سال ۲۰۱۱ء کی مردم شماری کے مطابق ممبئی میں ۵۸ ہزار افراد بے گھر ہیں

Updated: January 26, 2020, 2:30 PM IST | Prof Syed Iqbal

آس پاس کے لوگ بھی ان کی شکایتیں درج کراتےہیں مگر یہ بدنصیب جائیں تو کہاں جائیں؟

سال ۲۰۱۱ء کی مردم شماری کے مطابق ممبئی میں ۵۸ ہزار افراد بے گھر ہیں
بے گھر افراد ۔ تصویر : آئی این این

 آج ۲۶؍ جنوری ہے اور عام ہندوستانی اسے یوم آزادی سمجھتے ہیں۔ ایک عام ہندوستانی کو یوم جمہوریہ اور یوم آزادی کا فرق نہیں معلوم ۔ ہوسکتا ہے اساتذہ اپنے طلبہ کو یہ فرق سمجھاتے ہوں ورنہ اسے بھی آزادی سے متعلق ایک تاریخی دن سمجھ لیاجاتا ہے۔ سچ پوچھئے تو ہندوستان کی ایک کثیر آبادی کو آزادی کا کوئی خاص احساس نہیں۔ وہ تو سرکاری اداروں میں تعطیل ہونے کے سبب لوگوں کوآزادی یاد آجاتی ہے ورنہ نجی اداروں اور بازاروں میں کام کرنےو الے لاکھوں ہندوستانی اس دن بھی ٹھیک اسی طرح کام کرتے رہتے ہیں جیسے عام دنوں میں کرتے ہیں۔ ان کے لئے روز  کنواں کھودنا اور روز پانی پینا ہی زندگی ہے۔ برسہا برس سے کسی کو کولھوکے بیل کی طرح کام کرتے کرتے وہ اپنے معمولات کے اتنے عادی ہوچکے ہیں کہ ان کے پاس حالیہ زندگی میں تبدیلی کا تصور بھی موجود نہیں۔ جس جھوپڑی میں ان کے والدین نے زندگی گزاری تھی، وہی آج ان کی ملکیت ہے۔ جس سڑک پر پیدل چل کر وہ کام پر جاتے رہے تھے یا جس کارخانے یا دکان میں وہ برسوں سے کام کرتے رہے تھے، وہی آج بھی ان کا مقدر ہے۔  ایسے میں کوئی وکاس کا نعرہ بلند کرتا ہے تو وہ مسکرا کر رہ جاتے ہیں۔ انہیں تو پچھلے سترسال میں کہیں کوئی وکاس نظر نہیں آیا۔ ان کے بچے آج بھی سرکاری اسکولوں میں پڑھتے ہیں اور گھر کا کوئی فرد بیمار ہوجائے تو اسے سرکاری اسپتال میں لے جایا جاتا ہے۔ نہ ان کے پاس اتنے پیسے ہوتے ہیں کہ وہ اپنے بچوں کو پرائیویٹ اسکولوں میں داخل کرسکیں اورنہ عزیزوں کو پرائیوٹ نرسنگ ہوم میں لے جانے کی ہمت ہوتی ہے۔ قسمت اچھی ہوئی تو بچوں نے پڑھ لکھ لیا، ورنہ وہ بھی تعلیم ادھوری چھوڑ کر گھر بار کی کفالت میں لگ گئے۔ رہی بیماریاں تو وہ بھی انہیں کے گھروں میں  بسیرا کرتی ہیں بلکہ ان غریب بستیوں میں شاید ہی کوئی گھر ہو جس کے مکین بیماریوں سے آزاد ہوں۔
  دوہفتہ قبل معاصر انگریزی روزنامے میں  ایک خبر شائع ہوئی کہ بمبئی کے ٹاٹا کینسر اسپتال میں مریضوں کی تعداد اتنی بڑھ چکی ہے کہ اسپتال کی راہداریوں اور آس پاس کے فٹ  پاتھ  پر جگہ نہ ہونے کے سبب یہ مریض اب قریب کے فلائی اوور کے نیچے رہنے پر مجبور ہیں۔ چونکہ ہمارے ملک میں کینسر تیزی سے پھیل رہا ہے ( ہرسال چار لاکھ سے زائد مریض اسپتال آتے ہیں اور ۲۰۱۶ء  میں سات لاکھ سے زائد مریض کینسر کی بیماری میں فوت ہوئے تھے) اور مستقبل میں ان مریضوں کی تعداد میں اضافے کا خدشہ بھی ہے، اسلئے آنے والے دنوں میں ٹاٹا اسپتال کا کیا ہوگا، یہ سوچ کر جھرجھری آتی ہے۔ اسپتال کی رپورٹ کے مطابق ۸۰؍ فیصد مریض ملک کی مختلف ریاستوں سے آتے ہیں، جن کے لئے ممبئی آکر علاج کروانا  یوں بھی  دشوار ہوتا ہے۔ اس پر اپنے تیمارداروں کے ساتھ شہرمیں رہنا اور ہفتہ یا عشرہ میں اسپتال میں حاضری دینے تک یہیں وقت گزارنا بجائے خود ایک بڑی پریشانی ہے۔ کبھی  دھرم شالاؤں میں تیس یا پچاس روپے روز پر بستر مل جاتا تھا، اب وہاں بھی اتنی بھیڑ ہوتی ہے کہ جگہ نہیں ملتی۔ سوروپے یومیہ والے کمرے بھی آج دستیاب نہیں۔ کیموتھراپی ، ریڈئیشن اور ہیوی دواؤں  سے جھوجھتےمریض اس صورت حال سے اتنے مایوس ہو جاتے ہیں کہ ان میں سے بیشترافراد علاج ادھورا چھوڑ کراپنے گاؤں واپس چلے جاتے ہیں۔
  ممبئی ایسے بڑے شہر میں صرف  پانچ دھرم شالائیں  ہیں جو کینسر کے مریضوں کی رہائش کا انتظام کرتی ہیں۔ ایک باندرہ میں (۳۰۰؍ مریض) پریل میں (۱۵۰؍ مریض ) دادر اور وی ٹی پر (۶۰۰؍ مریض) اورچمبور میں (۱۰۰؍ مریض)۔ ان پانچ دھرم شالاؤں کے علاوہ کچھ خیراتی ادارے ہیں جو اِن مریضوں کو چھت فراہم کرتے ہیں مگر جس اسپتال میں سالانہ ۶۵؍ ہزار مریض آتے ہیں اور فالو اَپ کیلئے سالانہ چار لاکھ مریضوں کو اسپتال آنا پڑتا ہو، وہاں یہ پانچ دھرم شالائیں کیا راحت پہنچا سکتی ہیں؟ چند سال قبل ٹاٹا اسپتال کے ذمہ داروں نے بمبئی میونسپل کارپوریشن سے درخواست کی تھی کہ قریب کے دوفلائی اوور کے نیچے کینسر کے مریضوں کیلئے کمرے بنانے کی اجازت دی جائے مگر ابھی تک اس درخواست پر غور نہیں کیا گیا ہے۔ بالفرض یہ جگہ مل بھی جائے تو ہزار ہا مریضوں کیلئے یہ ناکافی ہوگی۔ بدقسمتی سے اب ایسے مخیر افراد بھی نہیں رہے جو اپنی قوم کیلئے ایسے ’گھر‘ تعمیر کرنے پر راضی ہوں۔  ذرا سوچئے  اگر محمد حاجی صابو صدیق مسافر خانہ تعمیر نہ کرتے تو ان لاکھوں مسلمانوں کا کیا ہوتا جو ملک کے کونے کونے سے ممبئی آکرحج کی سعادت سے بہرہ ور ہوتے ہیں۔ اب تو سارا زور فلک بوس عمارتوں کی تعمیر پر صرف ہونے لگا ہے جس سے کروڑوں کی آمدنی ہوتی ہے۔ ایسے میں کسی سرمایہ دار کو غریبوں کی پریشانی سے کیا غرض؟ پیسے والوں کیلئے پرائیوٹ اسپتال ہیں اور متوسط طبقہ کے افراد  یہاں وہاں  سے قرض  لے کر کسی طرح علاج کروا ہی لیں گے۔ رہی مرکزی اور ریاستی سرکار ، تو انہیں نظام صحت  بہتر بنانے میں کوئی دلچسپی نہیں۔ گاؤں اور قصبوں میں جانے کیلئے ڈاکٹر تیار نہیں ہوتے اور کلینک میںاکثر دوائیاں نہیں ملتیں لہٰذا غریبوں کو آج بھی بڑے شہروں ہی کا رخ کرنا پڑتا ہے۔ ہماری سرکاروں کی ساری توجہ کروڑ ہا روپوں کے مجسمے بنانے میں لگی ہوئی ہے اور ہمارے ہاں عمران خان ایسا کرکٹربھی نہیںجو اپنی شہرت کا فائدہ اٹھاکر کینسر اسپتال بنادے۔ ہمارے گواسکر، تینڈولکر اور کوہلی کو اتنی توفیق نہیں کہ وہ فلاح عامہ کے کام کرنے کیلئے آگے آئیں، نہ کروڑوں کمانے والے اداکاروں اور صنعت کاروں کو غریبوں کا خیال آتا ہے۔ یہ صاحبان عالیشان اپنے من پسند خیراتی اداروں میں عطیات  دے کر مطمئن ہوجاتے ہیں۔ ہوسکتا ہے ٹاٹا اسپتال کی تعریف بھی کرتے ہوں مگر ایک بڑے اسپتال کی تعمیر اوراس کا انتظام سنبھالنے کی ذمہ داری اپنے سرلینا نہیں چاہتے۔ اس لئے جی چاہتا ہے کہ ان سے پوچھیں، کیا ممبئی ایسے بڑے شہرمیں (بلکہ اتنے بڑے ملک میں) ایک ٹاٹا اسپتال کافی ہے؟ چلئے صاحب، آپ اسپتال نہیں بنانا چاہتے مگر کبھی ان مریضوں کا بھی تو سوچئے جو اسپتال کے باہر سڑکوں پر پڑے ہیں۔ ان ہزاروں افراد کا بھی تو سوچئے  جو برسوں  سے بے گھر ہیں، کیا ان بدنصیبوں کیلئے ایک چھت تعمیر کرنے کا خیال بھی آپ کے ذہن میں نہیں آیا؟ کیا اپنی کار میں بیٹھے بیٹھے آپ کی نظر اس فٹ  پاتھ  پربھی نہیں گئی جہاں سیکڑوں بوڑھے ، بچے اور عورتیں بے سروسامان کا شکار ہیں؟
  بمبئی کی آبادی ایک کروڑ تیس لاکھ سے تجاوز کرچکی ہے ، وہاں شیلٹرز ہوم کی تعداد اتنی قلیل ہے کہ شہری انتظامیہ کی بے حسی پر رونا آتا ہے۔  ۲۰۱۱ء کی مردم شماری کے اعداد کے مطابق ممبئی میں تقریباً اٹھاون  ہزار بے گھر ہیں ( جبکہ ایک تخمینے کے مطابق یہ تعداد ۲؍لاکھ تک پہنچتی ہے۔) جو فٹ پاتھ ، فلائی اوور ، ریلوے پلیٹ فارم اور سڑکوں کے Divider پر بے یارومددگار پڑے ہیں۔ کڑاکے کی سردی ہویا موسلادھار بارش ہو رہی ہو، یہ کسی طرح زمین کے اس ٹکڑے کو نہیں چھوڑسکتے ، جو اِن کی واحد (غیرقانونی) ملکیت ہے۔ پولیس والے جبراً ان جگہوں  سے انہیں  ہٹاتے ہیں ۔ آس پاس کے لوگ بھی انہیں مجرم سمجھ کر ان کی شکایتیں درج کراتے رہتے ہیں مگر یہ بدنصیب جائیں تو کہاں جائیں؟ مشترکہ خاندا ن کی ڈوریاں کب کی ٹوٹ چکیں ، بیروزگاری    نے  لوگوں کو کہیں کا نہیں رکھا،  ان کے پاس اتنے پیسے نہیں کہ گھر خریدسکیں، گاؤں کی غربت اور بھکمری شہروں میں ہجرت کرنے پر  مجبور کرتی ہے، سیلاب، قحط  اور زلزلے ایسی قدرتی آفات نے الگ ستم ڈھایا ہے لہٰذا کھلے راستوں پر زندگی کے بغیر دن کاٹ دینے کے علاوہ ان کے پاس کوئی اور راستہ نہیں رہ جاتا۔ بے گھر ہونے کے سبب ان کے پاس نہ راشن کا رڈ ہے نہ آدھار کارڈ ، نہ ووٹرز کارڈ۔ نتیجتاً ان کے  بچے اسکول جا سکتے  ہیں ، نہ ترقی کرسکتے ہیں۔ قسمت سے کوئی چھوٹا موٹا کام مل جائے تو ٹھیک ، ورنہ بھیگ مانگ کر گزارہ کیجئے ۔ 
 ۲۰۱۲ء میں سپریم کورٹ نے ریاستی حکومتوں کو لکھا کہ ہر ایک لاکھ آبادی والے علاقے میں ایک چھوٹا شیلٹرز ہوم قائم کیاجائے جہاں کم از کم ۱۰۰؍افراد رہ سکیں... لیکن اس سلسلے کی تفتیشی رپورٹ نے ۲۰۱۷ء میں سپریم کورٹ کو اطلاع دی کہ ریاستی حکومتیں اس بار بھی غافل ہیں اور گھر بار والوں اور بے گھروں کے درمیان خلیج بڑھتی جارہی ہے۔ ممبئی میں شیلٹرز ہوم کی ضرورت  ہے، وہاں صرف۲۳؍ ہوم ہیں۔  ان میں سے بھی کئی ہومز غیر سرکاری تنظیمیں چلا رہی ہیں۔ بمبئی ایسے بڑے شہر میں تو  باعزت اور شریف شہری بھی جھوپڑپٹیوں  اور بوسیدہ چالوں اورایک ایک کمرے کے مکانات میں ر ہنے کیلئے مجبور ہیں۔اس کیلئے حکومت کو جتنا برا بھلا کہا جائے کم ہے۔ آزادی  کے اتنے برسوں بعد بھی کسی حکوت نے رہائش کے مسئلے پر خاطرخواہ توجہ نہیں دی۔  الیکشن سےقبل سستے مکانات کی تعمیر کے وعدے کئے جاتے ہیں پھر الیکشن کے بعد انہیں سردخانوں میں ڈال دیا جاتا  ہے۔ نتیجے میں غیر قانونی کالونیاں اور غیر قانونی جھوپڑپٹیاں بننے لگتی ہیں۔ جو افراد بے گھر ہوئے، وہ آج تک بے گھر ہیں۔ حکومتوں نے ان کیلئے چھت فراہم کی، نہ انہیں بجلی اور پانی کا کنکشن دیا، مجبوراً انہوں نے فٹ پاتھ ہتھیالی۔ ایک عرصہ گزرجانے کے بعد وہ اس Sub-human  زندگی کے اتنے عادی  ہوچکے ہیں کہ شکایت کرنا بھی چھوڑ دیا۔
  مگر کیا یہ حکومت کی ذمہ داری نہیں کہ اپنے شہریوں کو ایک آرام دہ گھر فراہم کرے۔ ایک ایسا گھر جہاں وہ عزت سے جی سکیں اوران کی ترقی میں کوئی رکاوٹ نہ ہو۔ سپریم کورٹ تو کہتی ہے کہ شیلٹرز ہوم میں بھی پانی اور بجلی ہونی چاہئے، بستر اور پنکھے ہونے چاہئیںاور وہاں رہنے والوں کے ساتھ ایسا سلوک ہو کہ وہ ایک باعزت اور پرسکون زندگی  بسر کرسکیں لیکن شیلٹرز ہوم کے سروے بتاتے ہیں کہ یہاں عو رتیں رہ سکتی  ہیں، نہ بچے اور بوڑھے جو مرد رہ رہے ہیں ، وہ ایسی بری حالت میں ہیں کہ اللہ ہی ان کا محافظ ہے ۔ آج سے ۲۰؍ سال قبل دہلی کے شیلٹرز ہوم میں کچھ پانچ تا دس افراد کی موت  واقع ہوگئی تھی لیکن کسی نے ان کی رپورٹ نہیں کی۔ مظفر پور کے شیلٹرز ہوم کی کہانیاں تو ہنوز تازہ ہیں جہاں ذمہ داروں نے معصوم بچیوں کا برسوں استحصال کیا اوران کے نام پر حکومت سے پیسے لیتے رہے ۔ ممبئی کے بوریولی  پارک میں۷۵؍ ہزار افراد کسی سہولت کے بغیر رہ رہے ہیں اور پتہ چلا کہ پولیس انہیں وہاں سے ہٹا دینا چاہتی ہے۔ ایسے میںکوئی نہیں جانتا کہ یہ اب کہاں رہیں گے؟ ممبئی کے فٹ  پاتھ، سڑکوں کے ڈیوائڈر ، پلیٹ فارم، بس اسٹینڈ ، عمارتوں کے زینوں کے نیچے کی خالی جگہیں اور دکانوں کے باہر کے تختے ، غرض کہ یہ سب بھرچکے ۔ اورکوئی حکومت یہ بتانے پر راضی نہیں کہ یہ بے گھر افراد کل رات کہاں گزاریں  گے؟

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK