Inquilab Logo Happiest Places to Work

ڈونالڈ ٹرمپ کا ایران پر حملوںمیں شدت لانے کا ارادہ ، گفتگو جاری

Updated: July 26, 2026, 9:38 AM IST | Washington

امریکی صدر نے کہا کہ ان کی توجہ فی الحال ایران سے ہونے والے مذاکرت پر ہے، اگر بات نہیں بنی تو حملوں میں شدت لائی جائے گی ۔

Donald Trump.Photo:INN
ڈونالڈ ٹرمپ۔ تصویر:آئی این این
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران پر مزید وسیع حملوں کا جائزہ لے رہے ہیں، جبکہ خطے میں جاری تنازع کا دائرہ وسیع ہو رہا ہے۔ جمعہ کو ٹرمپ نے صبح کے وقت اپنے اعلیٰ مشیروں کے ساتھ ایک اجلاس کیا، جس میں ایران کے خلاف بڑے پیمانے پر فوجی کارروائی شروع کرنے پر بات چیت کی گئی۔تاہم وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے ابھی تک اس حوالے سے کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا ہے۔ٹرمپ نے کہا’’ ہم اس وقت  ایرانی لیڈران سے بات کر رہے ہیں۔ میرا خیال ہے کہ وہ دن بہ دن زیادہ سنجیدگی کا مظاہرہ کر رہے ہیں اور شاید اس کی وجہ واضح ہے۔‘‘
 
 
ان کا اشارہ گزشتہ تقریباً دو ہفتوں سے امریکہ کی جانب سے ایران پر کئے جا رہے روزانہ حملوں کی طرف تھا۔
امریکی صدر نے کہا کہ ایران کے پاس دو راستے ہیں یا تو ایک معاہدہ طے کرے، یا پھر اسے اس سے کہیں زیادہ شدید حملوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔  ہم مکمل طور پر تیار ہیں اور کارروائی کیلئے آمادہ ہیں، لیکن ہم ان سے گفتگو بھی کر رہے ہیں اور دیکھیں گے کہ یہ مذاکرات کیا نتیجہ دیتے ہیں۔اس سے قبل ایران نے اعلان کیا تھا کہ اس نے امریکی حملوں کے جواب میں بحرین، اردن اور کویت میں موجود ان فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے ،جنہیں امریکہ استعمال کرتا ہے۔ تاہم گزشتہ دو ہفتوں میں پہلی بار ایسا ہوا ہے کہ امریکی فوج نے جمعہ اورسنیچر کی درمیانی شب ایران پر کسی حملے کا اعلان نہیں کیا۔
 
 
ادھر ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ ایران کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ کسی بھی ایسے ملک کے خلاف اپنے دفاع کیلئے تمام ضروری اقدامات کرے، جو امریکہ کے ساتھ شریک ہو، تعاون کرے یا اس کی حمایت کرے۔ یاد رہے کہ ۷؍ جولائی کو تہران اور واشنگٹن کے درمیان جنگ دوبارہ شروع ہونے کے بعد سے زیادہ تر جھڑپیں آبنائے ہرمز کے گرد مرکوز رہی ہیں، جو تیل اور گیس کی ترسیل کیلئے ایک اہم بحری راستہ ہے۔تاہم حالیہ دنوں میں یہ تنازع جزیرہ نما عرب کے دوسرے حصے تک پھیل گیا ہے۔ یمن کے حوثیوں نے بحیرہ احمر اور خلیج عدن میں سعودی عرب سے روانہ ہونے والے بحری جہازوں کے خلاف پابندی لگانے کا اعلان کیا ہے۔سعودی عرب دنیا کا سب سے بڑا خام تیل برآمد کرنے والا ملک ہے۔اس کے جواب میں سعودی عرب نے جمعہ کو صوبہ حدیدہ میں حوثیوں کے زیر کنٹرول علاقوں میں موجود اہداف پر حملے کئے۔حوثیوں کو ایران حامی سمجھا جاتا ہے۔ 

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK