Inquilab Logo Happiest Places to Work

کینٹ کا استعفےٰٹرمپ کو بھاری پڑے گا!

Updated: March 19, 2026, 10:22 AM IST | Inquilab News Network | Mumbai

اب یہ صاف ہوچلا ہے کہ ٹرمپ، ایران مخالف جنگ سے عاجز آچکے ہیں جس میں وہ اسرائیل کی محبت اور نیتن یاہو کی دوستی میں ’’مبتلا‘‘ ہوکر شامل ہوئے مگر اب حالات کچھ ایسے ہوگئے ہیں کہ اُنہیں کوئی اُمید بر آتی اور کوئی صورت نظر آتی دکھائی نہیں دے رہی ہے۔

Joseph Kent.Photo:INN
جوزف کینٹ۔ تصویر:آئی این این
اب یہ صاف ہوچلا ہے کہ ٹرمپ، ایران مخالف جنگ سے عاجز آچکے ہیں جس میں وہ اسرائیل کی محبت اور نیتن یاہو کی دوستی میں ’’مبتلا‘‘ ہوکر شامل ہوئے مگر اب حالات کچھ ایسے ہوگئے ہیں کہ اُنہیں کوئی اُمید بر آتی اور کوئی صورت نظر آتی دکھائی نہیں دے رہی ہے۔ اُن کیلئے مشکل یہ ہے کہ خود تو جنگ روکنے پر آمادہ (مجبور) ہیں بھلے ہی اُس کا اظہار نہ کررہے ہوں، مگر نیتن یاہو کے آمادہ نہ ہونے کی وجہ سے اُنہیں بھی شدید مخالفت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ 
کیا آپ سمجھتے ہیں کہ امریکہ کے دہشت گردی مخالف دستے کے سربراہ (این سی ٹی سی کے ڈائریکٹر، نام  جو کینٹ) کے استعفے سے ٹرمپ کا کچھ نہیں بگڑا؟ یہ استعفیٰ ٹرمپ کی غیر معمولی فضیحت کا سبب بنا کیونکہ کینٹ کو خود اُنہوں نے منتخب کیا تھا۔  اُن کی تقرری کے وقت، ۳؍ فروری ۲۵ء کو، طویل پیغام کے ذریعہ ٹرمپ نے اُنہیں خوش آمدید کہا اور اس موقع پر بیان دیا تھا کہ کینٹ کی اہلیہ دہشت گردانہ حملے میں فوت ہوئیں اور کینٹ اُن کے ورثہ کی حفاظت کیلئے دہشت گردی کے خلاف جدوجہد میں پیش پیش ہیں۔ یہ ستم ظریفی دیکھئے کہ کینٹ استعفےٰ دینے سے قبل تک بہت اچھے تھے مگر جیسے ہی اُنہوں نے استعفےٰ دیا ٹرمپ کا سُر بدل گیا اور ایک اہم افسر غیر اہم ہوگیا۔ ٹرمپ کا یہ کہنا عجب ہے کہ اچھا ہی ہوا وہ چلے گئے۔ اگر ’’اچھا ہوا‘‘ تو یہ کیوں نہیں بتایا کہ کیا اچھا ہوا ہے اور کینٹ کیوں بُرے لگنے لگے تھے؟ 
حقیقت یہ ہے کہ کینٹ نے اپنے باس ٹرمپ کیلئے سخت مشکل پیدا کردی ہے کیونکہ استعفے کی وجہ، جو اُنہوں نے بیان کی، ٹرمپ کو جھنجھلاہٹ میں مبتلا کرنے والی ہے۔ یہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ اُنہوں نے ٹرمپ کے ضمیر کو (اگر وہ زندہ ہے تو) چیلنج کیا ہے۔ اپنے استعفے میں کینٹ نے جو کچھ کہا اس کا مفہوم یہ ہے کہ ’’ ایران کے خلاف جنگ ضمیر پر بوجھ ہے، یہ جنگ ہونی ہی نہیں چاہئے تھی کیونکہ ایران نے ایسا کچھ نہیں کیا تھا کہ اُسے جنگ کے میدان میں کھینچا جاتا۔ ایران ہمارے (امریکہ کے) لئے خطرہ نہیں ہے اور یہ صاف ہے کہ ہم اس جنگ میں اسرائیل اور امریکہ میں اس کی طاقتور لابی کے سبب کودے ہیں۔‘‘ 
 
 
ظاہر ہے کہ یہ جملے ٹرمپ کو آئینہ دکھانے اور امریکہ نیز پوری دُنیا کے سامنے یہ واضح کرنے کیلئے کافی ہیں کہ اسرائیل ٹرمپ کی کسی دکھتی رگ سے واقف ہے ورنہ اب سے پہلے کے کسی صدر نے ایران پر حملے کا اسرائیلی مطالبہ منظور نہیں کیا تھا تو ٹرمپ اس مطالبہ پر کیوں رضامند ہوگئے؟ اس استعفے نے اہل امریکہ کو بھی پیغام دیا ہے کہ ٹرمپ، صدر ہونے کے باوجود اپنے ملک کو ایسے نقصان کی طرف دھکیل رہے ہیں جس کی تلافی کیلئے کئی برس درکار ہوں گے، یہ بات اہل امریکہ کو ذہن میں رکھنی چاہئے۔ اس پیغام سے اہل امریکہ کی بڑی تعداد جو ٹرمپ کی اس جنگ کی مخالف ہے، مزید مخالفت کی راہ پر گامزن ہوگی مگر کیا اس کی وجہ سے ٹرمپ اپنا ہاتھ کھینچ لیں گے؟ اسرائیل سے کہہ دیں گے کہ اُسے لڑنا ہے تو لڑتا رہے؟
 
 
یہ نہیں ہوسکتا کیونکہ اسرائیل اُن کا راستہ روک رہا ہے۔ اس نے ایران کے صف اول کے افسران کو قتل کرکے جنگ کو الگ ہی رُخ دے دیا ہے۔ ایران اپنے افسران کی موت کا بدلہ ضرور لے گا۔ اس وقت ایران انتقام کی آگ میں جھلس رہا ہے، اس کے حملے تیز ہوچکے ہیں اور لگتا ہے کہ ان میں مزید شدت آئے گی ۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK