اسلام ہمہ جہت تعمیری وانقلابی نظامِ تعلیم کا خواہاں ہے

Updated: November 18, 2022, 1:36 PM IST | Syed Azizur Rehman | Mumbai

تدریس و تحصیل علم کی سرگرمیوں کے جلو میں صحتمند فکر اور صحتمند معاشرہ ہی پروان نہیں چڑھتا بلکہ علم ہمہ نوع وہمہ جہت مثبت وتعمیری تبدیلیوں کا سبب وذریعہ بنتا ہے۔ نظام تعلیم کے بنیادی خدوخال پیش کرنا ایک طویل مقالے کا موضوع ہے تاہم ذیل میں اختصار کے ساتھ اس کے چند اہم نکات پیش کئے جارہے ہیں:

Children are the future of any nation, managing their education is actually shaping their own future.Picture:INN
بچے کسی بھی قوم کا مستقبل ہوتے ہیں۔ ان کی تعلیم کا انتظام کرنا درحقیقت خود اپنے مستقبل کو سنوارنا ہے۔ ۔ تصویر:آئی این این

اسلا م میں تعلیم لازمی ہے۔ تعلیم کی ہمہ جہت اہمیت کے پیش نظر اختیاری تعلیم کا اسلام کے ہاں کوئی تصور نہیں۔ تعلیم ہر ایک کے لئے ہے اور لازمی ہے۔ خواندگی ایسی چیز نہیں ہے جسے عوام کی مرضی پر چھوڑا جا سکے کیونکہ ناخواندہ افراد تو علم رکھتے ہی نہیں، ان سے یہ توقع کیسے کی جا سکتی ہے کہ وہ سب علم کی اہمیت کا ادراک رکھتے ہوں گے۔ یہ فریضہ تو حکومت کا ہے کہ وہ ان کے سامنے تعلیم کی اہمیت کو اُجاگر کرے اور انہیں حصول علم پر آمادہ کرے۔ خصوصاً کسی اسلامی معاشرہ میں ناخواندہ افراد قطعاً قابل قبول نہیں ہو سکتے۔ اس لئے آپؐ نے فرمایا کہ ’’علم کا حصول ہر ایک پر فرض ہے۔‘‘  آپؐ کے عہد مبارک میں ہر نومسلم کے لئے مختلف علوم کا جاننا ضروری تھاجس کے لئے مختلف افراد اور تعلیمی ادارے سرگرم تھے۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے خاص طور پر خانہ بدوش بدوؤں کے لئے قرآن مجید کی تعلیم کا نظام قائم کیا تھا اور اس کے لئے گشتی ٹیمیں مقرر کی تھیں   نیز ایسے گشتی تعلیمی دستے مقرر تھے، جو لوگوں کی تعلیمی صلاحیت کا جائزہ لیتے تھے اور ضرورت کے مطابق ایسے افراد کو اساتذہ کے سپرد کرتے تھے۔
 مفت تعلیم: 
اسلام مفت تعلیم کا قائل ہے۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں تعلیم مفت تھی۔ آپؐ نے ہر مسلمان عالم پر یہ ذمہ داری عائد کی ہے کہ وہ دوسروں تک علم پہنچائے۔  اس لئے کتمانِ علم پر شدید وعید بیان فرمائی ہے۔ آپؐ نے فرمایا: ’’جس سے علم کے متعلق کوئی سوال ہوا اور اس نے چھپایا تو اللہ تعالیٰ اسے روزِ قیامت آگ کی لگام پہنائے گا۔‘‘   بعد کے دور میں بھی تعلیم مفت رہی۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے دور خلافت میں نومسلموں کی تعلیم وتربیت کے لئے مختلف مکاتب قائم کئے جن کے معلمین کی تنخواہیں بیت المال سے ادا کی جاتی تھیں۔ اس دور میں سرکاری انتظام میں قرآن کریم کے علاوہ حدیث، فقہ،   ادب عربی، سیرت و غزوات، علم الانساب اور کتابت وغیرہ کی تعلیم مفت ہوتی تھی اور قرآن کریم کی تعلیم پانے والے طلبہ کے لئے وظائف کا بھی انتظام تھا۔  حکومتی اہتمام کے علاوہ نجی طور پر اساتذہ بھی تنخواہ لینے سے گریز کرتے تھے اور عام طور پر معاوضے قبول نہیں کرتے تھے۔ حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ نے یزید بن ابی مالک اور حارث بن ابی محمد اشعری کو سفری معلّم مقرر کر کے ان کی تنخواہ مقرر کی تھی۔ یزید نے تنخواہ قبول کر لی، حارث نے نہ کی۔ حضرت عمرؒ نے فرمایا کہ یزید نے جو کچھ کیا، اس میں کوئی خرابی نہیں، البتہ اللہ تعالیٰ حارث جیسے افراد کثرت سے پیدا کرے۔
    بچوں کی تعلیم:
بچے کسی بھی قوم کا مستقبل ہوتے ہیں۔ ان کی تعلیم کا انتظام کرنا درحقیقت خود اپنے مستقبل کو سنوارنا ہے۔ حضرت عروہ بن زبیرؓ کا قول ہے: ’’تم علم حاصل کرو۔ اگر تم قوم میں سب سے چھوٹے ہو تو کل دوسرے لوگوں میں (علم کی وجہ سے) تم بزرگ بن جاؤ گے۔‘‘  اس لئے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی بھی بڑی تلقین فرمائی ہے۔ نیز بچپن میں حافظہ قوی ہوتا ہے۔ حضرت حسن بصریؒ کا قول ہے: ’’بچپن میں تعلیم حاصل کرنا ایسا ہے جیسے پتھر پر نقش اور بڑھاپے میں تعلیم حاصل کرنا ایسا ہے جیسے نقش بر آب۔‘‘  آپؐ نے والدین کو بچوں کی تعلیم کی تلقین کرتے ہوئے فرمایا: ’’کوئی والد اپنے بچے کو اس سے بہتر عطیہ نہیں دے سکتا کہ وہ اس کو اچھی تعلیم دے۔‘‘    مزید فرمایا: ’’آدمی کا اپنے بیٹے کو ادب سکھانا ایک صاع صدقہ کرنے سے بہتر ہے۔‘‘
   معذوروں کی تعلیم: 
اسلام کی نظر میں کسی قسم کی کمی یا کمزوری کسی کے فرائض کی راہ میں حائل نہیں ہو سکتی۔ ہاں، کسی پر بھی اس کی استطاعت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالا جائے گا۔ تعلیم کے معاملے میں بھی اسلام کا یہ اختصاص وامتیاز ہے کہ اس نے جسمانی کمزوریوں کو حسن عمل وجہد مسلسل کی دولت سے چھپا دیا اور معذوروں سے وہ کارہائے نمایاں لئے کہ صحت مند افراد رشک کر اٹھے۔ اس کی سب سے اہم مثال حضرت عبد اللہ ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کی ہے، جنہیں یہ فخر وشرف حاصل ہے کہ آپؐ نے انہیں اپنی غیر موجودگی میں مدینہ منورہ جیسی اسلامی ریاست کے لئے اپنا قائم مقام مقرر کیا اور انہیں یہ شرف دس بار حاصل ہوا۔   ایک نابینا صحابی اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نیابت کا فریضہ، تعلیم و تربیت میں اعلیٰ مدارج طے کیے بغیر یہ مرتبہ کیسے حاصل ہو سکتا ہے؟ اسلام میں معذوروں کی قدر و منزلت کا یہ سلسلہ بعد میں بھی جاری رہا جس کا بڑا ثبوت یہ ہے کہ ہردور میں اور ہر فن میں بڑے بڑے جلیل القدر نابینا علما گزرے ہیں۔ آج بھی معذوروں اور عام جسمانی صلاحیتوں سے محروم افراد کی تعلیم کا خاص اہتمام ناگزیر ہے۔
  خواتین کی تعلیم:
خواتین کے لئے ایسا انتظام ضروری ہے کہ جس کے تحت وہ اپنی بنیادی ضروریات کی تعلیم، خواہ وہ دینی ہو یا دُنیاوی، بسہولت حاصل کر سکیں اور ان کی راہ میں کوئی رکاوٹ نہ ہو۔ خواتین کی تعلیم کا سلسلہ خالص اسلامی ماحول میں اسلامی تعلیمات کی ادنیٰ مخالفت اور ان سے معمولی رُو گردانی کے بغیر جاری رہے۔ حضور پاکؐ نے انہی مقاصد کے پیش نظر خواتین کی تعلیم کیلئے علاحدہ دن اور الگ مقام متعین فرمایا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دور میں اس سلسلے کو مزید وسعت حاصل ہوئی اور خواتین کے باقاعدہ الگ مدرسے قائم ہوئے۔  ان کے دور میں خواتین کی بھی لازمی تعلیم رائج ہو گئی تھی۔اسلام میں مخلوط تعلیم کی ممانعت ہے۔ یہ امر اس کا متقاضی ہے کہ صرف جامعات کی سطح پر نہیں بلکہ پرائمری کے بعد ہر درجے اور مرحلے میں طلباء  کے ادارے الگ اور طالبات کے ادارے الگ ہونے چاہئیں جن میں صرف طلباء وطالبات ہی الگ الگ نہ ہوں، اساتذہ بھی علی الترتیب مرد اور خواتین ہوں۔ 
 تعلیمِ بالغاں:
تعلیم بالغاں کی اہمیت مسلّم ہے۔ بڑی عمر کے بہت سے افراد محض اس لئے حصولِ علوم سے محروم رہ جاتے ہیں کہ بچپن میں کسی مجبوری کے سبب وہ تعلیم حاصل نہ کرسکے۔ اسلام میں تعلیم کے لئے کوئی وقت مقرر نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ صحابہ کرامؓ میں ایسے صحابہ بڑی تعداد میں نظر آتے ہیں، جنہوں نے نہ صرف بڑی عمر میں علم حاصل کیا بلکہ مرتبۂ کمال کو پہنچے۔ یہ سلسلہ بعد کے زمانے میں بھی جاری رہا بلکہ قرآن کریم کو بڑی عمر میں حفظ کرنے کا سلسلہ تو آج بھی جاری ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا قول ہے: ’’تم لوگ سردار بنائے جانے سے قبل علم حاصل کرو۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ نے تو بڑی عمر میں علم حاصل کیا ہے۔‘‘   اس لئے ہمارے ہاں بھی تعلیم بالغاں کے حلقے قائم ہونے چاہئیں جہاں بڑی عمر کے ناخواندہ افراد دینی معلومات اور دنیاوی ضروریات کا علم اپنی ضرورت کے مطابق بہ سہولت حاصل کر سکیں۔
   تخصّصات: 
عام تعلیم کے ساتھ ساتھ اعلیٰ تعلیم اور خاص موضوعات پر تخصّصات کی اہمیت بھی مسلّم ہے۔ خود قرآن حکیم نے اس کی اہمیت کی جانب توجہ دلائی ہے لہٰذا ایک جگہ فرمایا:
’’سوکیوں نہ نکلے ان کے ہرگروہ میں سے کچھ لوگ تاکہ دین کی سمجھ پیدا کریں۔‘‘
 (التوبہ: ۱۲۲) اس آیت میں تخصص فی الفقہ کی اہمیت بیان ہوئی ہے۔ ایک اور مقام پر امر بالمعروف و نہی عن المنکر کے فریضے کی ادائیگی کے لئے متخصّصین کی تیاری کی تاکید ہے۔ فرمایا: ’’تم میں سے ایک گروہ ایسا ہونا چاہیے جو لوگوں کو خیر کی طرف بلائے، نیکی کی دعوت دے اور برائی سے روکے۔‘‘  (آل عمران :۱۰۴) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زیر تربیت بہت سے صحابہ کرامؓ نے مختلف مضامین میں تخصص و امتیاز حاصل کر لیا تھا، جن میں سے بعض خوش نصیب ایسے تھے، جنہیں اس اختصاص کی سند خود زبانِ نبوت سے ملی۔ مثال کے طور پر حضرت ابیؓ بن کعب کو قرأ ت وتجوید میں اختصاص حاصل تھا۔ آپؐ نے ان کے بارے میں فرمایا کہ سب سے بڑے قاری ابی بن کعب ہیں۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کو قضاۃ میں امتیاز حاصل تھا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا قول ہے کہ ہمارے سب سے بڑے قاضی حضرت علیؓ اور سب سے بڑے قاری ابیؓ ہیں۔  اسی طرح  علوم قرآنی میں حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ امتیاز کے حامل تھے۔ عکرمہ فرماتے ہیں کہ ابن عباسؓ صحابہ میں سب سے زیادہ علمِ قرآن رکھتے تھے، اور علم تفسیر و فقہ میں ابن مسعودؓ کو شہرت ملی۔ خود آپؐ نے یہ فرما کر انہیں سند عطا کی کہ تم تعلیم یافتہ لڑکے ہو۔ علم الفرائض میں زید بن ثابت ؓممتاز ہوئے۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا قول مبارک ہے کہ ’’میری امت میں علم فرائض سب سے زیادہ زید بن ثابت جانتا ہے۔‘‘  اور حلال وحرام کے علم میں معاذ بن جبلؓ درجۂ امتیاز کے حامل تھے۔ آپؐ نے فرمایا: میری امت میں حلال و حرام کا سب سے زیادہ علم رکھنے والا شخص معاذ بن جبلؓ ہے۔‘‘ عصر حاضر میں بھی ہمیں ان خصوصیات کو زندہ رکھتے ہوئے آج کی ضرورت کے مطابق مختلف علوم وفنون کے ماہر تیار کرنے  ہوں گے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK