جہاں تک گزرے سال میں ادب کی خاص باتوں کا سوال ہے، اس سلسلے میں کہا جا سکتا ہے کہ پچھلے سال ادب میں بڑے نشیب و فراز آئے۔
EPAPER
Updated: January 11, 2026, 1:14 PM IST | Professor Aslam Jamshed Puri | Mumbai
جہاں تک گزرے سال میں ادب کی خاص باتوں کا سوال ہے، اس سلسلے میں کہا جا سکتا ہے کہ پچھلے سال ادب میں بڑے نشیب و فراز آئے۔
۲۰۲۵ء بھی دبے پائوں گزر گیا۔ ہمیں احساس بھی نہ ہوا۔ ایسا لگا ابھی تو نیا سال آیا تھا۔ سال ِ رفتہ نے بھی مختلف رنگ دکھائے۔ ادب کے بہت سے رنگوں کی بارش ہوئی۔ کچھ رنگ ہمیشہ کے لئے بے رنگ ہو گئے۔ اردو زبان کے لاتعداد دشمنوں کی خواہش اور دشمنی کے با وجود، اردو زبان زندہ ہے۔ اردو کے درخت پر نئے گل بوٹے کھل رہے ہیں۔ کچھ پتّے زرد ہو کر ہوا کی زد پہ اُڑ گئے ہیں۔ دراصل زندہ زبانیں مرا نہیں کرتیں۔ اردو ایک زندہ زبان ہے۔ یہ وقتی طور پر دب سکتی ہے، کمزور پڑ سکتی ہے لیکن با لکل ختم نہیں ہو سکتی۔
جہاں تک گزرے سال میں ادب کی خاص باتوں کا سوال ہے، اس سلسلے میں کہا جا سکتا ہے کہ پچھلے سال ادب میں بڑے نشیب و فراز آئے۔ تنقید و تحقیق سے لے کر فکشن، شاعری، خود نوشت سوانح، انشائیہ وغیرہ کی کئی اہم کتابیں منظر ِ عام پر آئیں۔ سیمینار، جلسے جلوس، کتب میلے، جشن، بیت بازی، اجرا، خطبے، مشاعرے وغیرہ کا مسلسل جلوہ رہا۔
یہ سال بڑا نشیب و فراز کا حامل رہا۔ شمس الرحمٰن فاروقی، گوپی چند نارنگ اور شمیم حنفی نے تنقید میں جو نقوش قائم کئے تھے، وہ ہی ادب کا محور بنے رہے۔ قدوس جاوید، تقی عابدی، شافع قدوائی، حقانی القاسمی، سرور الہدیٰ، ناصرعباس نیّر، شمس بدایونی، علی احمد فاطمی، چندر بھان خیال، صغیر افراہیم، اطہر فاروقی، خالد علوی، نگار عظیم، جاوید دانش، شاہد صدیقی، خواجہ اکرام، شہاب ظفر اعظمی، غضنفر، یعقوب یاور، شمس اقبال، رضا عباس نیر، معصوم مراد آبادی، جمال فہمی، نعیم انیس، ابراہیم افسر، محمد مستمر، غالب نشتر، شہناز رحمٰن، شمع اختر کاظمی، شادا ب رشید، قمر صدیقی، نذیر فتح پوری، معین شاداب، علینہ عترت، منصور خوشتر، صفدر امام قادری، استو تی اگروال، ریاض توحیدی، شفیع ایوب، رمیشا قمر، احمد صغیر، مشتاق احمد وانی وغیرہ اُفق اُردو اَور مطلع ادب پر چھائے رہے۔
تنقید میں نئے رجحان کی تلاش کو ایک سمت حاصل ہوئی۔ بہت سے ناقدین نے یہ تسلیم کیا کہ اب نئی صدی آگئی ہے اور نئے نئے موضوعات و مسائل جنم لے رہے ہیں۔ ایسے میں ادب میں کسی نئے رجحان کی ضرورت ہے۔ وہ رجحان نئی ترقی پسندی بھی ہو سکتا ہے اور جدید ترقی پسندی بھی۔ اس تعلق سے راقم کی ایک کتاب ’’ نیا رجحان: جدید ترقی پسندی ‘‘ بھی آئی۔ چھ ماہ کے اندر اس کے تین ایڈیشن آگئے۔ ادب کے گلیاروں میں نئے رجحان کو لے کر بحث تیز ہو ئی۔ اردو دنیا نے بہت سے نشیب و فراز دیکھے۔ پروفیسر قدوس جاوید نے اپنے ایک مضمون میں ما بعد جدیدیت کے خاتمے کا اعلان اور اردو میں نئی ترقی پسندی کی حمایت کی۔ اقبال جیسے شاعر کا متن خرد برد کا شکار ہوا۔ ماہر ِ اقبال، پروفیسر عبد الحق نے اپنے مضمون میں، جو ایوان اردو میں شائع ہوا، اس پرسخت اعتراضات بھی کئے۔
قومی اردو کونسل برائے فروغ ِ اردو زبان اپنی سرگرمیوں سے سرخی میں رہی۔ کونسل کے نئے چیئرمین (اب پرانے ہو گئے) نے قومی کونسل کی بند پڑی اسکیموں کو دوبارہ شروع کیا۔ اردو کے پرستار جھوم اُٹھے۔ جب کونسل کا اشتہار آیا تو اُردو والے شہد کی مکھیوں کی طرح ٹوٹ پڑے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ ہر اسکیم میں تین چار گنا زیادہ درخواستیں آئیں۔ مسودات ہوں، بَلک پرچیز کیلئے کتابیں ہوں یا سیمیناروں کیلئے درخواستیں ہوں۔ ۲۰۲۲ء میں جن لوگوں نے بلک پر چیز اسکیم کے تحت اپلائی کیا تھا انہیں بھی دوبارہ موقع فراہم کیا گیا۔ بہت سے لوگوں نے اپنی جمع شدہ کتاب کی دو کاپی پھر جمع کرادی جو مسترد کردی گئی۔ کتاب اور مسودات لینے میں سختی برتتے ہوئے مرتب کردہ کتابوں یا مسودات کو بھی نامنظور کر دیا گیا۔ کو نسل نے سیمینار بھی خود کرانے کا بیڑا اٹھایا۔ کئی شہروں میں کونسل کی طرف سے سیمینار کرائے گئے۔ کئی بالکل نئے موضوعات پر سیمینار ہوئے۔ کونسل نے کئی بڑے کتب میلے بھی منعقد کئے۔ کشمیر میں منعقدہ چنار کتاب میلے پر جموں کے کچھ لوگوں نے سخت اعتراض کیا۔ علی گڑھ میں کتا ب میلے کا شاندار اہتمام کیا گیا۔ یہ میلہ دس دن تک چلا۔ اس دوران تقریباً ۷۰؍ لاکھ کی کتابیں فروخت ہوئیں جو کشمیر میلے سے دس لاکھ زیادہ رقم کی تھیں۔
اسی طرح پٹنہ، اورنگ آباد اور پونے میں بھی کتاب میلہ ہوا۔ جشن کی صورت ریختہ اور جشن ِ ادب نے بھی ایسے ہی میلوں کا دہلی میں شاندار اہتمام کیا اور اردو کی قوتِ خرید کو ایک بار پھر ثابت کیا۔ یہ الگ بات ہے کہ ریختہ اورجشن ِ ادب کے زیادہ تر بینر اور ہورڈنگس ہندی رسم الخط میں تھے۔ اردو تھی بھی تو بہت چھوٹے سائز میں تھی جس کا شکوہ بے جا نہیں۔
غالب انسٹی ٹیوٹ نے اس سال بھی متعدد پروگرام منعقد کئے۔ یک روزہ سیمینار، عالمی سیمینار، قومی سیمینار، مشاعرے، شام ِ غزل، خطبے، اجرا کی محفلیں، ریسرچ اسکالر سیمینار، ڈرامہ فیسٹیول، اردو کلاسز، اشاعتی پروگرام وغیرہ۔ غرض ایوانِ غالب نے سال بھر اردو کے فروغ میں اپنا کردار ادا کیا۔ اس سال بین الاقوامی غالب سیمینار پریم چند پر منعقد ہو نے جا رہا ہے۔ اس میں عالمی مشاعرہ، ہم سب ڈرامہ گروپ کا ڈرامہ ’’غالب کی واپسی‘‘، شام ِ غزل اور بین الاقوامی سیمینار شامل ہیں۔
اردو اکادمی دہلی نے بھی سال بھر اردو کی محفلیں برپا کیں۔ خاص پروگرام ۲۶ ؍تا ۲۹؍ ستمبر، چہار روزہ ’’نئے پرانے چراغ ‘‘ تھا جس میں روزانہ سیکڑوں ادباء، شعراء اور ناقدین نے حصہ لیا۔ یوم جمہوریہ، یوم ِ آزادی اوریوم ِ اساتذہ پرمشاعرے، شام ِ غزل، اردو ڈرامہ فیسٹیول، ادب ِ اطفال پر انوکھا سیمینار، مو سم ِ گرما کی تعطیلات میں بچوں کے ’’ سمر کیمپ‘‘ داستان گوئی ورکشاپ اور اس کے مظاہرے، وراثت میلہ، رنگ ِ سخن، خطبے، اردو زبان کے کورس۔ اس سال دہلی اردو اکادمی نے چیئرمین نہ رہتے ہوئے بھی اپنی سرگرمیوں کی رفتار کم نہیں ہونے دی۔ اسی طرح مدھیہ پر دیش اردو اکیڈمی بھی فعال رہی اور اردو کے کئی یاد گار پروگرام کرائے۔ ساہتیہ اکادمی نے انعامات کے علاوہ ’ساہتیہ اتسو ‘( دنیا کا سب سے بڑا میلہ ) کتب میلہ، سیمینار، سمپوزیم، افسانہ خوانی، انفرادی شعر خوانی، خطبات وغیرہ پورے ملک میں منعقد کئے۔ ساہتیہ اکادمی نے دوسرے اداروں کے اشتراک سے بھی بہت سی محفلیں برپا کیں۔
ادھر مغربی بنگال اردو اکیڈمی بھی سر خیوں میں رہی۔ سیمینار کے علاوہ بک فیئر، ریاستی اداروں کو سیمینار کیلئے تعاون، مونو گراف وغیرہ شائع کئے۔ مغربی بنگال اردو اکیڈمی نے ساتواں قومی اردو ڈرامہ فیسٹیول، ستیہ جیت رے آڈیٹوریم میں ۲۲؍ اور ۲۳؍ دسمبر کو منعقد کیا جس میں مغل ِ اعظم: ایک تمثیل، غروب طلوع، بیگم جانی کی حویلی، تاج و تخت جیسے عمدہ ڈرامے اسٹیج کئے گئے۔ روح ِ ادب کا فلموں پر ایک خاص نمبر شائع ہوا۔ مہاراشٹر اردو اکیڈمی نے اپنا پچاس سالہ جشن منایا۔ تلنگانہ اور اڈیشہ اردو اکیڈمیز نے بھی اردو کے دامن میں بیل بوٹے ٹانکے۔ ان تمام سرگرمیوں پر اظہار مسرت کے ساتھ یہ کہتے ہوئے افسوس ہوتا ہے کہ بہار، اتر پر دیش اور پنجاب اردو اکیڈمیاں حسب سابق خاموش رہیں۔
ممبئی میں اردو کارواں نے سالہائے گزشتہ کی طرح اس سال بھی ’عشرۂ اردو‘ منایا۔ افتتاحی جلسہ، مختلف موضوعات پر بحث و مباحثہ، اجراءِ کتب، بیت بازی، مشاعرہ، ایجو کیشن ایکسپو اور دیگر تقریبات کی دھوم رہی۔ اس میں بہت سے اردو کالجز کے طلبہ نے حصہ لیا۔ اردو چینل نے شعبۂ اردو، ممبئی یونیورسٹی کے اشتراک سے کئی اچھے پرو گراموں کا انعقاد کیا۔ سہ روزہ ’جشن ِ اردو ‘ منایا گیا۔ اس شاندار جشن میں اردو نواز دوستوں اور طالب علموں نے پُرجوش شرکت کی۔ اس میں مشاعرہ، افسانہ خوانی، موسیقی، خطاطی کی نمائش، ڈرامے، بیت بازی، مذاکرہ، داستان گوئی، آرٹ گیلری اور ورکشاپ، پر فارمنگ کلاسز اور کتاب میلہ کا اہتمام کیا گیا۔ ادارہ گل بوٹے بھی سرگرم رہا۔ اس کے کئی پروگراموں میں ’’جشن بچپن‘ سب سے انوکھا تھا۔ بچوں کا ادب لکھنے والوں نے اپنے تجربات بیان کئے۔ گُل بوٹے کے تحت فاروق سید نے بہت سی کہانیوں اور مجاہدین ِ آزادی کی سوانح کو آڈیو اور ویڈیو کے ذریعہ طا لب علموں تک پہنچایا۔ وہ ’’ آج کی بڑی خبریں ‘‘ کے نام سےخبروں کا ایک چینل بھی کامیابی سے چلا رہے ہیں۔
ادب ِ اطفال پر ایک اور تقریب آل انڈیا ادبِ اطفال سوسائٹی، نئی دہلی اور حیدرآباد سنٹرل یونیورسٹی کے اشتراک سے سہ روزہ سیمینار ’’ اردو اور دیگر زبانوں میں ادبِ اطفال‘‘۱۱ ؍تا ۱۳؍ نومبر منعقد ہوا۔ مانو (حیدرآباد) کے شعبہ ٔ اردو نے بھی کئی اہم خطبے، سیمینار اور پروگرام کئے۔ ممبئی میں کئی یاد گار اردو ڈرامے اسٹیج ہو ئے۔ محمد اسلم پرویز اور اقبال نیازی نے کئی یاد گار ڈرامے پیش کئے۔ دہلی میں ادارۂ ادب اسلامی ہند اور اس کی بہت سی شاخوں نے ملک بھر میں کئی با مقصد سیمینار، مذاکرے، مشاعرے، نعتیہ مشاعرے اور کتابوں کی اجرائی نشستیں منعقد کیں۔ اردو ڈائریکٹریٹ، پٹنہ نے سال بھر بہار کے ادباء و شعراء پر نہ صرف مونو گراف شائع کئے اوررسالہ نکالا بلکہ یک روزہ سیمینار بھی منعقد کئے۔
۲۰۲۵ء کاسال آن لائن پروگراموں کیلئے بھی جانا جائے گا۔ گو کہ اب زیادہ تر آف لائن پروگراموں کا رواج پھر شروع ہو گیا ہے مگر اب بھی بہت سے پروگرام آن لائن ہو تے ہیں۔ ایسے پروگراموں کا ایک بڑا فائدہ یہ ہے کہ بہت سارے ممالک اور شہروں کے لوگ بہ آسانی شریک ہو جاتے ہیں۔ اس نوع کےپروگراموں میں جاوید دانش کا ہفت روزہ پروگرام ’’آوارگی ودھ جاوید‘‘ احتشام نظامی کا ہفتہ واری پروگرام ’’ ہم اور آپ ‘‘، ایو سا کا ہفتہ واری پروگرام ’’ ادب نما‘‘ کے علاوہ شگاگو کی غوثیہ سلطانہ کے بہت سے پروگرام شامل ہیں۔
سال رواں کے دوران آن لائن رسالے بھی منظرعام پر آئے اور مستقل شائع ہوتے رہے۔ اردوگلبن (جدہ)، ترجیحات، اردو ریسرچ جرنل، قرطاس ِادب (نیپال)، دو تین ہفت روزہ اخبارات گھومتا آئینہ (بنگلور)، گشتی آئینہ (ممبئی)، انوارِ قوم ( کانپور) وغیرہ ہیں۔ فیس بک پر بہت سے گروپ اردو سر گر میوں میں مصروف رہے، انڈین مسلم، اردو مشاعرہ، اردو کوَر، نیوز آن لائن، اے آر ٹی وی، ہندوستان لائیو، ساجھی وراثت، ریختہ، نیوز ٹو ڈے اردو، عالمی افسانہ فورم ان میں شامل ہیں۔ عنبر شمیم اور سلمیٰ صنم نے سال بھر ہر روز ادباء و شعراء کے یوم ِ پیدائش اور یوم ِ وفات کے ساتھ ان کا پورا سوانحی خاکہ مع منتخب تخلیقات پیش کیا۔ نوشاد مومن نے پہلے مژگاں گروپ سے بعد میں اپنے نام سے روزانہ کی ادبی، سماجی اور سیاسی خبریں ارسال کیں۔
وہاٹس ایپ پر بھی بہت سے ادارے اپنا کام کرتے رہے۔ یہ سب کسی نہ کاکسی طور پر اردو کے فروغ کا کام کر رہے ہیں۔ ’بزمِ افسانہ‘ گروپ، افسانے کے فروغ میں اہم کردار اداکر رہا ہے۔ اس میں دو دن کے لئے کوئی افسانہ اپ لوڈ ہوتا ہے۔ لوگ تجزیہ اور تبصرہ کر تے ہیں۔ پھر افسانہ نگار اپنی بات کہتا ہے۔ اس کے بانی اور ذمہ دار سلام بن رزاق تھے۔ ان کے انتقال کے بعد معروف افسانہ نگار سید محمد اشرف اس کے ذمہ دار بنے۔ آج کل معروف افسانہ نگار اور ناول نویس پروفیسر غضنفر اس کے ذمہ دار ہیں۔ افسانہ نگار، کتابوں کی دنیا، انڈین افسانہ ٹرسٹ، رسا شناسی، محفلِ یاران اردو، طنز و مزاح، شعرو سخن، عالمی اردو پروفیسرز گروپ، گلشن ِ افسانچہ، سچی دوستی، برائے فروغ ِ اردو زبان، مغربی بنگال اردو اکیڈمی، دیارِ شوق، حلقہ ء ارباب ِ ذوق، افسانچہ نامہ، چراغ ِ ہمیش، انٹر نیشنل مشاعرہ، فنِ افسانچہ اور ایسے بہت سے گروپس کے علاوہ کئی میگزین اور اخبارات کے وہاٹس ایپ کے گروپ موجود ہیں۔
بیت بازی کے روایتی فن کو کئی اداروں نے زندہ رکھا۔ دراصل ہمارے یہاں سے بہت سی اچھی چیزیں ختم ہوتی جارہی ہیں۔ انہی میں سے ایک بیت بازی ہے۔ اس فن کو اردو کارواں (ممبئی)، جشن اردو (ممبئی)، شعبہ اردو (چودھری چرن سنگھ یونیورسٹی)، حامد اقبال صدیقی (ممبئی)، ظفر جامعی (بھیونڈی) کرامت کالج، ممتاز کالج، پروفیسر ریشماں پروین (لکھنؤ) جیسے اداروں اور افرادنے زندہ رکھا ہے۔
اردو کے کئی پبلشرز نے اس سال اردو کی سیکڑوں کتابیں شائع کیں۔ کئی کتاب میلوں میں ان کے بک اسٹال نظر آئے۔ این سی پی یو ایل، ایجو کیشنل پبلشنگ ہائوس، نامک پبلی کیشنز، عرشیہ پبلی کیشنز، ایم آر پبلی کیشنز، کتابی دنیا، کتاب دار، میزان پبلیکیشنز، قاسمی کتب خانہ، جے این کے پبلشرز، رحمانیہ پبلشر ز، میٹر لنک پبلشرز، برائون بکس وغیرہ۔ نامک اور میٹر لنک والوں نے مفت کتاب شائع کر کے ایک نیا اشاعتی پلان اردو والوں کودیا۔ میٹر لنک، عرشیہ اور ایم آر پبلی کیشنز نے خاصی تعداد میں پاکستانی ادب شائع کر کے کتابوں کے شوقین حضرات کے ذوق کی آبیاری کی ہے۔
۲۰۲۵ء میں کئی انعام دیئے گئے۔ ساہتیہ اکادمی کا انتہائی اہم ایوارڈ اس سال جموں کشمیر کے معتبر شاعر پریت پال سنگھ بے تاب کو دینے کا اعلان کیا گیا۔ ساتھ ہی ۲۰۲۴ء کا ایوارڈ پروفیسر عتیق اللہ کی خدمت میں پیش کیا گیا۔ آل انڈیا پوئٹس سلور جبلی ایوارڈ معروف شاعرہ انا دہلوی کو دیا گیا۔ صوفی جمیل اختر ایوارڈ معروف شاعر وسیم بریلوی کو دیا گیا۔ شمیم نکہت فکشن ایوارڈ پرو فیسر طارق چھتاری اور وقار رضوی صحافت ایوارڈصحافی ڈاکٹر اکبر علی بلگرامی کو دیا گیا۔ منظر کاظمی نیشنل فکشن ایوارڈ مشہورافسانہ نگار اشتیاق سعید کو اور منظر کاظمی نیشنل ایوارڈ برائے فکشن تنقید رفیق جعفر کی خدمت میں پیش کیا گیا۔ پروفیسر قمر رئیس ایوارڈ معروف فکشن ناقد پروفیسر صغیر افراہیم کے حصے میں آیا۔ پروفیسر عین الحسن، شیخ الجامعہ، مانو ( حیدر آباد) اور ش ک نظام (جودھپور) کو پدم شری ایوارڈ سے نوازا گیا۔ نصیر الدین ہاشمی عالمی یوم ِ اردو ایوارڈ برائے تحقیق ڈاکٹر ابراہیم افسر(میرٹھ) اور حفیظ میرٹھی عالمی یومِ ِ اردو ایوارڈ برائے نعتیہ شاعری ڈاکٹر خالد مبشر کو دیا گیا۔ پر سا رنگا گلبر گہ یونیورسٹی کی طرف سے معروف ادیبہ اور شاعرہ رمیشا قمر کو ان کی کتاب’’ بات کر کے دیکھتے ہیں ‘‘ کے لئے ’’کرناٹک راجیہ اتسو ایوارڈ‘‘ تفویض کیا گیا۔ صدر شعبۂ اردو، لکھنو یونیورسٹی پروفیسر رضا عباس نیر کو سنبھل میں ڈاکٹر سعادت علی صدیقی ایوارڈ سے نوازا گیا۔ پروفیسر فاروق بخشی کو شعبۂ اردو، چودھری چرن سنگھ یو نیورسٹی کی طرف سے ’’ سر سید قومی ایوارڈ‘‘ برائے ادب پیش کیا گیا۔ پروفیسر عابد حسین حیدری کو کیف فائڈیشن، لکھنؤ کی جانب سے ’’ کیف جلال پوری ایوارڈ‘‘ دیا گیا۔ امیر نہٹوری کو ادارہ خوش رنگ، کلکتہ کی جانب سے علقمہ شبلی ایوارڈ، ڈاکٹر ارشاد سیانوی (میرٹھ) کو امیر النسا ایجو کیشنل اینڈ ویلفیئر فاؤنڈیشن، کڈپہ، آندھرا پر دیش، نے ان کی کتاب’’ دھنورا: ایک تجزیاتی مطالعہ‘‘ کے لئے مولانا ابو لکلام آزاد ایوارڈ سے نوازا۔ ڈاکٹر نعیم انیس کو نم اعظمی ایوارڈسے سر فراز کیا گیا۔
اس سال بہت سی کتابیں شائع ہوئیں۔ نقوش ِ پندار اور اعتراف نامہ (شمع اختر کاظمی)، تصورات و تفہیمات (پروفیسر ابو البرکات)، ادب میں فکر ِ تنقید (صادقہ نواب سحر)، شرح و بسط( تنویر اختر رومانی)، فسانہ بنے گا کل (عبد الصمد)، صدائے نحیف ( پروفیسر ابو سفیان اصلاحی)، نمی رقصم (ڈاکٹر ابرار رحمانی)، لوگ کیا کہیں گے (ڈاکٹر نگار عظیم)، شمع ِ اطہر(سیدہ تبسم ناڈکر)، سید احمد شمیم: ادب کا اعتبار (عظمیٰ سحر)، نیا رجحان: جدید ترقی پسندی ( اسلم جمشید پوری )، ضیائے حنا ( ڈاکٹر عبد الودود قاسمی)، جمہوری اداروں کا زوال (صفدر امام قادری کالم کا انتخاب۔ مرتبہ، قمر الزماں چمپارنی)، رقص ِ انگشت (ڈاکٹر محفوظ عالم)، تکلف بر طرف رکھئے (نیاز احمد آسی)، شاگردانِ آذر (عمر فاروق)، زمزمے (حقی حزیں )، لولاک (ڈاکٹر سید تقی عابدی)، سوئے حرم چلے مسافر (نذیر فتح پوری )، سعید شناسی(پرویز طاہر)، ارمغانِ پر ویز (فیروز مظفر)، مرثیہ و مر ثیے(پروفیسر ناشر نقوی)، دبستانِ میرٹھ کی مر ثیہ گوئی (پروفیسر عابد حسین حیدری)، تفہیم و تجزیہ (ڈاکٹر سیدہ بانو)، قصہ دراصل یہ ہے (ڈاکٹر جاوید انور)، پنڈت رتن ناتھ سر شار: شخص، عہد اور ادبی جہات ( مرتبہ: ڈاکٹر ادریس احمد) افسانہ اور افسانہ نگار (نفیس عبد الحکیم )، تین ستارہ منزل (جہانگیر انس)، بارہ کہانیاں (نذیر فتح پوری )، سانچ کو آنچ نہیں (ڈاکٹر شیخ اکولوی)، زوال (عبد الصمد)، جلتا پہاڑی سیارہ (اختر آزاد)، گردِ سفر (شعیب نظام)، سیندور کی سوگندھ (دیپک بدکی)، جہانِ افسانہ (ڈاکٹر ریاض تو حیدی)، منٹو کے نمائندہ کردار (ڈاکٹر نعیم صدیقی امروہوی)، افسانچہ اور افسانچہ نگار (اسلم جمشید پوری)، محمد علیم اسماعیل بحیثیت افسانہ نگار (فردوس انجم )، اردو فکشن: تفہیم و تجزیہ ( ابراہیم افسر)، ڈاکٹر ریاض تو حیدی: تخلیقی و تنقیدی جہات (ڈاکٹر شاہ فیصل)، کلّو (ثمینہ نذیر)، مقدس گناہ (نینا عادل)، غیر مطبوعہ جیون (شاہد دلاور شاہ)، پانچویں سمت کا مسافر ( سید سعید نقوی)، امرتسر کی بِلّو (سہیل پر واز)، کانگریس ہائوس ( اشعر نجمی)، پرا ئی کوکھ کا درد (ایم مبین )، محمد دارا شکوہ (ڈاکٹر محمد مشتاق تجاوری)، مشاہیر علم و ادب کے خطوط (ڈاکٹر سفیان احمد انصاری)، ادبی آب ِ حیات (جنگ بہادر گوئل)، سیاہ ہیرے (ثمینہ نذیر)، ننگا شاہ (شاداب رشید)، گئودان سے واپسی (اسلم جمشید پوری)، مٹّی آدم کھاتی ہے (حمید شاہد)، مٹی کی دنیا (نسیم انجم)، فکشن تنقید: روایت اور عصری منظر نامہ (ڈاکٹر ارشاد سیانوی)، آتمائوں کے سراب ( راجیو پر کاش ساحر)، جال (ڈاکٹر یاسمین اختر)، اردو فکشن: ایک ناتمام قصہ(علیم اسماعیل)، پانی پہ لکھی کہانی (عاصم بٹ)، شہر مد فون (خالد فتح محمد)، دل کی دنیا (چشمہ فاروقی)، منشی عبد القیوم خاں خطاط، نگینے لوگ، اور چہرے پڑھا کرو (معصوم مرادآبادی)، تراوش ِ قلم (پروفیسر محسن عثمانی ندوی)، چہار باغ اور گلاب (پروفیسر عباس رضا نیر)، رسا فہمی (شہناز قادری)، تجزیاتی تناظر، وحشی سعید: فن اور فروغ ِ ادب کا استعارہ (ڈاکٹرشاہ فیصل )، آ اب لوٹ چلیں (احمد حسنین)، یہ میں ہوں (خود نوشت: ف س اعجاز)۔
سالِ گزشتہ کی مزید کچھ کتابیں جو منظر عام پر آئیں، وہ ہیں : سر حد پار اور تنقیدی رنگ (سیفی سرونجی)، قرطاسِ امانت (باقر امانت خانی کے مراثی) اور ہاتھ ( ہلال نقوی کا مرثیہ) (مرتب: تقی عابدی)، رثائی ادب میں ڈاکٹر تقی عابدی کی تحقیق و تنقید ( سیدہ صاعقہ نقوی)، پروفیسر عابد حیدری کے تحقیقی و تنقیدی مباحث (عباس رضا نیر)، امید افزا (اسد احمد مجدّدی اسد)، مسند فقر و ارشاد (پروفیسر سید ظہیر حسین جعفری)، خدا کے ہوتے ہوئے (عشرت معین سیما)، شکوہ جوابِ شکوہ (اسلم جمشید پوری )، گردِ سفر(عشرت معین سیما)، آبِ رود (ممتاز عر شی)، ایک دھوپ سی ہے (سلمیٰ صنم)، انداز ِ سخن اور (کلیات ِ شاہد رضوی۔ مرتب، رعنا رضوی )، پروفیسر عبد الرحیم قدوائی: شخصیت اور کارنامے (مرتب، فاروق ارگلی )، ترقی پسند تحریک کے ہم سفر (زاہد خان، مترجم حنیف اوّل)، اردو اور کشمیری کے لسانی رشتے اور رابطے (نذیر احمد ملک)، تذکرۂ سخن وراں (رضوان لطیف خان)، میری ادبی تحریریں (محمد شارب)، جنوبی ہند میں اردو طنز و مزاح (ڈاکٹر طیب خرادی)، موج ِ افکار: مشتاق کریمی (مرتب، ڈاکٹر ساجد علی قادری)، ہم عصر اردو افسانہ : تنقیدی تناظر (ڈاکٹر عشرت صبو حی)، پانی کے چراغ ( ڈاکٹر اشہد کریم الفت)، دیوار کے اس پار اور خواب یا حقیقت (ڈاکٹر صابر انصاری )، بہار کے اردو شعرا کی غزلوں میں (ڈاکٹر نو ما کو ثر)، عہد ِ حاضر اور مسلمان (سید سیف الدین اصدق چشتی)، عکس ِ تنقید (ڈاکٹر زر نگار یاسمین)، افکار و اطوار (عطا عابدی کے مضامین۔ مرتب، ڈاکٹر ممتاز فرخ)، پھولی ہوئی لومڑی (غضنفر)، رشید حسن خاں کے انٹرویو ( مرتب ابراہیم افسر)، یادوں کے درمیاں (پروفیسر اخلاق ارشد)، کہت کبیر (فیروز عالم)، اردو زبان و ادب کے فروغ میں ٹی وی کا کردار (ڈاکٹر شمیم اختر)، کتنے منظر (مرتب معین شاداب)، رہبر شناسی (مرتب: ڈاکٹر چندن نقوی)، خاموش لمحوں کی صدا، یہ عشق نہیں آسان یا رب اور خواب پلکوں پہ (فہیم اختر)، پایان ( حمید سہر وردی کی تخلیقات مرتب، رئوف صادق)، ہم اپنے تماشائی (رئوف صادق)، قاضی عبد الستار (ہمایوں اشرف)، معروضاتِ حبیب ( ڈاکٹر معین الدین)، یہ میں ہوں :مارگریٹ، ملائک اور شیاطین، اور بادِ بلا خیز (ترجمہ۔ یعقوب یاور)، شجاع خاور (فاروق ارگلی)، اسلم عمادی ( مرتب، جاوید انور)، مثنوی حرزِ جاں (غضنفر)، تجر بات ِ زیست (پروفیسر شاہینہ رضوی)، فکر ِ تازہ (اشتیاق سعید)، ڈاکٹر محمد پرویز کے نام پچاس خط ( نذیر فتح پوری)، غالب اور میرٹھ (ابراہیم افسر)، ساز ِ دل شکستہ (عارف حسن خان)، بکھرے لمحوں کا مسافر: عبد اللہ ساجد (نذیر فتح پوری )، ابن صفی: کردار نگاری اور نمائندہ کردار (طیب فرقانی)، میرا داغستانِ جدید (ناصر عباس نیّر)، یاد کی دُہرائی (فرخ رضوی)، پس ِ پردہ (ذوالفقار احمد چیمہ)، بیت العنکبوت (ایاز رسول نازکی)، فسانہ بدوش (اخلاق احمد کے افسانے۔ مرتب، عرفان جاوید)، نئی صحافت کی دنیا (صحافت )، غلط (مسلم انصاری)، سفرانہ ( شاعری کا دیوان۔ عمار اقبال)، مذاہب ِ عا لم میں انصاف کا تصور (خواجہ عبد المنتقم)، کیا ہے غزوۂ ہند کی حقیقت (ڈاکٹر حفیظ الرحمٰن)، زمیں جلنے لگی (انور آفاقی)، عطا عابدی :حیات اور شاعری (محمد ضیاء الحق)، بچوں کی پیا ری نظمیں (عطا عابدی)، کتابوں کے ساتھ (ثنا ء اللہ دو گھری)، درد کا آخری طواف (عبد الرئوف کیانی کے افسانے۔ مرتب، تو صیف بریلوی)، کرشنا سوبتی کے تین ناولٹ (ترجمہ۔ محمد عباس)، عارفانہ اورمتصوفانہ اشعار (شمیم طارق)، روز نامہ زمیندار (احمد سعید)، جرم کا زینہ (تنویر اختررومانی)، اردو ادب کے ارتقا ء میں کو لہان کا حصّہ (ڈاکٹر نزہت نثار)، نیم پلیٹ (دانش حمادجاذب)، ذوق ِ سخن (رضوان اورنگ آبادی)، برگ ِ آوارہ (مکرم ادنیٰ عشق آبادی)، گل گشت (فیاض علی نادر)، اردو میں تانیثی ادب (نعیم انیس)، میری کشتی لوٹا دو (ویریندر پٹواری)، شمیم طارق: شخصیت اور علمی ادبی فتوحات (مرتب، معین الدین خاں فلاحی)، گہری چوٹ (افسانچے۔ بشیر احمد تلگامی)، تنقیدی جہات و مطالعات (ڈاکٹر فریدہ تبسم)، دلیپ کمار: ملاقاتیں، یادیں، باتیں (فیصل فاروقی)، امیر خسرو: شخصیت اور فن (ڈاکٹر تمیم احمد وی)، ناجنس اور اسلام (ڈاکٹر محمد رضوان)، تنویر احمد علوی (ثمر جہاں )، چند ادیبوں کے خطوط بنام شمس بدایونی (پروفیسر سید محمد عباس)، کردار کا جنم (قمر جاوید)، ٹھو کر نیاز بیگ (مسعود تنہا)، ڈیجیٹل میڈیا اور اردو زبان و ادب اور مہجری اردو فکشن (خواجہ اکرام الدین)، کائنات ِ نشید (رضا حیدر مخدومی نشیدـ)، لفظوں کا سفر (اکمل شاکر)، للہ الحمد، گلشن، اطفال اور گلدستہ ٔ اطفال(ڈاکٹر یونس غازی)، ٹیپو کی کہانیاں اور میں انڈیا گیٹ ہوں (سراج عظیم)، خواجہ حیدر علی آتش اور ان کا عہد (ڈاکٹر ادریس احمد)، درد میں تیرتے پھول (پرویز مظفر)، پری خانہ (خالد علوی)، چالیس بابا ایک چور (جاوید دانش) اور رسافہمی ( ڈاکٹر شہناز قادری)۔
رسائل: اس سال کئی رسائل طمطراق سے پابندی کے ساتھ شائع ہوتے رہے۔ آج کل، ایوانِ اردو، امنگ، اردو دنیا، خاتون دنیا، بچوں کی دنیا، فکر و تحقیق، امروز، سیما، سب رس، ادب و ثقافت، شگوفہ، انشاء، فکر و تحریر، مژگاں، ادبی دنیا، جہان ِ اردو، افسانہ نما، اردو جرنل، ہماری آواز، دستک، فروغ ِادب، روحِ ادب، زبان و ادب، میراث، گل بوٹے، ساغر ِ ادب، اردو بک ریویو، بھاشاسنگم، استفسار، جامعہ، ادب گاؤ ں، قومی زبان، ادب لطیف، انتساب، چہار سو، ادبی نشیمن، چراغ ِ رہ گذر، عالمی زبان، رنگ، ہندوستانی زبان، پیش رفت، دربھنگہ ٹائمز، اردو ادب، تمثیل، خبر نامہ، اکادمی، پرواز ِ ادب، جدید فکروفن، حجاب، اچھا ساتھی، الحمرا، بے باک، تہذیب الاخلاق، فکر و نظر، ورثہ، غالب نامہ، نگینہ، ترسیل، ارتعاش، اثبات، زبان و بیان، افکارِ بصیرت، انتساب، عالمی انتساب، مکالمہ، اجراء، لوح ِ ادب، زیست، ادبی دنیا، ہمدرد، اذکار، سرگزشت اور دیگر۔
بند یا کبھی کبھی شائع ہونے والے رسائل: سال ِ گذشتہ کے دوران بہت رسالے بند ہو گئے، بعض کئی شماروں کی عدم اشاعت کے بعد شائع ہوئے۔ ایسے رسالوں میں نیا دور، صدف، تحقیق، کاروانِ ادب، اسباق، ادبِ عالیہ، کاوش، عالمی اردو ادب، تمثیل ِنو، گلبن، ادب سلسلہ، عالمی ادبستان، اردو نامہ، عالمی فلک، شیرازہ، نئی قدریں، جمنا تٹ، وغیرہ۔
اردو روزناموں کا حال اطمینان بخش نہیں کہا جاسکتا۔ ہندوستان گیر پیمانے پر صرف روز نامہ ’’ انقلاب ‘‘ اور روز نامہ’’ راشٹر یہ سہارا ‘‘ تھے، جن کے مختلف شہروں سے ایڈیشن شائع ہوا کرتے تھے۔ اب راشٹریہ سہارا کے بہت سے ایڈیشن بند ہو گئے۔ قومی سطح پر اب ملٹی ایڈیشنز کے ساتھ صرف روزنامہ انقلاب ہے۔ ویسے کئی اخبار ہیں جن کے کئی کئی ایڈیشن شائع ہو رہے ہیں۔ ہمارا سماج، قومی تنظیم، فاروقی تنظیم، سیاسی تقدیر، سیاسی افق، عوامی نیوز، نیا نظریہ، صحافت، اخبارِ مشرق، سچ کی آوازوغیرہ۔ بہت سے اخبار اپنے اپنے علاقوں میں خاصی تعداد میں شائع ہو رہے ہیں۔ سیاست، سالار، آگ، اودھ نامہ، ممبئی اردو نیوز، اردو ٹائمز، منصف، الحیات، جدید بھارت، ہندسماچار، اڑان، تسکین، لازوال، اعتماد، ندیم، کشمیر عظمی جنگ، تعمیل ِ ارشاد، مشرق، عقاب، فجر، آفتاب، روشنی، عمارت، تاثیر، وغیرہ۔ ہفت روزہ اخبارات میں ہماری زبان، گواہ، تنویر ادب، انصا ری ٹائمز، انوارِ قوم وغیرہ شامل ہیں۔
۲۰۲۵ میں ہم سے بہت سے لوگ ہمیشہ کیلئے جدا ہو گئے۔ ان کا ادب ہمیں ان کی یاد دلا تا رہے گا۔ انیس رفیع، شاہد مہدی، قاسم خورشید، پروفیسر زبیر حسن، ڈاکٹر ستیہ پال آنند، چودھری محمد نعیم، پرو فیسر آصفہ زمانی، اقبال دانش، عبد المجید خان مجید، خالد ندیم، شاکر ادیبی، قاضی علی ناصر، عبد الاحد فرہاد، مکرم ادنیٰ عشق آبادی، عبد السلام راجن، تشنہ کانپوری، ذوالفقار احمد نقشبندی، عرفان بنارسی، شمیم احمد قاسمی، نسیم درانی، عزیز بلگامی، نجم عثمانی، احمد نیاز، خورشید اختر فرازی، عارفہ سید، جاوید قاسم، کرن دیپ وغیر ہم۔ خدا ان کی مغفرت فرمائے اور اُن کے درجات بلند ہوں ۔