Updated: July 26, 2026, 9:19 AM IST
| Sanaa
افواج کے سرکاری ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نےبتایا کہ حملے فوجی اہداف پر کئے گئے،یمن کی تسلیم شدہ حکومت کی حمایت جاری رکھنے کا وعدہ ۔
اتحادی افواج کے سرکاری ترجمان ترکی المالکی- تصویر:آئی این این
یمن میں بین الاقوامی طور پر تسلیم کردہ حکومت کی حمایت کرنے والے فوجی اتحاد نے اعلان کیا ہے کہ اس نے صوبہ الحدیدہ میں حوثی جنگجوؤں کے فوجی ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے۔اتحادی افواج کے سرکاری ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے بتایا کہ تباہ کیے گئے اہداف ان تنصیبات سے متعلق تھے جو بحیرۂ احمر میں تجارتی جہازوں کے لیے خطرہ بن رہی تھیں۔انہوں نے واضح کیا کہ الحدیدہ بندرگاہ کو نشانہ نہیں بنایا گیا اور الحدیدہ سمیت تمام بندرگاہیں سمندری آمدورفت کے لیے کھلی ہیں۔ترجمان کے مطابق حوثی ملیشیا نے بحیرۂ احمر میں تجارتی جہازوں کو نشانہ بنا کر ایک بزدلانہ اور غیر ذمہ دارانہ اقدام کیا ہے، جس سے اس نے بین الاقوامی آبی گزرگاہ میں بحری دہشت گردی اور اپنے جرائم کی فہرست میں ایک اور اضافہ کیا ہے۔ترکی المالکی نے کہا کہ سعودی عرب نے ہمیشہ مشکل حالات میں برادر یمنی عوام اور ان کی حکومت کا ساتھ دیا ہے اور آئندہ بھی حوثی دہشت گرد ملیشیا کا مقابلہ کرنے میں ان کی حمایت جاری رکھے گا۔
حوثیوں نے ٹیلی کمیونی کیشن پر سعودی عرب کے حملوں کو سنگین غلطی قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ الحدیدہ میں ٹیلی کمیونیکیشن کارپوریشن کی تنصیبات پر حملے کا جواب دیا جائے گا۔الجزیرہ کے مطابق یمن کے حوثیوں نے سعودی حملوں کا بدلہ لینے کا عزم کیا ہے۔یمن کے حوثیوںنے کہا کہ سعودی عرب نے شہری تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے۔یمن میں سعودی قیادت والے اتحاد کے مطابق سعودی عرب نے جمعہ کے روز یمن کے حوثیوں کے زیر قبضہ بندرگاہی شہر الحدیدہ پر حملے کیے۔ یہ کارروائی بحیرۂ احمر میں حوثی گروپ کی جانب سے سعودی تیل بردار جہازوں کو نشانہ بنانے کے جواب میں کی گئی، جسے سمندری ناکہ بندی کا حصہ قرار دیا گیا ہے۔حوثیوں کے انصاراللہ میڈیا نے ٹیلی گرام پر جاری بیان میں کہا کہ الحدیدہ اور جزیرہ کمران میں شہری تنصیبات کو نشانہ بنانا سعودی دشمن کی جانب سے ایک خطرناک کشیدگی ہے۔ حوثیو ںکا کہنا ہے کہ یمن کا محاصرہ ختم کرنے کے جائز مطالبے کو تسلیم کرنے کی بجائے حملے سعودی حکومت کی بڑی غلطی ہے، جس کی اسے بھاری قیمت چکانی پڑے گی۔واضح ہوکہ سعودی عرب نے یمن کے حوثیوں کے زیرِ کنٹرول مغربی شہر الحدیدہ میں ٹیلی کمیو نی کیشن کارپوریشن کی تنصیبات اور کمران جزیرے پر فضائی حملے کیے ہیں۔ترجمان سعودی رائل فورسز ترکی المالکی نے ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ سعودی عرب نے یہ کارروائی حوثی ملیشیا کے سعودی عرب کے خلاف بحری ناکہ بندی اور بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکر کو نشانہ بنانے پر کی گئی ہے۔
حوثی ٹی وی المسیرہ نے بھی الحدیدہ پر سعودی فضائی حملوں کی تصدیق کی ہے۔
حوثیوں کی وزارتِ خارجہ کے مطابق سعودی عرب نے یمن کے حوثیوں کے زیرِ کنٹرول شہر الحدیدہ پر فضائی حملے کیے۔الحدیدہ کی بندرگاہ حوثیوں کے زیرِ کنٹرول یمن کے علاقوں کے لیے ایک نہایت اہم رسد گاہ ہے۔ اس بندرگاہ کے ذریعے شمالی یمن میںجو حوثیوں کے کنٹرول میں ہے، تجارتی سامان اور انسانی امداد کا زیادہ تر حصہ پہنچایا جاتا ہے۔یمن میں سعودی قیادت والے اتحاد کے سرکاری ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے کشیدگی کا ذمہ دار حوثیوں کو قرار دیتے ہوئے بحیرۂ احمر میں جہاز رانی پر ان کے حملوں کو بزدلانہ اور غیر ذمہ دارانہ قرار دیا۔ المالکی نے کہا کہ اگر حوثی اپنی دشمنانہ کارروائیاں جاری رکھتے ہیں تو ان کا جواب بلا جھجک دیا جائے گا۔
جوابی کارروائی میں حوثیوںکا آرامکو ریفائنری پر حملہ کرنےکا دعوی
مغربی ایشیا میں جنگ اب ایران سے نکل کر دوسرے ممالک تک پھیلنے لگی ہے۔ سعودی عرب کی جانب سے یمن کے حوثی کنٹرول والے الحدیدہ پر کیے گئے فضائی حملوں کے چند ہی گھنٹوں بعد حوثی باغیوں نے جوابی حملہ کر دیا۔ حوثیوں نے سعودی عرب کے جیزان علاقے کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا۔ رپورٹس کے مطابق حملے میں سعودی آرامکو کی جیزان ریفائنری اور صنعتی علاقے کو نشانہ بنایا گیا۔تاہم آرامکو پر حملے کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔ ایران کے پریس ٹی وی کے مطابق میزائل حملوں کے بعد جیزان انڈسٹریل سٹی کے کئی حصوں میں بجلی کی فراہمی متاثر ہو گئی۔ تاہم سعودی عرب کی جانب سے اس نقصان پر فوری طور پر کوئی سرکاری بیان سامنے نہیں آیا۔سعودی سول ڈیفنس کا کہنا ہے کہ جازان اور ینبع میں خطرہ ٹل گیا ہے۔سعودی سول ڈیفنس کا کہنا ہے کہ شہری اپنی حفاظت کے لیے ہدایات پر عمل جاری رکھیں۔سعودی سول ڈیفنس کے مطابق کچھ دیر بعد ہی دونوں علاقوں میں خطرہ ٹلنے کا اعلان کر دیا گیا تھا۔