• Sun, 08 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

قاری نامہ: غازی آباد میں جو کچھ ہوا، والدین، سرپرست اور سماج کی ذمہ داریاں؟

Updated: February 08, 2026, 1:06 PM IST | Inquilab Desk | Mumbai

گزشتہ دنوں غازی آبادی میں تین بہنوں نے ایک ساتھ خود کشی کر لی۔اس خود کشی کی کئی وجوہات بتائی جاتی ہیں۔ اول یہ کہ تینوں کو ’ویڈیو گیم‘ کی لت تھی اور انہیں ایک ٹاسک کے طور پر خود کشی کیلئے اُکسایا گیا تھا۔ دوسری وجہ یہ کہ کورین کلچر کے ویڈیوز دیکھ کر وہ اس قدر متاثر تھیں کہ اس کے بغیر وہ زندہ نہیں رہ سکتی تھیں اور تیسری وجہ یہ بتائی جارہی ہے کہ والدین نے ان کے موبائل بند کروادیئے تھے جسے وہ برداشت نہیں کرپائیں۔ ہم نے اپنے قارئین سے اسی مسئلے کا حل جاننے کی کوشش کی ہے۔

Mobile usage is increasing in India. Photo: INN
ہندوستان میں موبائل کا استعمال ضرورت سے کہیں زیادہ ہورہا ہے۔ تصویر: آئی این این

بچوں کی ذہنی کیفیت کو نظر انداز نہیں کیا جانا چاہئے

ایک انتہائی افسوسناک واقعہ ہے، اور ایسے معاملات میں کسی ایک وجہ کو حتمی طور پر ذمہ دار ٹھہرانا درست نہیں ہوتا۔ عام طور پر اس طرح کے واقعات کئی وجوہات مل کر پیش آتے ہیں۔ غازی آباد کے واقعے کے بارے میں جو باتیں سامنے آئی ہیں، ان کی روشنی میں ممکنہ وجوہات یہ ہو سکتی ہیں:

غازی آباد میں پیش آنے والا واقعہ اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ ڈیجیٹل دور میں بچوں کی ذہنی کیفیت کو نظر انداز کرنا کس قدر خطرناک نتائج پیدا کر سکتا ہے۔ والدین کی سب سے بڑی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ بچوں کے ساتھ محض نگراں نہیں بلکہ دوست بن کر رہیں۔ ایسا ماحول فراہم کریں جہاں بچہ خوف یا جھجھک کے بغیر اپنی بات کہہ سکے۔ موبائل فون یا انٹرنیٹ پر اچانک پابندی لگانا مسئلے کا حل نہیں، بلکہ اس سے بچوں میں ضد، تنہائی اور ذہنی دباؤ بڑھ جاتا ہے۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ والدین بچوں کے اسکرین ٹائم کے لیے واضح اور متوازن اصول بنائیں، خود بھی ان اصولوں کی پابندی کریں اور بچوں کو حقیقی زندگی کی سرگرمیوں جیسے کھیل، مطالعہ، گفتگو اور خاندانی وقت کی طرف راغب کریں۔ بچوں کے دوستوں کو جاننا، انہیں گھر بلانا اور ان کے حلقۂ احباب پر نظر رکھنا بھی بے حد ضروری ہے۔

اساتذہ اور تعلیمی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ بچوں کی محض تعلیمی کارکردگی ہی نہیں بلکہ ذہنی صحت پر بھی توجہ دیں۔ اسکولوں میں ڈیجیٹل لٹریسی، میڈیا اویئرنیس، آن لائن خطرات اور مینٹل ہیلتھ سے متعلق باقاعدہ سیشنز منعقد کیے جائیں۔ ساتھ ہی بچوں کو مختلف عملی مہارتیں سکھائی جائیں تاکہ وہ مثبت اور تعمیری سرگرمیوں میں مصروف رہیں۔

سماج کے ذمہ دار افراد، علماء، کونسلرز اور میڈیا کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ میڈیا کو سنسنی خیزی کے بجائے ذمہ دار رپورٹنگ کرنی چاہئے اور ایسے واقعات کو اس انداز میں پیش کرنا چاہیے جو آگاہی کا سبب بنیں، نہ کہ نقل کا ذریعہ۔

اگر حقیقت پسندی سے دیکھا جائے تو اکثر موبائل فون کی لت والدین کی اپنی سہولت کی وجہ سے بچوں میں پیدا ہوتی ہے۔ بچوں کو وقت، توجہ، محبت اور رہنمائی دینا ہی انہیں ایسے المناک انجام سے بچانے کا سب سے مؤثر راستہ علماء، سماجی ذمہ داران اور میڈیا کو بھی اصلاح کا راستہ اختیار کرنا چاہئے۔ گھروں میں محبت، وقت، دینی رہنمائی اور توجہ ہوگی تو بچے کسی بھی غلط اثر سے محفوظ رہیں گے۔

شمع تارا پور والا، ڈائریکٹر، اسکول ایجوکیشن (انجمن اسلام، ممبئی)

یہ بھی پڑھئے: قاری نامہ: نیشنل یوتھ ڈے، نوجوانوں کی تربیت، بڑے کیا کریں کہ وہ مؤثر ثابت ہو؟

بچے وہی سیکھتے اور دُہراتے ہیں جو اُن کے بڑے کرتے ہیں

غازی آباد میں پیش آنے والا سانحہ دراصل ہماری اجتماعی غفلت، جذباتی بے توجہی اور ڈیجیٹل عہد میں تربیت کے بحران کی علامت ہے۔ یہ واقعہ ہمیں سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ بچوں کو جدید ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ کرانے میں والدین کی نیت خواہ کتنی ہی درست کیوں نہ ہو، اگر بصیرت اور مکالمے سے خالی ہو تو تباہ کن نتائج پیدا کر سکتا ہے۔

ایسے حالات سے بچنے کیلئے سب سے بنیادی اور فوری ذمے داری والدین پر عائد ہوتی ہے۔ والدین کو حکم دینے والے نگراں کے بجائے بچوں کا ذہنی اور جذباتی ساتھی بننا ہوگا۔ یہاں ایک اہم اور نظر انداز کیا جانے والا پہلو یہ بھی ہے کہ اکثر والدین خود گھنٹوں سوشل میڈیا پر مصروف رہتے ہیں مگر بچوں کو اسی عمل سے روکتے ہیں۔ بچے وہی سیکھتے اور دُہراتے ہیں جو وہ اپنے بڑوں کو کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جب والدین طویل عرصے تک بچوں کو نظر انداز کرتے رہیں اور پھر اچانک موبائل فون یا انٹرنیٹ پر سخت پابندی عائد کر کے ڈانٹ ڈپٹ، چیخ و پکار کا سہارا لیں تو یہ طرزِ عمل بچوں میں احساسِ محرومی، ردِ عمل اور نفسیاتی دباؤ کو جنم دیتا ہے جو بعض اوقات الم ناک صورت اختیار کر لیتا ہے۔

موبائل فون یا انٹرنیٹ پر اچانک پابندی مسئلے کا حل نہیں بلکہ یہ قدم بچوں کو تنہائی اور ذہنی انتشار کی طرف دھکیل سکتا ہے۔ ضروری ہے کہ والدین خود بھی ڈیجیٹل اعتدال کا عملی نمونہ پیش کریں، بچوں کے ساتھ وقت گزاریں، باقاعدہ گفتگو کریں اور ان کی جذباتی دنیا کو سمجھنے کی کوشش کریں۔

اساتذہ اور تعلیمی سرپرستوں کو محض امتحانات اور نصاب تک محدود نہیں رہنا چاہئے۔ تعلیمی اداروں میں ذہنی صحت، میڈیا کے اثرات اور جذباتی برداشت جیسے موضوعات کو سنجیدگی سے شامل کیا جانا چاہئے تاکہ طلبہ یہ سیکھ سکیں کہ وقتی ناکامی، محرومی یا دباؤ زندگی کا خاتمہ نہیں بلکہ مقابلہ کرنے کی تربیت کا تقاضا کرتا ہے۔

سماج اور میڈیا کی ذمے داری ہے کہ وہ ایسے واقعات کو سنسنی خیز عنوانات کے بجائے فکری اور اصلاحی تناظر میں پیش کریں۔ کسی ایک ویڈیو گیم، ثقافت یا موبائل فون کو مجرم قرار دینا مسئلے سے فرار کے مترادف ہے۔ اصل ضرورت ایک ایسے سماجی شعور کی ہے جہاں بچوں کو بولنے، سنے جانے اور بروقت رہنمائی حاصل کرنے کا محفوظ ماحول میسر ہو۔

یہ سانحہ ہمیں خبردار کرتا ہے کہ اگر گھروں میں مکالمہ مر جائے تو حادثات جنم لیتے ہیں، اور اگر والدین اپنے عمل سے رہنمائی کریں اور مکالمہ زندہ رکھیں تو کئی جانیں محفوظ رہ سکتی ہیں۔

ڈاکٹر محمد اظفر ریاض خان (اسوسی ایٹ پروفیسر ، شعبۂ اردو،مہاراشٹر کالج، ممبئی)

یہ بھی پڑھئے: قاری نامہ:آج ہمارے ملک میں جمہوریت کی کیا اہمیت ہے،ہم اس کے تحفظ کیلئے کیا کریں؟

والدین کو بچوں کے ساتھ روزانہ کچھ وقت گزارنا چاہئے

ویڈیو گیمز بچوں کی عادات و اطوار، سوچ و فکر،تصور و تفکر اور تعلیم و تعلم پرتیزی سے اثر انداز ہورہے ہیں۔موبائل فون، ٹیبلٹ اور کمپیوٹر کی سہولت نے انھیں گیم کی ایسی دنیا میں داخل کر دیا ہے جہاں وقت، رشتے اور ذمہ داریاں پیچھے رہ جاتی ہیں۔ اگر اس رجحان کا بروقت تدارک نہ گیا تو اس کے نتائج تعلیمی زوال، اخلاقی کمزوری اور نفسیاتی مسائل کی صورت میں ظاہر ہو سکتے ہیں۔ویڈیو گیم کا بے قابو استعمال بچوں کو حقیقت سے فرار کا عادی بنادیتا ہے ۔والدین کی بے توجہی، سختی یا غیر ضروری آزادی بچےکو فطری طور پر ویڈیو گیم کی طرف مائل کردیتی ہے۔ والدین کو چاہئے کہ بچوں کے ساتھ روزانہ کچھ وقت گزاریں،ان کی پسند، ناپسند کو سمجھیں اوریہ جانیں کہ بچہ کون سا گیم کھیل رہا ہے اور کیوں؟جب بچہ یہ محسوس کرے گا کہ اس کے احساسات سنے اور سمجھے جا رہے ہیں تو وہ خود بھی حقیقت اور فریب توازن رکھنا سیکھ جائے گا۔

کسی بھی طرح کے کھیل کود یا گیم پر مکمل پابندی منفی اثرات کا سبب بن سکتی ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ کھیل، پڑھائی، آرام اور گیم کے اوقات واضح کر دیئے جائیں۔اسکول کے دنوں میں گیم کی محدود اور چھٹی کے دنوں میں مشروط اجازت ہومگر معمولی تفریحِ طبع کے بعدیہ سلسلہ منقطع کروادیا جائے۔اس سے بچوں میں نظم و ضبط اور خود احتسابی کا احساس پیدا ہوگا۔

والدین، اساتذہ اورمعاشرے کو چاہئے کہ وہ ذاتی طور پر گیم کے روایتی متبادلات یعنی کھیل کود، سماجی سرگرمیاں ،تخلیقی مشاغل ،کتب بینی، تقریر، کہانی نویسی اور فنونِ لطیفہ وغیرہ کو فروغ دینے کی کوشش کریں۔اس کے بہترنتائج برآمد ہوں اور بچے ویڈیو گیم کی طرف کم ہی مائل ہوں گے۔والدین کو چاہئے کہ بچوں کے موبائل میں عمر کے مطابق ایپس اور گیم رکھیں،انٹرنیٹ پر پیرنٹل کنٹرول (Parental Control) استعمال کریں،خواب گاہوں سے موبائل یا گیمنگ ڈیوائس نکال پھینکیں۔بچوں کو شفقت سے سمجھائیں کہ اسکرین کا حد درجہ استعمال آنکھوں سے بینائی اور راتوں سے نیند چھین لیتاہے۔

تعلیمی اداروں کو چاہئے کہ ڈیجیٹل آگاہی پر لیکچرز اور ورکشاپس منعقد کروائیں اور والدین کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہیں۔والدین کیلئے بھی ضروری ہے کہ وہ اسکرین سے حتی المقدور دور رہنے کی کوشش کریں اور گھر میں مل بیٹھ کر کھانے پینےاور گفتگو کی روایتِ پارینہ کو فروغ دیں کیونکہ ویڈیو گیم کا مسئلہ دراصل وقت ،توجہ اور تعلق کا مسئلہ ہے۔ جب بچے کو گھر میں محبت، اعتماد اور رہنمائی ملے گی تو وہ مصنوعی دنیا کے سحر سے خود ہی باہر آنا سیکھ جائے گا۔

ڈاکٹر ذاکر خان ذاکر (معلم اور شاعر)

یہ بھی پڑھئے: قاری نامہ: ’’بی ایم سی اوربلدیاتی انتخابات میں عوامی بیزاری: اسباب اور حل‘‘

معصوم ذہنوں کو اسکرین کا غلام ہونے سے بچائیں!

یہ صرف خبر نہیں ہے بلکہ یہ ایک سخت انتباہ ہے۔ نوجوان ذہنوں کو اس طرح کی مایوسی کی طرف کس چیز نے دھکیل دیا؟ بچوں کے اسکرین ٹائم کی لت، مجازی دنیا جو حقیقت سے زیادہ حقیقی محسوس ہوتی ہے، اور ذہنوں کو غلام بنانے والے یہ ضرررساں گیم، ہم خاموش کیسے بیٹھیں ؟ اس طرح کے واقعات میں والدین کا کردار اہم ہے۔ اس لت کے دفاع کی فرنٹ لائن والدین اور بچوں کے اہل خانہ ہیں۔ بچوں کے ڈیجیٹل آلات کی نگرانی کرنا، اسکرین ٹائم کی حد مقرر کرنا، بچوں کے برتاؤ اور رویوں میں تبدیلی پر نگاہ رکھنا، زیادہ تر محبت و حکمت سے اور ضرورت پڑے تو سختی سے کام لینا یہ سب والدین کی اہم ذمہ داریاں ہیں۔ آجکل گھروں میں سب کی موجودگی بھی ہر کسی کو تنہا رکھتی ہے کیونکہ دادا، دادی اور ماں باپ سے لے کر گھرکا ہر فرد ایک دوسرے سے بے فکر ہے۔ ضروری ہے کہ بچوں سےان کے دن، ان کے دوستوں، ان کے دباؤ کے بارے میں پوچھیں۔ لامتناہی گیمنگ کو فیملی گیمز، آؤٹ ڈور پلے، یا مشترکہ مشاغل سے بدلیں۔ ایپس پر پیرنٹل کنٹرول جیسے ٹولز استعمال کریں۔ چڑچڑاپن، تنہائی پسندی، بات بات پر ناراضگی کا اظہار وغیرہ اس طرح کی لت کے ابتدائی اشارے ہیں جن پر گھر پر نظر رکھنا ضروری ہے۔

اسکول اور اساتذہ کا بھی کرداربھی کچھ کم اہم نہیں ہے۔ کلاس رومز طلبہ کی تربیت کے ساتھ ان کی پریشانی کا پتہ لگانے کی بھی پناہ گاہیں ہیں۔ وقفے کے دوران فون سے چپکے ہوئے طلبا کو دیکھیں۔ ڈیجیٹل تندرستی کو اسباق میں ضم کریں، توازن، لچک اور نشے کے خطرات سکھائیں، موقع موقع سے سائبر سیکورٹی، آن لائن گیمنگ کے اثرات پر پروگراموں کا انعقاد کریں۔ پیرنٹس ٹیچرس میٹنگ کے ذریعے والدین کے ساتھ تعاون کریں، حقیقی روابط استوار کرنے کیلئے کھیلوں، فنون یا مباحثوں کیلئے فوسٹر کلب کا قیام معاون ہوسکتے ہیں۔ 

والدین اور اساتذہ کے ساتھ ساتھ سماج کی بھی اہم ذمہ داری ہے کہ محلوں، بلڈنگ کی پارکنگ اور نکڑ کی چائے کی دکانوں میں اس طرح وقت ضائع کرنے والے نوجوانوں کو روکنے کی کوشش کریں۔ گوکہ یہ ایک مشکل کام ہے لیکن اچھے کام کی ابتداء کے لیے کچھ مشکلیں اٹھانی پڑتی ہیں۔ 

یہ سانحہ صرف تعزیت کا نہیں بلکہ عملی اقدامات کا تقاضا کرتا ہے۔ آئیے اپنے بچوں کو اسکرین سے دوبارہ واپس حاصل کریں۔ لیکن سب سے اہم سوال یہی ہے کہ کیا ہم اس تبدیلی کے لیے خود بھی تیار ہیں ؟ 

مومن فہیم احمد عبدالباری (لیکچرر صمدیہ جونیئر کالج اینڈ کریئر کاؤنسلر،بھیونڈی)

یہ بھی پڑھئے: قاری نامہ: اقلیتوں کے حقوق کا دن:آج کے حالات میں حصولِ حقوق کیلئے کیاکرناچاہئے؟

بچوں کی بات سنیں اور انہیں اپنی بات رکھنے کا موقع فراہم کریں

نیلی روشنی کے حصار میں قید یہ فینٹیسی ورلڈ(fantasy world)میں رہنے والی نوجوان نسل  شناخت کے بحران سے   (Identity crisis) جوجھ رہی ہے۔شدید الجھن کا شکار نوجوان توجہ چاہتے ہیں۔ سیکڑوں ’’دوستوں‘‘ کی ایک ورچوئل دنیا اُن کی مٹھی میں بند ہے۔ورچوئل دنیا میں گُم حقیقت سے بہت دور یہ نوجوان خود کو تنہا بہت تنہا محسوس کر رہے ہیں۔  بھیڑ میں ہیں لیکن بہت اکیلے ہیں۔یہ ہم بہ خوبی جانتے ہیں کہ پچھلے چند برسوں میں ملنے والے ایکسپوژر(exposure)  نے انہیں اپنی روایات اور نئی دنیا کے درمیان توازن برقرار رکھنے کا وقت ہی نہیں دیا ۔ سوشل میڈیا پر دوسروں کی بظاہر پر کشش زندگی ان کے لیے کب رول ماڈل بن گئی وہ خود نہیں جانتے۔ 

لاک ڈاؤن میںدو گز کی دوری، دو جنریشن کے درمیان اتنی گہری کھائی کھود  دے گی شاید ہم میں سے کسی نے بھی نہیں سوچا تھا۔ غازی آباد کا حادثہ ہم سب کے لیے ایک  ویک اپ کال ہے۔اس لیے مزید دیری کے بجائے’’آؤ بات کریں‘‘۔  دو  نسلوں  یا یوں کہیں کہ والدین اور بچوں کے درمیان کی اس خلیج کو پاٹنے کے لیے گفتگو اور مکالمہ سے بہتر کچھ نہیں۔ بچوں کو مصنوعی دنیا سے باہر لانے کے لیے والدین کو ہاتھ بڑھانا ہوگا۔سوشل میڈیا فالوورز اور لائکس کے جال میں پھنسے نوجوانوں سے کھُل کر بات کرنی ہوگی، وہ بھی ججمنٹل (judgmental) ہوئے بغیر! والدین اور اساتذہ دونوں کی ہی ذمہ داری ہے کہ وہ کوئی بھی رائے قائم کرنے سے پہلے بچوں کو ہمدردی اور توجہ کے ساتھ سنیں ۔ انھیں اپنی بات رکھنے کا موقع دیں۔یہ وہ بچے ہیں جو اپنی تصاویر پر تو فلٹر لگانا سیکھ گئے ہیں لیکن معلومات کو فلٹر کرنے کی انھوں نے ضرورت محسوس نہیں کی۔ معلومات کے اس سیلاب میں مثبت اور منفی لہریں معصوم نوجوانوں سے ٹکراتی رہیں۔ صحیح اور غلط کا ان کے پاس کوئی پیمانہ نہیں تھا۔ نتیجتاً دوسروں کی ’’مکمل زندگی‘‘ نے بچوں کو احساسِ کمتری کا شکار بنا کر رکھ دیا ہے۔اُن کا ذہنی سکون تباہ و برباد ہوگیا ہے۔ والدین  اپنے بچوں کو سمجھنے کے بجائے انہیں ہی ذمہ دار مان رہے ہیں۔ موجودہ وقت یہ طے کرنے کا قطعی نہیں ہے کہ قصوروار کون ہے؟ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ اگر ہم مسئلہ سمجھ گئے ہیں تو حل پر توجہ دی جائے ۔ سب سے پہلے والدین، پھر اساتذہ اور ضرورت پڑنے پر ماہرِ نفسیات۔ پابندیاں نہیں رہنمائی، غصّہ نہیں پیار۔ہمدردی اور سب سے اہم خاموشی نہیں گفتگو۔ مکالمہ....! سوشل میڈیا کی نیلی دنیا میں قید نوجوانوں کو ایلگوردم (algorithm) کے ایکو چیمبر سے مشترکہ کوشش ہی باہر نکال سکتی ہے۔ تو ملائیے ہاتھ اور نوجوانوں میں اس ایکسپوژر کا درست استعمال کرنے کی صلاحیت پیدا کرنے کے لیے اپنی پوری طاقت جھونک دیجئے۔ ’’کلر کوئین‘‘ کو تو کوئی نہیں مل سکا جو انھیں بتاتا کہ یہ’’زندگی کی سچی کہانی‘‘ نہیں ہے۔ نسلوں کے درمیان پھیلتی خلیج کو پاٹنے کے لیے جو کر سکتے ہیں کیجئے مگر ہاتھ پر ہاتھ دھرے مت بیٹھئے ورنہ یہ تو ابتدا ہے.....!

شاہ تاج خان (افسانہ نگار اور صحافی،پونے)

یہ بھی پڑھئے: قاری نامہ: ایک طالب علم کیلئے ہم نصابی سرگرمیوں کی کتنی اہمیت ہے؟

بچوں کے سامنے والدین عملی نمونہ پیش کریں

عصرِ حاضر میں سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل گیمز نے بچوں کی زندگی پر گہرا اثر ڈالا ہے۔ اگرچہ ٹیکنالوجی نے معلومات تک رسائی کو آسان بنایا ہے، لیکن اس کا بے جا اور غیر محتاط استعمال بچوں کی ذہنی، تعلیمی اور اخلاقی نشوونما کیلئے کافی نقصان دہ ثابت ہو رہا ہے۔ اس صورتِ حال میں والدین، اساتذہ اور سماج کے ذمہ داران پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ بچوں کو اس لعنت سے بچانے کیلئے سنجیدہ اور مؤثر اقدامات کریں۔

والدین کی ذمہ داری:

سب سے پہلی ذمہ داری والدین کی ہے۔ والدین کو چاہئے کہ وہ بچوں کے موبائل اور انٹرنیٹ کے استعمال پر نظر رکھیں اور ان کیلئے وقت کی ایک حد مقرر کریں۔ بچوں کو کم عمری میں اسمارٹ فون دینے سے گریز کیا جائے اور اگر دینا ضروری ہو تو پیرنٹل کنٹرول جیسے آپشنز کا استعمال کیا جائے۔ والدین خود بھی سادہ طرزِ زندگی اختیار کریں کیونکہ بچوں کی تربیت میں عملی نمونہ سب سے زیادہ مؤثر ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ بچوں کے ساتھ دوستانہ ماحول قائم کیا جائے تاکہ وہ اپنی دلچسپیوں، مسائل اور آن لائن تجربات والدین سے بلا جھجھک بیان کر سکیں۔

اساتذہ کی ذمہ داری:

اس معاملے میںاساتذہ کا کردار بھی نہایت اہم ہے۔ اسکولوں میں ڈیجیٹل شعورسے متعلق تربیتی پروگرام منعقد کیے جائیں تاکہ بچوں کو سوشل میڈیا اور گیمز کے مثبت اور منفی پہلوؤں سے آگاہ کیا جا سکے۔ اساتذہ طلبہ کو مطالعہ، کھیل کود، مباحثے اور تخلیقی سرگرمیوں کی طرف راغب کریں تاکہ ان کا وقت بامقصد سرگرمیوں میں صرف ہو۔ اس کے ساتھ ساتھ، اساتذہ والدین سے مسلسل رابطہ رکھیں اور بچوں کی تعلیمی و اخلاقی حالت سے انہیں باخبر کریں۔

سماج کی ذمہ داری:

اس سلسلے میںسماج کے ذمہ داران یعنی  علما، سماجی کارکنان اور اداروں کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ محلوں میں لائبریریاں، اسپورٹس کلب اور تربیتی مراکز قائم کئے جانے چاہئیں تاکہ بچوں کو مثبت متبادل میسر آ سکیں۔ میڈیا کے ذریعے شعور بیداری مہمات چلائی جائیں اور سوشل میڈیا کے نقصانات کو اجاگر کیا جائے۔ حکومت کو بھی چاہئے کہ بچوںکیلئے نقصان دہ آن لائن مواد پر سخت نگرانی اور قوانین نافذ کرے۔

ڈاکٹر طارق صدیقی (سماجی کارکن، بھیونڈی)

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK