مہاراشٹر ماڈل :ٹی ایم سی کے ۵۸؍ باغی اراکین اسمبلی نے الگ گروپ بناکر رتبرت بنرجی کو اپنا لیڈر منتخب کرلیا ، اسپیکرنے فوری طور پر گروپ کو اصل پارٹی تسلیم کرکے اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کا چیمبر الاٹ کردیا، ممتا کے ساتھ صرف ۲۲؍ اراکین
EPAPER
Updated: June 03, 2026, 11:59 PM IST | Kolkata
مہاراشٹر ماڈل :ٹی ایم سی کے ۵۸؍ باغی اراکین اسمبلی نے الگ گروپ بناکر رتبرت بنرجی کو اپنا لیڈر منتخب کرلیا ، اسپیکرنے فوری طور پر گروپ کو اصل پارٹی تسلیم کرکے اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کا چیمبر الاٹ کردیا، ممتا کے ساتھ صرف ۲۲؍ اراکین
مغربی بنگال میں بھی وہی فارمولا دہرایا جارہا ہے جو ۲۰۲۲ء میں مہاراشٹر میں اپنایا گیا تھا ۔ یعنی اصل پارٹی میں پھوٹ ڈال کر وہاں سے باغی گروپ نکالا جائے اور اسے ہی اصل پارٹی تسلیم کرلیا جائے۔ بی جے پی نے مہاراشٹر میں الیکشن کمیشن کی مدد سےجو شیو سینا اور پھر این سی پی کے ساتھ کیا اب وہی کچھ مغربی بنگال میں بھی دہرایا جارہا ہے۔ یہاں ٹی ایم سی میں پھوٹ بالکل واضح ہو گئی ہے۔ پارٹی سے نکالے گئے رکن اسمبلی رتبرت بنرجی کو ۵۸؍ باغی اراکین اسمبلی نے قانون ساز پارٹی کا لیڈر منتخب کرلیا ہے اور ان کی حمایت میں اسمبلی اسپیکر رتیندر بوس کو ایک خط بھی سونپا ہے۔
ہندی نیوز پورٹل ’دینک بھاسکر‘ کے مطابق رتبرت بنرجی، سندیپن ساہا اور دیگر باغی اراکین اسمبلی نے اسپیکر سے ملاقات کی اور ۵۸؍ اراکین اسمبلی کے دستخطوں پرمشتمل خط جمع کرایا۔جس کے بعد اسپیکر نے غور کرنے کا وقت لئے بغیر یا ممتا کو اس معاملے میںنوٹس دئیے بغیر ہی اس گروپ کو اصل پارٹی تسلیم کرتے ہوئے رتبرت بنرجی کو اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کا چیمبر الاٹ کردیا۔ مہاراشٹر کا فارمولا یہیں تک محدود نہیں رہا ۔ ٹی ایم سی کا باغی گروپ بھی شیو سینا اور این سی پی کے باغی گروپس کی طرح ہی اپنی پارٹی کے بنیاد گزار لیڈر کو ہی اپنا لیڈر قرار دے رہا ہے۔جس طرح شندے سینا نے بالا صاحب ٹھاکرے کو اور اجیت پوار نے شرد پوار کو اپنا لیڈر قرار دیا تھا اسی طرح رتبرت بنرجی کا گروپ بھی ممتا بنرجی کو پارٹی کا صدر قرار دے رہا ہے لیکن اس کا تناز ع ابھیشیک بنرجی کی قیادت سے ہے۔ واضح رہے کہ بنگال میں ٹی ایم سی کے ۸۰؍ اراکین اسمبلی منتخب ہوئے ہیں۔ نئے گروپ کو منظوری کیلئے ۲؍ تہائی یعنی ۵۴؍اراکین اسمبلی کی ضرورت تھی اور اس گروپ نے ۵۸؍ کی حمایت حاصل کرلی ۔باغی گروپ نے رتبرت بنرجی کو قانون ساز پارٹی کا لیڈر، جاوید خان، سندیپن ساہا اور سیولی ساہا کو ڈپٹی لیڈر بنایا ہے جبکہ آصف الزماں کو چیف وہپ بنایا گیا ہے۔اس پوری کارروائی کے بعد رتبرت بنرجی نے پریس کانفرنس بھی کی اور اس میں اپنی شکایتیں پیش کیں اور کہا کہ وہ ممتا بنرجی کے ساتھ ہیںلیکن ایوان میں وہ بی جے پی حکومت کے اچھے فیصلوں کی حمایت کریں گے ۔ساتھ ہی انہوں نے وزیر اعلیٰ سویندو ادھیکاری کا شکریہ بھی ادا کیا۔
دریں اثناءٹی ایم سی پر قبضہ کے ۳؍ طریقہ ماہرین بتارہے ہیں۔ پہلا یہ کہ ۲؍ تہائی اراکین اسمبلی بی جے پی میں شامل ہوجائیں۔ ٹی ایم سی کے کل ۸۰؍ اراکین اسمبلی میں سے ۲؍ تہائی (۵۴؍اراکین اسمبلی) بی جے پی میں شامل ہونے کا فیصلہ کریں۔ ایسے میں دَل بدلی کا قانون نافذ نہیں ہوگا۔ حالانکہ بی جے پی نے اس سے انکار کر دیا ہے۔ دوسرا یہ کہ ٹی ایم سی ۲؍گروپوں میں تقسیم ہو جائے۔ ایک گروپ پارٹی سے الگ ہو کر ٹی ایم سی ہونے کا دعویٰ کرے۔ اس لئے بھی ۵۴؍ارکین اسمبلی کی ضرورت ہوگی۔ اس دعوے پر الیکشن کمیشن فیصلہ کریگا۔حالانکہ اس کیلئے ۲؍ تہائی یعنی ۲۸؍ میں سے ۱۹؍اراکین پارلیمنٹ کی بھی ضرورت ہوگی۔ تیسرا یہ کہ نیا گروپ الگ ہو کر اپنی نئی پارٹی بنا سکتا ہے۔ اس کیلئے بھی ۵۴؍ اراکین اسمبلی کی ضرورت ہو گی