• Sun, 08 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

راہل گاندھی کو لوک سبھا اجلاس میں جنرل نرونے کی غیر مطبوعہ کتاب کا اقتباس پڑھنے سے کیوں روکا گیا؟

Updated: February 08, 2026, 12:30 PM IST | Amitabh Dube | Mumbai

نریندر مودی حکومت کی گھبراہٹ پیر کو اس وقت واضح طور پر نظر آئی جب وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ اور وزیر داخلہ امیت شاہ سمیت بی جے پی کے سینئر وزراء نے قائد حزب اختلاف راہل گاندھی کو سابق آرمی چیف جنرل ایم ایم نرونے کی غیر مطبوعہ سوانح عمری کے اقتباسات پڑھنے سے روک دیا۔اس کے بعد اسپیکر کو پارلیمنٹ کی کارروائی ملتوی کرنی پڑی اورآگے کی بحث نہیں ہوسکی۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

نریندر مودی حکومت کی گھبراہٹ پیر کو اس وقت واضح طور پر نظر آئی جب وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ اور وزیر داخلہ امیت شاہ سمیت بی جے پی کے سینئر وزراء نے قائد حزب اختلاف راہل گاندھی کو سابق آرمی چیف جنرل ایم ایم نرونے کی غیر مطبوعہ سوانح عمری کے اقتباسات پڑھنے سے روک دیا۔اس کے بعد اسپیکر کو پارلیمنٹ کی کارروائی ملتوی کرنی پڑی اورآگے کی بحث نہیں ہوسکی۔

سوال یہ ہوتا ہے کہ مودی حکومت اتنی بے چین کیوں تھی؟اس کتاب میں آخر ایسا کیا ہے جس کی وجہ سے مودی سرکار پریشان ہے؟

اس موضوع پر اگر سیدھے الفاظ میں گفتگو کی جائے تو وہ یہ ہے کہ جنرل نرونے کی سوانح عمری ’فور اسٹارس آف ڈیسٹنی‘ سے پتہ چلتا ہے کہ۲۰۲۰ء میں، جب چینی ٹینک مشرقی لداخ میں پینگونگ جھیل کے جنوب میں کیلاش رینج کے قریب ہندوستانی ٹھکانوںکی طرف پیش قدمی کر رہے تھے، تب ہماری سیاسی قیادت نے انہیں دو گھنٹوں  سے زیادہ وقت تک بغیر کسی فیصلے کے چھوڑ دیا تھا۔ اس دوران شمالی فوج کے کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل وائی کے جوشی  بار بار چینی افواج پر توپ خانوں سے فائر کرنے کی اجازت کی درخواست کررہے تھے۔

یہ بھی پڑھئے: ایس آئی آر: کمیشن دلائل دے سکتا ہے،جواب نہیں !

مسئلہ یہ تھا کہ نرونے کو حکم تھا کہ ’’جب تک اوپر سے منظوری نہ مل جائے تب تک  فائرنہ کریں۔‘‘ انہیں نہ تو ’رولس آف انگیج مینٹ‘ دیئے گئے تھے، نہ ہی یہ بتایا گیا تھا کہ کن حالات میں آگے بڑھتے ہوئے دشمن پر گولی چلائی جاسکتی ہے۔ان سے صرف یہ کہا گیا تھا کہ ’’آخری حربے کے طور پر، اگر ہماری اپنی زندگی خطرے میں ہو، تو وہ دستہ، اور صرف وہی دستہ، اپنے دفاع میں گولی چلا سکتا ہے۔‘‘

اور راج ناتھ سنگھ نے آخری وقت میں جنرل نرونے سے کیا کہا؟ یہی کہ وزیر اعظم نے کہا  ہے کہ جو مناسب سمجھو، وہ کرو۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ چین کے ساتھ جنگ کا فیصلہ براہ راست آرمی چیف پر چھوڑ دیا گیا۔ جیسا کہ نرونے نے لکھا کہ ’’مجھے ایک گرم آلو تھما  دیاگیا تھا۔ اس مکمل چھوٹ کے ساتھ کہ اب ساری ذمہ داری پوری طرح سے میرے اوپر آ گئی تھی۔‘‘

یہ وزیر اعظم نریندر مودی کی جانب سے اپنی ذمہ داریوں سے دستبرداری اور راہ فرار کی ایک واضح مثال ہے۔اس سے قبل خواہ  ۱۹۷۱ء کی بنگلہ دیش کی جنگ  رہی ہو یا پھر ۱۹۹۹ءکی کارگل جنگ،  اس دورکے  وزرائے اعظم نے ایسے موقعوں پر کئے جانے والے فیصلوں میں مکمل قیادت کا استعمال کیا تھا جہاں سیکڑوں یا ہزاروں فوجیوں کی جانیں داؤ پر لگی ہوئی تھیں۔ یہاں، ایک الجھے ہوئے وزیر اعظم نے بوجھ ایک محصور آرمی چیف پر ڈال دیا تھا۔

یہ بھی پڑھئے: جس کی لاٹھی اس کی بھینس !کیا آج ہی کیلئے یہ کہاوت بنائی گئی تھی؟

خوش قسمتی سے، جنرل نرونے نے فائرنگ کی اجازت نہیں دی۔ اس کے بجائے، انہوں نے جنرل جوشی کو حکم دیا کہ بھاری ہندوستانی ٹینکوں کو ’ریچن لا پاس‘ پر ایک مضبوط پوزیشن پر تعینات کیا جائے تاکہ ہلکے چینی ٹینکوں کو پیچھے سے گھیر لیا جا سکے۔ بالآخر چینی فوج پیچھے ہٹ گئی اور علاقے سے باہر نکلگئی۔تو مودی سرکار نے جنرل نرونے کو ملک کی اس خدمت کا کیا انعام دیا؟ ان کی کتاب تقریباً دو سال تک منظور نہیں ہوئی۔ اس دوران مختلف فوجی آپریشنوں پر صحافیوں کی طرف سے لکھی گئی کئی دیگر کتابوں کو منظور کرلیا گیا، جن میں آپریشن سیندور سے متعلق کتاب بھی ہے۔اس سے  حکومت کی ترجیحات کا پتہ چلتا ہے۔ مزید یہ کہ ’ریچن لا‘ اور قریب کے’ کالا ٹاپ‘ میں ہونے والی کارروائیوں کی تفصیلات اگلے ہی دن میڈیا میں سامنے آئیں لیکن وزیر اعظم کی سچائی کو بے نقاب کرنے والی انتہائی آپریشنل تفصیلات آج بھی ممنوع ہیں۔

قابل فہم بات یہ ہے کہ میڈیا کے کچھ قریبی حلقے فوری طور پر وزیراعظم کے دفاع میں آگئے اور ان کی شان میں قصیدے پڑھنے لگے۔ ان کا کہناہے کہ اس کہانی سے یہی ظاہر ہوتا ہے کہ وزیر اعظم مودی نے موقع پر موجود افسر کو فیصلہ کرنے کی  پوری آزادی فراہم کی۔ اگر واقعی ایسا ہی ہے تو اس کتاب کو تقریباً دو سال تک اشاعت سے کیوں روک کر رکھا گیا اور راہل گاندھی کو اس کتاب کا ایک چھوٹا سا اقتباس پڑھنے سے کیوں روکا گیا؟

ایک اور دلیل یہ ہے کہ چین کئی دہائیوں سے سرحد پر چھیڑ خانی میں مصروف ہے اور یہ مودی حکومت ہی ہے جس نے سب سے پہلے اس کاجم کر مقابلہ کیا ہے۔ یہ حقیقت سے بعید ہے۔ یہ بات مشہور ہے کہ ہندوستان نے عام طور پر چین کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کرنے کیلئے چین کی دراندازی کا جواب بھرپور جواب دیا ہے۔۱۹۶۷ء (ناتھو لا اور چو لا)،۸۷۔۱۹۸۶ء میں (سم دورونگ چو) اور۲۰۱۳ء میں، ہندوستانی حکومت نے  یا تو جوابی حملہ کرنے، حالات بگاڑنے یا پھر ۲۰۱۳ء میں چومار میں زمین قبضہ کرنےکی اجازت دی ہے۔ ہر بار، صورت حال کو بحال کیا گیا  ہے۔

یہ بھی پڑھئے: کارپوریشن انتخابات: اتنا غیر واضح اور گنجلک منظر نامہ کبھی رہا؟

اس کے برعکس مودی حکومت کا ریکارڈ کیا ہے؟۲۰۱۷ء میں، انہوں نے ڈوکلام میں براہ راست مداخلت کی اور بھوٹانی ٹرائی جنکشن میں چینی دراندازی کو روک دیا، لیکن وہ ٹھوس ضمانتوں کے بغیر پیچھے ہٹ گئے اور چین نے بعد ازاں ڈوکلام  پٹھار پر اپنی گرفت مضبوط کر لی جو اُس وقت میڈیا آپ کو نہیں بتا رہا تھا۔وزیر اعظم مودی کا وہ بدنام زمانہ بیان کون بھول سکتا ہے کہ ’’ہماری سرزمین میں کوئی داخل نہیں ہوا ،نہ ہی کسی طرح کی کوئی در اندازی ہوئی ہے۔‘‘ یہ بیان وادی گلوان میں۲۰؍ ہندوستانی فوجیوں کی شہادت کے صرف چار دن بعد آیا تھا، جب کئی فوجیوں کو چینی حراست میں پکڑا گیا اور پھر ان کے ساتھ مار پیٹ کی گئی اور بعد میں چھوڑ دیا گیا۔ اس کے بعد، اگست ۲۰۲۰ء میں، ہندوستانی فوج کو بالآخر کارروائی کرنے کا اختیار دیا گیا، جس کے نتیجے میں جنرل نرونے نے ذکر کیا ہے... لیکن حیرت انگیز طور پر، ان فوائد کو بھی صرف ۶؍ ماہ بعد، فروری۲۰۲۱ء میں، جزوی پینگونگ تسو سے دستبرداری کے معاہدے کے تحت ترک کر دیا گیا۔

چینی فوجی اکتوبر۲۰۲۴ء کے معاہدے تک ڈیم چوک اور ڈیپ سانگ میں ہندوستانی علاقے پر قابض  رہے۔ اور آج بھی، گلوان، ہاٹ اسپرنگس اور پینگونگ تسو میں بنائے گئے ’بفر زونز‘ زیادہ تر ہندوستانی دعوے کے دائرے میں ہیں، جو ہماری فوج کو ان علاقوں تک رسائی سے روکتے ہیں جو پہلے غیر محدود رسائی حاصل کرتے تھے۔ یہ مسلح افواج کی طرف سے مانگے گئے اسٹیٹس کو کے قریب کہیں بھی نہیں ہے۔ یہ۱۹۶۲ء کے بعد ہندوستان کا سب سے بڑا علاقائی نقصان ہے۔ اس بات سے کماحقہ سبھی واقف ہیں لیکن اس پر بولنے کی جرأت کم ہی لوگوں کو ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب جنرل نرونے نے اس سچائی کو بے نقاب کرنے کی کوشش کی تو انہیں ایسا کرنے سے روک دیاگیا۔

یہ بھی پڑھئے: مہاراشٹر کے بلدیاتی الیکشن کے نتائج بی جے پی کے بڑھتے دبدبے کی علامت ہیں

آخری  بات بالکل صاف اور واضح ہے۔ جنرل نرونے کی سوانح عمری سے پتہ چلتا ہے کہ جب چین کا مقابلہ کرنے کی بات آتی ہے تو مودی حکومت بالکل اس طرح کے رویے کااظہار کرتی ہے جیسے سامنے سے آنے والی گاڑی کی ہیڈلائٹس میں پھنسا ہوا کوئی ہرن۔یہ انکشافات ان کی ایک مضبوط لیڈر کی شبیہ کو بے نقاب کرتے ہیں، جو دراصل پیسے دے کر بنائی گئی ایک ’پی آر امیج‘ ہے۔ یہ بات بھی واضح ہے کہ ملک کیلئے اہم  مواقع پر، انہوں نے ہماری شمالی سرحد کی حفاظت پر اپنی انتخابی  تشہیر کو کو ترجیح دی ہے۔  اگر الیکشن جیتنے کیلئے اس شخص کی لکھی ہوئی کتاب کو روکنا  پڑے جس نے ’ریچن لا‘ میں ملک کو بچایا ہے... تو یہ اس کی ایک واضح مثال ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK