• Sun, 08 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

یوجی سی کے نئے ضوابط کے اطلاق کا مطالبہ، طلبہ سڑکوں پر اُترے، ملک گیر مظاہرہ

Updated: February 08, 2026, 12:18 PM IST | Anil Anshuman | Mumbai

۲؍فروری کی دوپہر کو پٹنہ کے گاندھی میدان کے جنوبی جانب کا ماحول اس وقت انتہائی کشیدہ ہو گیا جب یو جی سی کے نئے ضابطوں کے نفاذ کا مطالبہ کرنے والے طلبہ اور نوجوانوں کے جلوس پر پولیس نے لاٹھی چارج کردیا۔ پلے کارڈز اٹھائے ہوئے یہ ان نوجوانوں نے نہایت پرامن طریقے سے آگے بڑھنے کی کوشش کی، لیکن پولیس کی بھاری نفری نے رکاوٹیں کھڑی کر کے سڑک کو بلاک کر دیا اور انہیں آگے بڑھنے سے روک دیا۔

It was alleged that the police were biased towards the protests held in support of the new UGC regulations. Photo: INN
الزام لگایا گیا کہ یوجی سی کے نئے ضوابط کی حمایت میں نکالے گئے مظاہروں کے تئیں پولیس کا رویہ جانبدارانہ رہا۔ تصویر: آئی این این

۲؍فروری کی دوپہر کو پٹنہ کے گاندھی میدان کے جنوبی جانب کا ماحول اس وقت انتہائی کشیدہ ہو گیا جب یو جی سی کے نئے ضابطوں کے نفاذ کا مطالبہ کرنے والے طلبہ اور نوجوانوں کے جلوس پر پولیس نے لاٹھی چارج کردیا۔ پلے کارڈز اٹھائے ہوئے یہ ان نوجوانوں نے نہایت پرامن طریقے سے آگے بڑھنے کی کوشش کی، لیکن پولیس کی بھاری نفری نے رکاوٹیں کھڑی کر کے سڑک کو بلاک کر دیا اور انہیں آگے بڑھنے سے روک دیا۔

وہاں موجودمیڈیاوالے تو ’بریکنگ نیوز سنسنی‘ پیدا کرنے کی جستجو میں، مظاہرین اور پولیس کے درمیان’جنگ‘  کو ہوا دینے پر آمادہ دکھائی دے رہے تھے۔ لائیو نشر کرنے والے بیشتر اینکرز چیخ رہے تھے کہ ’’دیکھو، دیکھو، پولیس اور طلبہ کے درمیان تصادم ہوا۔‘‘ ایک اینکر نے تو یہاں تک بتادیا تھا کہ پولیس اور طلبہ کے درمیان گھمسان کی جنگ شروع ہو گئی ہے۔اس طرح سے یہ ظاہر کرنے کی کوشش کی جارہی تھی کہ وہاں احتجاج کرنے والے طلبہ اور نوجوان پہلے سے سوچے سمجھے منصوبے کے تحت تشدد اور تصادم کیلئے وہاں پہنچے تھے۔

یہ بھی پڑھئے: کارپوریشن انتخابات: اتنا غیر واضح اور گنجلک منظر نامہ کبھی رہا؟

تاہم، ’میڈیا سنسنی‘ سے قطع نظر، ملک کے دیگر خطوں کی طرح گزشتہ دنوں پٹنہ میں بھی ایک عام سا مظاہرہ ہوا تھا۔ اس مظاہرے کا مقصد کالج اور یونیورسٹی کیمپس میں طلبہ کے ساتھ ہونےوالے امتیازی سلوک کو روکنے کیلئے جاری کردہ یوجی سی کے نئے ضوابط کی حمایت کرنا تھا۔ یہ جلوس پٹنہ کالج سے گاندھی میدان میں جے پی گولمبر تک مارچ کیا۔ تاہم، اس سے پہلے کہ مارچ اپنے اختتام کو پہنچ پاتا، طلبہ اس وقت مشتعل ہوگئے جب پولیس کی بھاری نفری نے رکاوٹیں کھڑی کرکے سڑک کو بلاک کردیا۔ احتجاج کرنے والے طلبہ کی جانب سے سوشل میڈیا پر جاری کی گئی ویڈیوز میں دکھایا گیا کہ کس طرح پولیس غیر مسلح طلبہ اور نوجوانوں کو دھکے دے رہی ہے، ان کے خلاف لاٹھیاں استعمال کر رہی ہے، انہیں زبردستی حراست میں لے رہی ہے اور جبراً اُٹھا اٹھا کر گاڑیوں میں ڈال رہی ہے۔ دیکھا جائے تو’یو جی سی‘ کے نئے ضوابط کے اطلاق کی مانگ کرنےوالے طلبہ کا برہم ہونا غلط نہیں تھا کیونکہجب یو جی سی کے نئے ضابطے جاری ہونے پر نام نہاد’جنرل کیٹیگری‘ کے نمائندے سڑکوں پر اُترے تھے اور ضابطوں کو منسوخ کرنے کا مطالبہ کررہے تھے تو  ہنگامہ برپا  کرنے والوں کےساتھ انہیں پولیس اہلکاروںکاکردار دوستانہ تھا۔

یہ بھی پڑھئے: ایوان میں وندے ماترم پر۱۰؍ گھنٹے بحث،دیانتدارانہ جائزہ لیا جائے کہ حاصل کیا ہوا؟

رپورٹس کے مطابق سپریم کورٹ نے یو جی سی ریگولیشنز۲۰۲۶ء کا فوری نوٹس لیا اور کچھ دنوں کیلئے اس پر عبوری اسٹے جاری کر دیا۔ یہ اب کافی متنازع ہوتا جا رہا ہے۔ نام نہاد ’جنرل کیٹیگری‘ خوش ہے کہ عدالت اس کے حق میں کام کر رہی ہے تاہم، او بی سی، ایس ٹی اور ایس سی کمیونٹیز کے طلبہ اور نوجوان، جو عدالت کے فیصلے اور اس کے استدلال سے مجروح ہوئے ہیں، براہ راست ’عدلیہ کی غیر جانبداری‘ پر سوال اٹھا رہے ہیں۔

یہ پٹنہ میں احتجاج کرنے والے طلبہ اور نوجوانوں  کی برہمی کے اظہار سے بھی پتہ چلتا ہے۔ جیسا کہ آپ جانتے ہیں، خود یو جی سی کے سروے کے اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ۲۰۱۹ء اور۲۰۲۴ء کے درمیان ملک بھر کی یونیورسٹیوں اور کالجوں میں ذات پات کی بنیاد پر امتیازی سلوک کی شکایات میں۱۱۸؍ فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔طلبہ نے عدلیہ کو مخاطب کرتے ہوئے واضح طور پر کہا کہ ذات پات اور ملک میں جاری نسلی امتیازات، خیالی تصورات یا ماضی کی چیز نہیں ہیں بلکہ یہ سب ہمارے تعلیمی اداروں اور پورے معاشرے میں روزمرہ کی سفاک حقیقت ہیں۔کیا محض ’ذات سے پاک معاشرے‘کا مطالبہ کردینے سے روہت ویمولا اور ڈاکٹر پائل تڑوی کے ادارہ جاتی قتل، یا اینجل چکما کے نسلی قتل کیلئے انصاف مل جائے گا؟

یہ بھی پڑھئے: بی ایل اوز کی موت پربے حسی کا عالم یہ ہےکہ نہ کمیشن کوئی ذمہ داری قبول کررہا ہے، نہ حکومت

غور طلب ہے کہ سپریم کورٹ میں اس کیس کی اگلی سماعت ہونے والی ہے،  ایسے میں یہ دیکھنا باقی ہے کہ اُس وقت کیا فیصلہ آتا ہے۔ تاہم، ملک بھر میں طلبہ اور نوجوانوں کی ایک بڑی آبادی اس مسئلے پر تقریباً روزانہ سڑکوں پر ریلیاں اور مظاہرے کررہی ہے۔۳۱؍ جنوری کو، بائیں بازو سے تعلق رکھنے والے طلبہ اورنوجوانوں کی تنظیم ’انقلابی نوجوان سبھا‘ اور’اے آئی ایس اے‘ کی طرف سے مشترکہ طور پر شروع کی گئی ایک ملک گیر مہم کا انعقاد کیا گیا تھا، جس میں یو جی سی کے نئے ضوابط کے نفاذ کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ ’اتیا چار، ادھیکار نہیں‘ اور ’ذات پات کے امتیاز کو جائز قرار دینا ناقابل قبول ہے‘ جیسے نعروں کے ساتھ احتجاج کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’’یو جی سی کے رہنما خطوط کو لاگو کریں، روہت ایکٹ کو نافذ کریں۔‘‘

یہ مہم ریاست کی راجدھانی پٹنہ سمیت بہار کے کئی علاقوں میں چلائی گئی۔ بھوجپور اور سیوان میں ایک زبردست ریلی نکالی گئی جس نے پورے شہر کا دورہ کیا۔ڈومراؤں میں طلبہ اور نوجوانوں کے احتجاج سے خطاب کرتے ہوئے ’آئی این اے یو ایس‘کے ریاستی صدر اور سابق ایم ایل اے اجیت کشواہا نے یو جی سی کے نئے ضابطوں پر سپریم کورٹ کے اسٹے کو بدقسمتی قرار دیا۔ انہوں نے سوال کیا کہ حالیہ برسوں میں ملک میں کتنے بڑے احتجاج اور مہم چلائی گئی ہیں لیکن سپریم کورٹ نے کوئی نوٹس نہیں لیا۔ سبھی نے دیکھا کہ ملک بھر کے کسان مہینوں تک اپنی آواز بلند کرتے رہے، یا سپریم کورٹ کی اپیلوں پر عوام انصاف کا مطالبہ کرتے رہے، لیکن کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔ اس کے برعکس جب مٹھی بھر نام نہاد ’جنرل کیٹیگری‘ کے لوگوں نے آواز اٹھائی تو وہ فوراً متحرک ہو گئے اور جلد بازی میں فیصلہ سنا دیا گیا۔ اس سے ملک کے عوام کیا سمجھیں؟ ہمیں امید ہے کہ مستقبل میں معززعدالت ملک بھر کے طلبہ اور نوجوانوں کی اکثریت کی آئینی خواہشات کا بھی نوٹس لے گی۔

یہ بھی پڑھئے: ایس آئی آر: کمیشن دلائل دے سکتا ہے،جواب نہیں !

کئی تقاریب میں مقررین نے یہ بھی الزام لگایا کہ یہ سب بی جے پی اور عدلیہ کی ملی بھگت سے ہو رہا ہے کیونکہ بی جے پی کی حکمرانی، جو ایک ہندو قوم کی تعمیر کی کوششوں میں اپنی تمام تر طاقت لگا رہی ہے، اس کا مقصد اس ملک میں ’منووادی فلسفہ اور اصول‘ کو مسلط کر کے ’ذات کے نظام‘ کو دوبارہ قائم کرنا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ۲۰۱۴ء سے ملک کے مساوی آئین کو ختم کرنے اور جمہوریت کو قائم کرنے کی کوششیں بڑھ رہی ہیں۔ بہار ہی کی طرح جھارکھنڈ میں، رانچی کے علاوہ کئی شہروں میں طلبہ اور نوجوانوں نے ’یو جی سی کے ضوابط‘ کے نفاذ کا مطالبہ کرتے ہوئے کئی جگہوں پر مہم چلائی۔اسی طرح ملک کے دیگر حصوں میں بھی مظاہرہ کیا گیا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK