہے۔اس راستے سے نندا دیوی اور دیگر بلند چوٹیوں کے نظارے دیکھے جاسکتے ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK