دہلی کا جنتر منتر ہو یا ملک کی کوئی اور مظاہرہ گاہ، طلبہ کے احتجاج کی کئی اہم خوبیوں میں سے ایک یہ تھی کہ ہر جگہ ہر فرقے اور طبقے کے لوگ نوجوانوں کا حوصلہ بڑھانے کیلئے شریک ہوئے۔
EPAPER
Updated: July 27, 2026, 1:26 PM IST | Mumbai
دہلی کا جنتر منتر ہو یا ملک کی کوئی اور مظاہرہ گاہ، طلبہ کے احتجاج کی کئی اہم خوبیوں میں سے ایک یہ تھی کہ ہر جگہ ہر فرقے اور طبقے کے لوگ نوجوانوں کا حوصلہ بڑھانے کیلئے شریک ہوئے۔
دہلی کا جنتر منتر ہو یا ملک کی کوئی اور مظاہرہ گاہ، طلبہ کے احتجاج کی کئی اہم خوبیوں میں سے ایک یہ تھی کہ ہر جگہ ہر فرقے اور طبقے کے لوگ نوجوانوں کا حوصلہ بڑھانے کیلئے شریک ہوئے۔ کثرت میں وحدت کے ان نظاروں کی تعداد حالیہ برسوں میں کم ہوتی جا رہی تھی مگر اس احتجاج نے وطن عزیز کی اس سب سے بڑی خوبی کو نئی قوت اور طاقت عطا کی جس کا نتیجہ تھا کہ فرقہ پرستی دو نہیں دس قدم پیچھے ہٹنے پر مجبور ہوئی۔ اس دوران ’’ہندو مسلم‘‘ نہیں ہوا بلکہ ہوا یہ کہ ’’ہندو مسلم‘‘ کرنے والوں کی شامت آگئی۔ ایسی ایسی صلواتیں سنائی گئیں کہ انہیں چھٹی کا دودھ یاد آگیا ہوگا۔
یہ بھی پڑھئے: شاباش نوجوانو! منوا لیا خود کو!
اس دوران ایک اور طبقے کی درگت بنی۔ یہ تھا حکومت کی ہمنوائی کرنے والا وہ صحافتی طبقہ جو گودی میڈیا کہلاتا ہے۔ یہ اپنی حرکتوں سے باز نہیں آیا اور طلبہ کے احتجاج کا کوریج تو کرتا رہا مگر اپنے انداز میں، احتجاج کو الگ رخ دیتے ہوئے اور ناظرین کو ایک بار پھر یہ ثبوت فراہم کرتے ہوئے کہ یہ جانبدار میڈیا ہے۔ انا ہزارے کے انشن کا کوریج یاد کیجئے اور جنتر منتر پر سونم وانگ چک نیز نیہا، آمین اور اشیش کے انشن کا حالیہ کوریج سامنے رکھئے، زمین آسمان کا فرق دکھائی دے گا۔
مگر طلبہ کو گودی میڈیا کے کوریج کی فکر نہیں تھی، وہ اپنی ذہانت اور صلاحیت نیز جائز سوالات اور پُرامن جمہوری احتجاج کے ذریعہ عوام و خواص کی توجہ مرکوز رکھنے میں غیر معمولی حد تک کامیاب ہوئے اور گودی میڈیا کو ٹھینگا دکھاتے رہے۔ اس میں عوام کی حمایت نے بھی بڑا کردار ادا کیا۔ ایک ویڈیو میں ہم نے دیکھا، مظاہرہ گاہ پر کیمرہ اور مائک دیکھ کر کچھ نوجوان رُکے، جیسے ہی مائک ان کی جانب بڑھا ایک طالبہ ٹھٹک گئی پھر پوچھا آپ گودی میڈیا سے تو نہیں؟ کافی لوگوں کو شکایت ہوتی ہے کہ انہیں گودی میڈیا کور نہیں کرتا۔ جنتر منتر اور ملک بھر کی مظاہرہ گاہوں میں کسی نے یہ فکر کی ہی نہیں کہ کوریج کیا جا رہا ہے یا نہیں۔ لوگ خود ہی ویڈیو بنا بنا کر سوشل میڈیا کے سپرد کرتے رہے اور احتجاج چلتا رہا۔ تجربہ کار صحافیوں کی کمی یوٹیوب چینلوں پر موجود صحافیوں نے نہایت عمدگی سے پوری کی۔ الیکٹرانک چینلوں کو سمجھ لینا چاہئے کہ اب انہیں کوئی نہیں پوچھتا۔ ان کے چینل چھوڑ کر خبر اور تجزیہ کیلئے عوام یوٹیوب چینل دیکھ رہے ہیں اور پسند کررہے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: طاقت کے بعد متانت
طلبہ کے احتجاج کے دوران چونکا دینے والی یہ حقیقت بھی سامنے آئی کہ ان نوجوانوں میں لاگ لپیٹ نہیں، بے باکی ہے۔ یہ مصلحت و منافقت سے دور ہیں۔ یہ جیسا سوچتے ہیں ویسا ہی بولتے ہیں اور جیسا بولتے ہیں ویسا ہی سوچتے ہیں۔ باخبری ان کی طاقت ہے جو انہیں حوصلہ دیتی ہے۔ ان میں فرقہ اور ذات کا امتیاز نہیں ہے۔ پھر انہیں یہ علم بھی ہے کہ سیاست ان کو تقسیم کرنا چاہتی ہے مگر وہ ملک کی سیاست کو یہ موقع نہیں دینا چاہتے۔ یہ بڑا تعمیری رجحان ہے جس کا بیش قیمت نمونہ جنتر منتر اور ملک کے دیگر مظاہروں میں نمایاں تھا۔ ان مظاہروں کے پلے کارڈ، بینراور پوسٹر دیکھ لیجئے۔ ان پر کیا کچھ نہیں لکھا گیا۔ ان سے مجموعی تاثر یہی ملا کہ یہ نوجوان ملک و قوم کا بڑااثاثہ ہیں۔ یہ کافی آگے جا سکتے ہیں اگر انہیں پڑھنے اور ترقی کرنے کا سازگار ماحول فراہم کیا جائے اور پیپر لیک کے ذریعہ ان کا مستقبل لیک نہ کیا جائے۔