حکومت نے کم و بیش ایک ماہ احتجاج کرنے والے طالب علموں کے مطالبات تسلیم کرلئے مگر ان کے تحمل کو تسلیم نہیں کررہی ہے۔
EPAPER
Updated: July 28, 2026, 4:40 PM IST | Mumbai
حکومت نے کم و بیش ایک ماہ احتجاج کرنے والے طالب علموں کے مطالبات تسلیم کرلئے مگر ان کے تحمل کو تسلیم نہیں کررہی ہے۔
حکومت نے کم و بیش ایک ماہ احتجاج کرنے والے طالب علموں کے مطالبات تسلیم کرلئے مگر ان کے تحمل کو تسلیم نہیں کررہی ہے۔ ایک ماہ کے مسلسل احتجاج کے دوران انہوں نے یہ احساس دلوایا کہ نوجوانوں کے بارے میں جو کہا جاتا ہے کہ وہ جوش میں ہوش کھو بیٹھتے ہیں تو پوری تحریک کے دوران کہیں ایسا نہیں ہوا کہ انہوں نے ہوش کھویا ہو۔ اس نکتے کو بڑی خوش اسلوبی سے انڈیا ٹو ڈے کے رپورٹر روہت کمار سنگھ نے بیان کیا ہے۔ روہت نے نیپال کے طالب علموں کے احتجاج اور ہندوستان کے طالب علموں کے احتجاج کا موازنہ کیا اور کہا کہ انہوں نے نیپال کے واقعات کا کھٹمنڈو اور بیر گنج سے کوریج کیا تھا جبکہ ہندوستان میں طالب علموں کے احتجاج کا پٹنہ سے کوریج کیا ہے۔ روہت کے بقول جب وہ نیپال کے حالات کی رپورٹنگ کیلئے کھٹمنڈو پہنچے تو جگہ جگہ سے دھواں اُٹھ رہا تھا، سڑکوں پر جلی ہوئی موٹر گاڑیاں تھیں، بار بار تشدد پھوٹ پڑتا تھا، سیکوریٹی اہلکاروں کو ایک جگہ سے دوسری جگہ دوڑنا پڑتا تھا، نیپال میں عوامی املاک پر حملے ہوئے تھے، پارلیمنٹ اور سپریم کورٹ کے بعض حصوں کو نقصان پہنچایا گیا تھا، ٹیلیفون ایکس چینج اور میونسپل عمارتوں کو نذر آتش کیا گیا تھا، سیاست دانوں کے مکانات حتیٰ کہ وزیر اعظم اور صدر کی رہائش گاہوں کو غم و غصہ کا نشانہ بنایا گیا تھا، سرکاری دفاتر بشمول بدعنوانی مخالف کمیشن کے دفتر پر حملہ ہوا، وغیرہ۔ اس کے برخلاف ہندوستان میں طالب علموں کا احتجاج، مظاہرہ گاہوں تک محدود رہا، عوامی املاک کو نقصان نہیں پہنچایا گیا، پولیس سے ان کی بھڑنت ہوئی مگر مظاہرین تخریب سے دور رہے۔
یہ بھی پڑھئے: طلبہ کے مظاہروں میں مثبت رجحانات
مذکورہ رپورٹ میں ہندوستانی طلبہ کی اسلئے بھی ستائش کی گئی ہے کہ انہوں نے عوامی حمایت حاصل کرنے کیلئے بینروں، پوسٹروں، میمز وغیرہ کا سہارا لیا، اپنی تخلیقی صلاحیتوں پر انحصار کیا اور مظاہروں کو پُرامن رکھا۔ انہوں نے بھوک ہڑتال کی اور خود کو اذیت میں ڈالا مگر کسی کو ایذا نہیں پہنچائی۔ شہر در شہرمظاہروں میں طلبہ کا پُرامن رہنا واضح کرتا ہے کہ اس ملک کے نوجوان طبقہ کو خود پسند، تفریح پسند (چِل کرنے والا)، کاہل، جدید آلات کا قیدی اور غیر سنجیدہ کہنا شاید پختہ عمر کے لوگوں کی بدگمانی تھی۔
اتنے بڑے احتجاج سے ثابت ہوچکا ہے کہ پیش رو نسلوں کی طرح ملک کی نئی نسل بھی گاندھی جی کے نظریہ ٔ عدم تشدد (اہنسا) پر یقین رکھتی ہے اور صرف یقین نہیں رکھتی، اس پر عمل بھی کرتی ہے اور اس نے اپنے عمل سے یہ ثابت بھی کردیا ہے۔ اس نسل کو زود رنج سمجھا گیا تھا مگر زود رنجی سے زیادہ اس میں بذلہ سنجی ہے۔ اس نے اپنی برہمی کو طنز و مزاح کے پیرائے میں ظاہر کیا اور ہنسی ہنسی میں باور کرا دیا کہ وہ سیاسی و سماجی مسائل و معاملات کا نہایت سنجیدگی سے جائزہ لیتی ہے اور ان پر اس کی رائے بھی ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ پولیس پر پتھراؤ کا جو الزام طلبہ پر لگا وہ تفتیش طلب ہے کیونکہ طلبہ کو اس سے انکار ہے۔ غیر جانبدارانہ تفتیش ہو تو معلوم ہوگا کہ کیا طلبہ نے واقعی ایسی کوئی حرکت کی۔ اگر ایسا ہوا بھی ہے یہ استثناء ہوگا کیونکہ مظاہرہ گاہوں سے کوئی خبر ملی بھی ہے توپولیس کے لاٹھی چارج، آنسو گیس اور فائرنگ سے متعلق ہے، طالب علموں کے ہوش کھو بیٹھنے کی خبر نہیں ملی ہے ۔