Inquilab Logo Happiest Places to Work

دنیا میں جاری جنگوں کے سبب ۴۷؍ کروڑ سے زائد بچے متاثر: اقوام متحدہ

Updated: March 04, 2026, 9:42 AM IST | New York

اقوام متحدہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ دنیا میں جاری جنگوں کے سبب ۴۷؍ کروڑ ۳۰؍ لاکھ سے زائد بچے متاثر ہوئے ہیں،سینئر اہلکار روزمیری ڈی کارلو کا کہنا ہے کہ بچوں کو تنازعات سے بچانے کا سب سے مؤثر طریقہ جنگوں کو روکنا اور ختم کرنا ہے۔

Photo: X
تصویر: ایکس

اقوام متحدہ کی ایک سینئر اہلکار نے پیر کو خبردار کیا کہ بچوں کو غیر معمولی خطرات کا سامنا ہے کیونکہ دنیا میں دوسری جنگ عظیم کے بعد سے مسلح تصادم کی بلند ترین سطح پر ہے، جس میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں اور اسکولوں پر حملے تیزہو رہے ہیں۔اقوام متحدہ کے سیاسی امور کی سربراہ روزمیری ڈی کارلو نے سلامتی کونسل کو بتایا کہ ’’یہ بحث غیر معمولیحالات  میں ہو رہی ہے۔ آج، ہم دوسری جنگ عظیم کے بعد سے مسلح تصادم کی بلند ترین سطح کا سامنا کر رہے ہیں۔ ان تنازعات میں ہلاک ہونے والے شہریوں کی تعداد کئی دہائیوں میں سب سے زیادہ ہے۔‘‘ یہ اجلاس امریکی خاتون اول میلانیا ٹرمپ کی صدارت میں ہوا۔انہوں نے کہا کہ’’ حقیقت واضح ہے، جب تصادم کا آغاز ہوتا ہے، تو بچے ان میں سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔‘‘ڈی کارلو نے تبصرہ کیا کہ گزشتہ دو دنوں نے بچوں کو لاحق خطرات کو اجاگر کیا ہے، کیونکہ خطے میں جاری فوجی کارروائیوں کی وجہ سے اسرائیل، متحدہ عرب امارات، قطر، بحرین اور عمان کے اسکول بند ہو گئے اور انہوں نے دور دراز سے تعلیم حاصل کرنے کا رخ کیا۔

یہ بھی پڑھئے: پاکستانی صدر زرداری کا دعویٰ: ہندوستان ’ایک اور جنگ‘ کی تیاری کر رہا ہے؛ کشمیر پر مذاکرات کی اپیل

دریں اثناء انہوں نے ایران سے میناب قصبے کے ایک ابتدائی اسکول پر حملے کے بعد درجنوں بچوں کی ہلاکتوں کی رپورٹس کا بھی حوالہ دیا، اور مزید کہا کہ امریکی حکام نے اعلان کیا ہے کہ وہ ان خبروں کی جانچ کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ عالمی سطح پر، ہر پانچ میں سے ایک بچہ، یعنی۴۷؍ کروڑ۳۰؍ لاکھ بچے، کسی تنازعے والے علاقے میں رہ رہا ہے یا وہاں سے فرار ہو رہا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اقوام متحدہ کی طرف سے تصدیق شدہ بچوں کے خلاف سنگین خلاف ورزیوں میں۲۰۲۳ء سے ۲۰۲۴ء کے دوران۲۵؍ فیصد اضافہ ہوا ہے۔ عصمت دری اور جنسی تشدد کی دیگر اقسام میں۳۵؍ فیصد اضافہ ہوا۔
بعد ازاں ڈی کارلو نے کہا کہ ’’پرتشدد تنازعات میں، اسکول، بچوں کو بھرتی، اسمگلنگ اور استحصال سے بچانے والی چند محفوظ جگہوں میں سے ایک ہو سکتے ہیں۔تنازعات والے علاقوں میں تعلیم زندگی بچانے والی اور زندگی کو برقرار رکھنے والی ہے۔‘‘تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ اسکول، اساتذہ اور بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ ’’صرف ۲۰۲۴ء میں، اقوام متحدہ نے اسکولوں اوراسپتالوں پر کل۳۲۷۴؍ حملوں کی تصدیق کی ہے۔ جبکہ متعدد حملوں تک رسائی نہ ہونے کی وجہ سے مزید بہت سی  خبریں غیر مصدقہ ہیں۔‘‘ڈی کارلو نے مزید کہا کہ بحران اور تنازعات کی صورتحال میں۲۳؍ کروڑ۴۰؍ لاکھ بچوں کو اس وقت تعلیمی امداد کی ضرورت ہے، جبکہ۸؍ کروڑ۵۰؍ لاکھ بچے مکمل طور پر اسکول سے باہر ہیں۔

یہ بھی پرھئے : ایران کا دوٹوک اعلان: امریکہ سے مذاکرات نہیں، خطے میں کشیدگی بڑھ گئی

مزید برآں انہوں نے یہ بھی خبردار کیا کہ بڑھتی ہوئی ضروریات کے باوجود ہنگامی صورتحال میں تعلیم کے لیے امداد میں ۲۴؍ فیصد کمی آئی ہے۔انہوں نے رکن ممالک پر زور دیا کہ ’’ٹیکنالوجی کے فراہم کردہ مواقع سے فائدہ اٹھانے کے لیے، ہمیں اس کے خطرات کو کم کرنا ہوگا۔ تنازعات کا شکار بچوں کو آن لائن بڑھتے ہوئے خطرات کا سامنا ہے ،جیسے استحصال، اسمگلنگ، بنیاد پرستی، مسلح گروہوں میں ڈیجیٹل بھرتی، اور سائبر بدمعاشی۔‘‘ساتھ ہی انہوں نے تعلیم میں امداد کے فرق کو ختم کرنے پر زور دیتے ہوئے  کہا کہ ’’بچوں کو تنازعات سے بچانے کا سب سے مؤثر طریقہ جنگوں کو روکنا اور ختم کرنا ہے۔‘‘اپنی طرف سے، میلانیا ٹرمپ نے دلیل دی کہ "امن کا راستہ اس بات پر منحصر ہے کہ ہم تعلیم اور ٹیکنالوجی کے ذریعے اپنے بچوں کو بااختیار بنانے کی ذمہ داری لیں۔‘‘انہوں نے کہا کہ ’’تنازع جہالت سے پیدا ہوتا ہے، لیکن علم تفہیم پیدا کرتا ہے، خوف کی جگہ امن اور اتحاد لاتا ہے۔‘‘ انہوں نے کونسل کے اراکین سے مطالبہ کیا کہ وہ ’’اپنے معاشرے میں تعلیم کا تحفظ کریں اور سب کے لیے اعلیٰ تعلیم تک رسائی کو فروغ دیں۔‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK