Inquilab Logo Happiest Places to Work

ہمیں نیٹو کیساتھ کی ضرورت نہیں ہے : ڈونالڈ ٹرمپ

Updated: March 19, 2026, 11:49 AM IST | Agency | New York

امریکی صدر نےکہا’ ہم لاکھوں روپے ان ممالک کے تحفظ پر خرچ کرتے ہیں مگر وہ ہمارے لئے کچھ نہیں کرتے خاص کر ضرورت کے وقت۔

Donald Trump.Photo:INN
ڈونالڈ ٹرمپ۔ تصویر:آئی این این
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ  یورپی  ممالک اور نیٹو اتحادیوں کے ایران جنگ میں شامل نہ ہونے پر نالاں ہیں۔ خجالت میں انہوں نے کہا ہے کہ انہیں نیٹو کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ ٹرمپ کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے ایرانی فوج کو تباہ کر دیا ہے۔ انہیں کسی کے ساتھ کی ضرورت نہیں ہے یاد رہے کہ یورپی ممالک اور نیٹوکے اراکین ممالک ایران کے نیوکلیئر ہتھیار حاصل کرنے خلاف ہیں لیکن انہوں نے امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ ایران جنگ میں شامل ہونے سے صاف انکار کر دیا ہے۔ 
ڈونالڈ ٹرمپ نے اپنی سوشل میڈیا ایپ ’ٹروتھ سوشل‘ پر لکھا ہے کہ ’’ نیٹو کے بیشتر ممالک نے امریکہ کو مطلع کر دیا ہے کہ وہ دہشت گرد حکومت ایران کے خلاف ہماری مہم میں شامل نہیں ہونا چاہتے۔ باوجود اس کے کہ ان میں سے ہر ایک ملک اس بات سے متفق ہے کہ ہم جو کر رہے ہیں وہ ایران نہیں کر سکتا۔ ایران کو کسی بھی صورت میں نیوکلیئر ہتھیار کی ساخت یا نوعیت تیار  کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی ۔‘‘ ٹرمپ نے لکھا  ہے ’’ یہ ممالک جو کر رہے ہیں اس پر ہمیں کوئی حیرانی نہیں ہے کیونکہ ہمیں معلوم ہے کہ نیٹو جس پر ہم سالانہ اربوں ڈالر خرچ کرتے ہیں ، وہ ایک ون وے (یک رخی) گلی ہے ۔ ‘‘ امریکی صدر کا کہنا ہے کہ ’’ ہم انہیں تحفظ فراہم کرتے ہیں لیکن وہ ہمارے لئے کچھ نہیں کرتے خاص طور پر ضرورت کے وقت۔ 
 
 
ڈونالڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ’’ خوش قسمتی سے ہم نے ایران کی فوج کو تباہ کر دیا ہے۔ ان کی نیوی ختم ہو گئی ہے۔ ان کا ایئر فورس ختم ہو گیا ہے۔ اور شاید ان کا ایئر کرافٹ سسٹم بھی ختم ہو گیا ہے۔ اور سب سے اہم یہ کہ ان کے اہم لیڈران کا خاتمہ کر دیا۔  اب ان کا ہمیں، ہمارے وسط ایشیا کے اتحادیوںکو اور دنیا کو ان کا کوئی خطرہ نہیں ہے۔اس حقیقت کی بنا پر کہ ہم نے ایک کامیاب فوجی آپریشن کیا ہے ، ہمیں نیٹو ممالک کے ساتھ کی کوئی ضرورت نہیں رہی۔  
 
 
 فرانس امریکہ کا ساتھ نہیں دے گا 
ایک طرف امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ آبنائے  ایران کے خلاف مدد نہ ملنے پر یورپی ممالک پر برہمی ظاہر کر رہے ہیں تو دوسری طرف فرانس نے اعلان کر دیا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز کو کھولنے کیلئے کسی بھی فوجی کارروائی میں شرکت نہیں کرے گا۔ فرانس کے صدر ایمانویل میکرون  نے کہا ہے کہ موجودہ کشیدگی کے تناظر میں ان کا ملک آبنائے ہرمز کو کھولنے یا اسے محفوظ بنانے کیلئے کسی بھی آپریشن میں حصہ نہیں لے گا کیونکہ ان کا ملک اس تنازع میں فریق نہیں ہے۔ میکرون نے مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر غور کیلئے بلائے گئے کابینہ اجلاس میں کہا کہ فرانس جنگ کے خاتمے کے بعد خطے میں جہاز رانی کی آزادی کو یقینی بنانے کیلئے ایک اتحاد کی تشکیل کی تیاریوں  میں مصروف ہے۔

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK