مغربی بنگال آج بھی سرخیوں میں ہے۔ کوئی دن نہیں جاتا جب اس ریاست کی ایک یا زیادہ خبریں اخبارات اور نیوز چینلوں پر اپنی وجودگی کا احساس نہ دلاتی ہوں۔ ایسے میں یہ سوچنا پڑتا ہے کہ کیا یہ ریاست ۴؍ مئی تک ٹھیک تھی اور ۴؍ مئی کے بعد اس میں اچانک مسائل پیدا ہوگئے؟
ممتا بنرجی ۔ تصویر:آئی این این
مغربی بنگال آج بھی سرخیوں میں ہے۔ کوئی دن نہیں جاتا جب اس ریاست کی ایک یا زیادہ خبریں اخبارات اور نیوز چینلوں پر اپنی موجودگی کا احساس نہ دلاتی ہوں۔ ایسے میں یہ سوچنا پڑتا ہے کہ کیا یہ ریاست ۴؍ مئی تک ٹھیک تھی اور ۴؍ مئی کے بعد اس میں اچانک مسائل پیدا ہوگئے؟ اس کی جو وجہ زور و شور سے بیان کی جارہی ہے، یہ ہے کہ بنگال میں ٹی ایم سی کے خلاف اتنا غصہ ہے کہ جہاں بھی اس پارٹی کے لوگ جاتے ہیں، عوام کا جھنڈ اُنہیں دبوچنے کیلئے نمودار ہو جاتا ہے اور ان پر پِل پڑتا ہے۔ یہ وجہ اس لئے ہضم نہیں ہوتی کہ اگر واقعی عوام ٹی ایم سی سے ناراض تھے تو پارٹی کو شکست سے دوچار کرنے کے بعد ان کا غصہ ٹھنڈا ہو جانا چاہئے تھا۔ ٹی ایم سی کو معمولی شکست نہیں ہوئی ہے۔ اگر عوام کا غصہ شدید تھا تو ٹی ایم سی کو لگنے والی چوٹ بھی گہری ہے۔ اس طرح حساب برابر یا بیباق ہوجانے کے بعد کون سا غصہ رہ گیا تھا جو آئے دن کے سانحات کی شکل میں ابل رہا ہے؟ یہ بات سمجھ میں نہیں آتی۔ کوئی اپنے دلائل سے سمجھا دے گا اس کا امکان بھی نظر نہیں آتا۔
غور طلب یہ ہے کہ جو ’’مڈبھیڑیں‘‘ ہورہی ہیں وہ عام کارکنان کی نہیں ہیں یا کم ہیں۔ پارٹی لیڈروں کو گھیر کر انہیں دھکا دینا یا ان پر پتھر یا انڈے برسانا یا ان کے خلاف جم کر نعرے لگانا، یہی سب زیادہ ہو رہا ہے۔ ممتا بنرجی نے کاؤنٹنگ کے دن شکایت کی تھی کہ انہیں روکا گیا اور ان کے ساتھ دھکا مکی کی گئی۔ ابھیشیک بنرجی، پارٹی کے ایک کارکن کی موت کے بعد اس کے پسماندگان سے ملاقات کیلئے گئے تھے تب ان پر بھی حملہ کیا گیا۔ سینئر لیڈر کلیان بنرجی کے ساتھ بھی مبینہ طور پر دھکا مکی ہوئی۔ مہوا موئترا پارٹی آفس گئی تھیں تب ان کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ انہوں نے ماب کی تصویریں فیس بک پر لائیو دکھائی تھیں۔ چند روز پہلے پارٹی کے ترجمان نیلانجن داس کو گھیر لیا گیا اور ان کے ساتھ بھی مار پیٹ جیسے حالات پیدا ہوئے۔ ایک ویڈیو میں انہوں نے تو یہاں تک کہا کہ انہیں ہجومی تشدد میں مار دینے جیسے حالات تھے۔
عام طور پر پارٹی کارکنان میں بھڑنت ہوتی ہے۔ یہ پہلا موقع ہے جب پارٹی کے سینئر لیڈروں کے ساتھ، جو اہم عہدوں پر فائز ہیں اور رہے ہیں، اس قسم کی بدسلوکی اور مار پیٹ ہورہی ہے۔ وہ غصہ، جو بیلٹ کے ذریعہ نکل چکا ہے، رہ رہ کر نئے سرے سے کیوں نکل رہا ہے وہ بھی کچھ اس طرح جیسے ’’ناراض عوام‘‘ گھات لگا کر بیٹھتے ہیں اور جیسے ہی کوئی ایسا لیڈر سامنے سے آتا ہوا دکھائی دیتا ہے جو اب بھی ممتا کے ساتھ ہے، اس پر یلغار کر دی جاتی ہے۔ اس سے تو یہی تاثر ملتا ہے کہ بنگال کے عوام کام دھندہ چھوڑ کر اسی کام پر لگے ہوئے ہیں۔ کیا ایسا ہو سکتا ہے؟ اگر نہیں ہو سکتا ہے تو اس کا معنی یہ ہے کہ ’’عوام ناراضگی نکال رہے ہیں‘‘کی تھیوری بالکل غلط ہے، یہ حملے منصوبہ بند ہیں اور ان کے پس پشت وہ سیاسی سازش ہے جو ممتا کے بچے کھچے ساتھیوں کو بھی یا تو اپنے ساتھ لینے کیلئے رچی گئی ہے یا انہیں خوفزدہ کرکے گھر بٹھا نے کیلئے۔ ممتا کے مخالفین بھی مانتے ہیں کہ وہ لڑنا جانتی ہیں۔ اس بار ایسا لگتا ہے کہ صحت اُن کے ساتھ نہیں ہے مگر ایک بات صاف ہے کہ جو کچھ بھی ہورہا ہے اُسے بنگال معاف نہیں کریگا۔ حکمراں جماعت اس کا ڈی این اے نہیں بدل سکتی۔