Inquilab Logo Happiest Places to Work

جنگ کے اثرات دہلیز تک پہنچ رہے ہیں!

Updated: March 12, 2026, 12:00 PM IST | Inquilab News Network | Mumbai

ٹرمپ ایک جنگ پہلے ہی چھیڑ چکے تھے۔ ٹیرف کی جنگ۔ اس کے بعد مزید کسی جنگ کی ضرورت نہیں تھی مگر ان کی ہنگامہ پرور طبیعت کو سکون تو قطعی راس نہیں آتا، ایک وقت میں ایک ہی جنگ بھی ناکافی لگتی ہے، اسی لئے وہ نیتن یاہو کے بہکاوے میں آئے۔

Donald Trump.Photo:INN
ڈونالڈ ٹرمپ۔ تصویر:آئی این این
ٹرمپ ایک جنگ پہلے ہی چھیڑ چکے تھے۔ ٹیرف کی جنگ۔ اس کے بعد مزید کسی جنگ کی ضرورت نہیں تھی مگر ان کی ہنگامہ پرور طبیعت کو سکون تو قطعی راس نہیں آتا، ایک وقت میں ایک ہی جنگ بھی ناکافی لگتی ہے، اسی لئے وہ نیتن یاہو کے بہکاوے میں آئے۔ اب یہ عقدہ کھل رہا ہے کہ یاہو نے امریکہ کے سابق صدور کو بھی اپنے جال میں پھانسنے کی کچھ کم کوششیں نہیں کی تھیں۔ سابق صدور اسرائیل نواز تو تھے مگر ٹرمپ نہیں تھے اس لئے دیگر معاملات میں اسرائیل کو نوازنے کے باوجود انہوں نے ایران کے خلاف جنگ چھیڑنا مناسب نہیں سمجھا۔ وہ عاقبت اندیش تھے۔ ٹرمپ عاقبت اندیش تو کیا مصلحت اندیش بھی نہیں ہیں۔ شاید انہوں نے نیتن یاہو کی اس لئے سن لی کہ ایپسٹین فائلوں کی وجہ سے انہیں جس عالمی ہزیمت، رسوائی اور بدنامی کا سامنا تھا، اس سے بچ سکیں۔
نتیجہ یہ ہوا کہ جنگ چھڑ گئی جس نے عالمی معیشت کیلئے غیر یقینی حالات پیدا کر دیئے ہیں۔ آئی ایم ایف نے سال رواں کیلئے عالمی شرح نمو ۳ء۳؍ فیصد کا اندازہ پیش کیا تھا۔ ابھی اس نے شرح تبدیل نہیں کی ہے مگر عالمی معیشت کو شدید خطرہ لاحق ہونے کی بات ضرور کہی ہے۔ اس نے تجارتی لین دین میں بڑی رکاوٹوں، تیل کی قیمت میں اضافہ اور مالیاتی بازاروں میں کافی زیادہ حساسیت کا اشارہ دیا ہے مگر جس بات کو سمجھنے کیلئے کسی آئی ایم ایف کی رائے جاننا ضروری نہیں ہے اس کا تعلق ایران جنگ کے زمینی اثرات سے ہے۔ اس کی وجہ سے سپلائی متاثر ہوگی، اشیاء کی قلت ہوگی، ذخیرہ اندوزی اور منافع خوری ہوگی، مہنگائی بڑھے گی، عام کاروبار متاثر ہونگے، سب سے زیادہ روزگار فراہم کرنے والے چھوٹے اور متوسط طبقے کے شعبوں پر کاری ضرب پڑیگی، لازمی اشیاء کے علاوہ دیگر اشیاء کی دیسی بازاروں میں طلب گھٹے گی، بے روزگاری میں اضافہ ہوگا اور سب سے پہلے وہی متاثر ہوگا جو ہر آفت اور مصیبت کا سب سے پہلے شکار ہوتا ہے۔
 
 
وہ ممالک جن کی معیشت صحتمند ہے وہ تو اپنی ناؤ نکال لے جائیں گے مگر حالات کے تلاطم میں وہ پھنسیں گے جن کی معیشت کی مجموعی صحت خراب ہے یا چند عوارض کے سبب اُن کی مشکلات زیادہ ہیں اور وہ آزمائشوں سے گزر رہے ہیں۔ یہ آج کے اندیشے ہیں، جنگ نے طول پکڑا تو مزید اندیشے لاحق ہونگے یا موجودہ تشویش زیادہ گہری ہوئے بغیر نہیں رہ سکے گی۔ کیا ایران پر حملہ کرنے والے امریکہ اور اسرائیل کو اس کا اندازہ نہیں تھا؟ کیا اُنہیں یہ خدشہ نہیں تھا کہ ایران خلیجی ملکوں میں واقع امریکی ٹھکانوں کو نشانہ بنائے گا جس سے تیل کی پیداوار اور نقل و حمل کی تمام سرگرمیاں ٹھپ ہوسکتی ہیں اور ہاہاکار مچ سکتی ہے؟ 
 
 
ایسا لگتا ہے کہ انہیں اندازہ نہیں تھا۔ انہوں نے ایران کو بھلے ہی وینزوئیلا نہ سمجھا ہو مگر ایران کو ایران سمجھنے میں بھی بڑی غلطی کی ہے۔ طاقت کا نشہ اسی طرح سر چڑھ کر بولتا ہے۔ اس نشے میں کچھ سوجھتا ہے نہ عقل کام کرتی ہے نہ کچھ یاد رہتا ہے۔ امریکہ اور اسرائیل کو جون ۲۵ء کی بارہ روزہ جنگ بھی یاد نہیں رہی جس کو ابھی ایک سال بھی پورا نہیں ہوا ہے۔ انہیں یہ بھی یاد نہیں رہا کہ ایران کی تاریخ ڈر کر سمجھوتہ کرلینے کی تاریخ نہیں، مزاحمت کی تاریخ ہے۔ بلاشبہ جنگ میں ایران بھی نقصان اُٹھا رہا ہے مگر امریکہ و اسرائیل کو سبق بھی سکھا رہا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK