Inquilab Logo Happiest Places to Work

کامیاب طلبہ کی کامیابی کا جشن

Updated: May 10, 2026, 1:40 PM IST | Inquilab News Network | mumbai

بارہویں کے نتائج آچکے تھے، دسویں کے بھی آچکے ہیں ۔ ہم چونکہ ممبئی میں ہیں اس لئے ممبئی کی بات کرتے ہیں کہ نہ جانے کیوں ممبئی بورڈ نے بورڈ ٹاپ کرنے اور ان کے ساتھ سبجیکٹ ٹاپ کرنے والوں کی نشاندہی اور اپنے دفتر بلا کر اُن کا اعزاز کرنے کی روایت کو ترک کردیا۔

INN
آئی این این
بارہویں   کے نتائج آچکے تھے، دسویں   کے بھی آچکے ہیں  ۔ ہم چونکہ ممبئی میں   ہیں   اس لئے ممبئی کی بات کرتے ہیں   کہ نہ جانے کیوں   ممبئی بورڈ نے بورڈ ٹاپ کرنے اور ان کے ساتھ سبجیکٹ ٹاپ کرنے والوں   کی نشاندہی اور اپنے دفتر بلا کر اُن کا اعزاز کرنے کی روایت کو ترک کردیا۔ اس کی وجہ سے اُس خوشی پر اوس پڑگئی جو ٹاپرس کے نام جان کر ہوتی تھی۔ اس سے ایک نقصان یہ بھی ہوا کہ ٹاپرس کے بارے میں   معلوم نہیں   پڑتا کہ انہوں   نے یہ اعزاز تک پہنچنے کیلئے کیا کیا جتن کئے، کیسے پڑھائی کی، اُن کا پڑھائی لکھائی کا انداز کیا تھا اور وہ کس خاندان سے تعلق رکھتے ہیں  ۔ 
جن لوگوں   نے ٹاپرس کا یہ دور دیکھا ہے گواہی دینگے کہ اول، دوئم اور سوئم آنے والے طلبہ کے بارے میں   جان کر خاصا جوش و خروش پیدا ہوتا تھا۔ یاد ہوگا وہ دور جب شولاپور کے تنویر منیار نے مہاراشٹر فتح کیا تھا۔ وہ اس ریاست کے تمام ایس ایس سی بورڈز میں   اول آئے تھے۔ اگر اُس وقت بھی ایسا ہی نظم ہوتا جیسا کہ بورڈ نے اس وقت اپنا رکھا ہے تو کیا ’’جشن تنویر منیار‘‘ کا موقع ملتا؟ قارئین جانتے ہیں   کہ کس طرح ریاست کے الگ الگ شہروں   میں   تنویر کیلئے تہنیتی جلسے منعقد کئے گئے، انہیں   انعام و اکرام سے نوازا گیا، اُن کے والدین اور اساتذہ کو مبارکباد پیش کی گئی۔ اس کا بہت بڑا فائدہ یہ ہوا تھا کہ بعد کے دور میں   ایس ایس سی کرنے والے لڑکے لڑکیوں   کا حوصلہ بلند ہوا، اُن کو تعلیمی ہدف ملا، تنویر جیسا بن کر دکھانے کا اشتیاق پیدا ہوا اور بعد کے برسو ں   میں   ایس ایس سی نتائج پر اس کے نہایت خوشگوار اثرات مرتب ہوئے۔
اب چونکہ ایس ایس سی بورڈ کی جانب سے ٹاپر کا اعلان نہیں   ہوتا اس لئے یہ فیصلہ کرنا مشکل ہوتا ہے کہ کون بورڈ میں   اول ہے اور کون تمام بورڈوں   میں   اول۔ مگر ہم سماجی و ملی تنظیموں   سے کہنا چاہیں   گے کہ نمایاں   کامیابی سے ہمکنار ہونے والے طلباء و طالبات کی تہنیت اور حوصلہ افزائی کی جو روایت تنویر منیار کے دور سے معاشرہ میں   قائم ہوئی تھی اور جو بلال مستری نیز زریں   انصاری یا بعد کے اول آنے والوں   کیلئے برقرار رکھی گئی تھی اُسے برقرار ہی رہنا چاہئے۔ کسی طالب علم کو انعام و اکرام حاصل کرتا ہوا دیکھ کر دیگر طلبہ میں   اُن جیسی کارکردگی کے مظاہرے کی خواہش بیدار ہوتی ہے۔ جتنے زیادہ جلسے ہوتے ہیں   اُتنا ہی حوصلہ طلبہ کو ملتا ہے۔ انعام دینے والے اُس خوشی کی گہرائی کو نہیں   سمجھ سکتے جو انعام پانے والے کو ہوتی ہے۔ ہمیں   بھی اندازہ نہیں   ہے مگر احساس ہوتا ہے کہ انہیں   غیر معمولی خوشی ملتی ہے جو یادگار بن جاتی ہے، تصویروں   کے البم میں   سجتی ہے اور اس طرح ماضی کا سنہرا ورق بن کر اُن کی زندگی کو خوشگوار احساس سے دوچار کرتی رہتی ہے۔ جن تنظیموں   اور تعلیمی اداروں   نے تنویر اور بعد کے ٹاپرس کے لئے تہنیتی جلسے منعقد کئے گئے تھے وہ بھی تسلیم کریں   گے کہ وہ دور سنہرا تھا۔ اسی لئے ہم نے کہنے کی کوشش کی کہ جو دور اس وقت ہے اُسے بھی سنہرا بنایا جاسکتا ہے اگر ہر شہر اور ہر علاقے کے نمایاں   طور پر کامیاب ہونے والے ایس ایس سی اور ایچ ایس سی کے طلبہ کیلئے فراخدلی کے ساتھ تہنیتی جلسے منعقد کئے جائیں  ۔ ایسے جلسے فروغ تعلیم میں   معاون ہوتے ہیں  ۔
مگر نام و نمود سے بچنے کی کوشش بھی ضروری ہے۔ طلبہ کا تہنیتی جلسہ طلبہ کیلئے ہو، وہ مہمانوں   کے استقبال کا پلیٹ فارم اور طویل تقریروں   کے سبب سیاسی نعرہ نہ بن جائے جیسا کہ عموماً ہوتا ہے۔ اس سے جشن کی روح متاثر ہوتی ہے۔ 
education Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK