Inquilab Logo Happiest Places to Work

ایس ایس سی میں کامیاب جامعہ کی طالبات گریجویشن کی بھی خواہاں

Updated: May 10, 2026, 9:51 AM IST | Saeed Ahmed Khan | Mumbai

جامعہ فقیہۃ البنات کی کامیاب ہونے والی ۱۸؍ طالبات میں سے ۷؍نے انگلش میڈیم سے امتحان دیا ہے۔

Students of Jamia Faqeeh-e-Banat showing their SSC results. Photo: INN
جامعہ فقیہۃ البنات کی طالبات ایس ایس سی کا رزلٹ دکھاتے ہوئے۔ تصویر: آئی این این

عالمیت کرنے والی طالبات نے ایس ایس سی میں نمایاں کامیابی حاصل کرتے ہوئے اپنی صلاحیت کا لوہا منوایا ہے۔ وہ اس بات کی خواہاں ہیں کہ عالمیت اور فضیلت کے ساتھ محض ایس ایس سی تک ان کا عصری علم محدود نہ رہے وہ اس میدان میں مزید آگے بڑھیں اورگریجویشن کریں۔ ایس ایس سی میں نمایاں کامیابی کرنےوالی ایسی ۱۸؍ طالبات کا تعلق جامعہ فقیہۃ البنات (مالونی) سے ہے۔

اس فہرست میں ۷؍ طالبات جامعہ رحمانیہ کاندیولی کی ہیں۔ ان میں۵؍ فاضلہ ہیں جبکہ ۲؍ طالبات عالمیت کررہی ہیں۔ جامعہ رحمانیہ کے ۵؍طلبہ نے بھی کامیابی حاصل کی ہے۔ اس میں۲؍ طلبہ حافظ ہیں اور فی الوقت وہ عربی چہارم میں پڑھ رہے ہیں ۔ ایک طالب علم عربی دو م میںہے جبکہ۲؍ فضیلت کرچکے ہیں۔ جامعہ کے طلبہ کا ایس ایس سی امتحان دینے والا یہ ۸؍واں بیچ تھا ۔الجامعہ فقیہۃ البنات کی ۲۵؍ میںسے ۷ طالبات ایسی ہیں جنہوں نے انگلش میڈیم سے ایس ایس سی امتحان پاس کیا ہے۔ ان میں شفاء عرفان انصاری، آفرین نسیم شیخ اور سدرہ قاسم شیخ وغیرہ نمایاں کامیابی حاصل کرنے والوں میں شامل ہیں۔ 

یہ بھی پڑھئے: ایس ایس سی امتحان میں بی ایم سی اسکولوں کا نتیجہ ۰۸ء۹۲؍ فیصد رہا

ادارہ کے ذمہ دار شاہد عرشی سے یہ پوچھنےپر کہ سبھی طالبات نے کامیابی حاصل کی ہے تو انہوں نےبتایا کہ ۷؍ طالبات ایک مضمون میں فیل ہوگئیں،وہ جولائی میں دوبارہ امتحان دیںگی، ۱۸؍طالبات نے نمایاں کامیابی حاصل کی ہے۔ امسال طالبات کا یہ دوسرا بیچ تھا ، ۲۰۲۵ء میں ۱۳؍ طالبات نے کامیابی حاصل کی تھی۔‘‘

انہوںنے یہ بھی بتایاکہ’’ اہم بات یہ ہے کہ تمام طالبات دینی اور عصری دونوں علوم سے آراستہ ہونے اور آگے بڑھنے کی خواہاں ہیں۔وہ چاہتی ہیںکہ ایک جانب جہاں ان کے سینے میں قرآن وسنت کا علم ہو وہیںدوسری جانب وہ عصری علوم میںبھی اپنی انفرادی شناخت قائم کرسکیں تاکہ وہ آنے والی نسلوں کی دونوں علوم کے حوالے سے رہنمائی اورتربیت کرسکیں۔

کامیاب ہونے والی ان میں کئی طالبات نے اس عزم کااظہار کیا کہ’’ اگر جامعہ کی جانب سے ان کی آگے بھی رہنمائی کی جائے تو وہ گریجویشن بھی کریںگی تاکہ ایک جانب وہ عالمہ ہوں تو دوسری جانب گریجویٹ بھی۔موجودہ وقت میںاس کی اشد ضرورت محسوس کی جارہی ہے ۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: جنوبی ممبئی میں دوسرے دن بھی پانی سپلائی بند ہونے سے مکین بے حال

جامعہ رحمانیہ کاندیولی کے سربراہ مولانا الطاف رحمانی کے مطابق ’’ جامعہ میں طلبہ کی ایس ایس سی اور ایچ ایس سی امتحان میںکامیابی کےلئے پورے سال باقاعدگی سے تربیت کی جاتی ہے ۔ تعلیم کے تعلق سے ایسا نظام الاوقات ترتیب دیاگیا ہے کہ دونوں علوم کےحصول میں توازن قائم رہے اورطلبہ پرزیادہ بوجھ نہ ہو۔خدا کا شکر ہے کہ اس کا ہرسال بہتر اورمثبت نتیجہ برآمد ہورہا ہے۔‘‘ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK