امریکہ میں غیر قانونی طور پر ٹرک ڈرائیور کے طور پر مامور ۳۰؍ ہندوستانیوں کو جلد ہی ملک بدر کیا جائے گا، ایک اہلکار کے مطابق یہ آپریشن عوامی تحفظ کو بہتر بنانے کے لیے کیا گیا تھا تاکہ ان افراد کا پتہ لگایا جا سکے،جو عوامی تحفظ کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔
EPAPER
Updated: June 03, 2026, 10:00 AM IST | Washington
امریکہ میں غیر قانونی طور پر ٹرک ڈرائیور کے طور پر مامور ۳۰؍ ہندوستانیوں کو جلد ہی ملک بدر کیا جائے گا، ایک اہلکار کے مطابق یہ آپریشن عوامی تحفظ کو بہتر بنانے کے لیے کیا گیا تھا تاکہ ان افراد کا پتہ لگایا جا سکے،جو عوامی تحفظ کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔
امریکی حکام نے پیر کو بتایا کہ تیس ہندوستانی شہری، جو مبینہ طور پر امریکہ میں غیر قانونی طور پر تجارتی ٹرک ڈرائیور کے طور پر کام کر رہے تھے، ایک وفاقی کارروائی میں گرفتار کیے گئے اور انہیں واپس بھیجے جانے کی توقع ہے۔امریکی کسٹمز اینڈ بارڈر پروٹیکشن کے مطابق، ایریزونا کے یوما سیکٹر کے گشت کرنے والے اہلکاروں نے۱۱؍ سے۱۵؍ مئی کے درمیان ’’آپریشن چیک میٹ‘‘ کے دوران۵۲؍ افراد کو غیر قانونی طور پر ملک میں موجود ہونے پر گرفتار کیا۔گرفتار ہونے والوں میں سے۳۶؍ نیم ٹرک چلا رہے تھے۔ ان میں سے۳۰؍ ہندوستانی شہری تھے، جبکہ باقی چھ میکسیکو، ایل سلواڈور اور روس سے تھے۔
ایجنسی کے مطابق، زیادہ تر کے پاس کیلیفورنیا، نیو یارک، واشنگٹن اور ورجینیا سمیت مختلف ریاستوں کے جاری کردہ تجارتی ڈرائیونگ لائسنس تھے، جبکہ کچھ کے پاس کوئی ڈرائیونگ لائسنس نہیں تھا۔ تاہم بیان میں مزید کہا گیا کہ ’’زیادہ تر افراد کے پاس روزگار اجازت نامے تھے، جو بائیڈن انتظامیہ کے دوران حاصل کیے گئے تھے اور اب ان کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے۔‘‘قائم مقام چیف پیٹرول ایجنٹ ڈسٹن ڈبلیو کاڈل نے کہا کہ یہ آپریشن ان افراد کا پتہ لگا کر عوامی تحفظ بہتر بنانے کے لیے کیا گیا جو عوامی تحفظ کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔ایجنسی نے یہ بھی کہا کہ صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے تحت محکمہ نقل و حمل نے ایک قاعدہ متعارف کرایا تھا جس کا مقصد نااہل غیر ملکی ڈرائیوروں کو تجارتی ٹرک اور بس چلانے کے لائسنس حاصل کرنے سے روکنا تھا۔حالیہ مہینوں میں، متعدد واقعات درج ہوئے ہیں جن میں امریکہ میں ہندوستانی نژاد ٹرک ڈرائیوروں کو تجارتی گاڑیوں کے مہلک حادثات کے سلسلے میں گرفتار کیا گیا اور ان پر مقدمہ چلایا گیا۔یہ گرفتاریاں جنوری۲۰۲۵ء میں شروع ہونے والی ٹرمپ کی دوسری مدت کے دوران وسیع تر امیگریشن کریک ڈاؤن کے تناظر میں بھی ہوئی ہیں۔
واضح رہے کہ امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ ٹرمپ انتظامیہ کے بڑے پیمانے پر واپسی کے پروگرام پر عمل درآمد کر رہی ہے، جو انتخابات سے پہلے ان کی مہم کا ایک بڑا وعدہ تھا۔یہ ایجنسی۱۱؍ ستمبر۲۰۰۱ء کے نیویارک حملوں کے بعد۲۰۰۲ء کے ہوم لینڈ سیکیورٹی ایکٹ کے تحت قائم کی گئی تھی۔ یہ امیگریشن قوانین کا نفاذ کرتی ہے، غیر دستاویزی امیگریشن سے متعلق خلاف ورزیوں کی تحقیقات کرتی ہے اور واپسی کی کارروائیاں انجام دیتی ہے۔
بعد ازاں وزیر مملکت برائے خارجہ امور کرتی وردھن سنگھ نے راجیہ سبھا میں ایک سوال کے تحریری جواب میں بتایا کہ۲۰۲۵ء میں۳۸۰۰؍ سے زیادہ ہندوستانی شہریوں کو امریکہ سے واپس بھیجا گیا۔ محکمہ کے ذریعے کارروائی کی گئی اور اسکرول کے ذریعے تجزیہ کردہ انفارمیشن فریڈم ایکٹ کی درخواست کے جواب میں ایجنسی کی طرف سے فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق،۲۰۲۵ء میں امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ نے۱۹۹۳ء ہندوستانی شہریوں کو گرفتار کیا، جو پچھلے سال گرفتار کیے گئے ۸۲۰؍سے دگنا سے بھی زیادہ ہے۔