Inquilab Logo Happiest Places to Work

سینٹ کوم چیف کا ایران پر حملے کا آخری آپشن پیش، ایران کا فضائی دفاعی نظام فعال

Updated: May 01, 2026, 10:03 PM IST | Tehran

سینٹ کوم چیف نے ٹرمپ کو ایران پر حملے کے آخری آپشنز پیش کئے، جبکہ ایران نے فضائی دفاعی نظام فعال کر دیا،اسی دوران ٹرمپ کانگریس کی جنگی اختیارات کی ڈیڈ لائن کا سامنا کر رہے ہیں۔

Photo: X
تصویر: ایکس

جمعرات کی شب  ایران کےفضائی دفاعی نظام کو چھوٹے طیاروں اور ڈرونز کا مقابلہ کرنے کے لیے فعال کیا گیا، جبکہ وائٹ ہاؤس نے اشارہ دیا کہ وہ ایران جنگ سے متعلق کانگریس کی ڈیڈ لائن کی پابندی نہیں کرے گا۔تسنیم اور فارس خبر رساں ایجنسیوں کے مطابق، ایرانی دارالحکومت کے بعض حصوں میں سنی جانے والی دفاعی نظام کو تقریباً۲۰؍ منٹ تک فعال کیا گیا، تاہم صورتحال معمول پر آگئی۔ 
دریں اثناء امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کو ایران کے خلاف جنگ کے لیے کانگریس سے اجازت حاصل کرنے کے لیے آدھی رات کی ڈیڈ لائن کا سامنا تھا، جس سے وائٹ ہاؤس اور کانگریس کے درمیان تصادم پیدا ہو گیا۔ٹرمپ انتظامیہ کا کہنا تھا کہ اجازت حاصل کرنے کی 60 روزہ مدت گزشتہ ماہ اعلان کردہ جنگ بندی کے باعث مؤخر ہو گئی۔ایک سینئر انتظامی اہلکار نے جمعرات کی شب اے ایف پی کو بتایا کہ ’’جنگ پاورز ریزولوشن کے مقاصد کے لیے، جو جنگی کارروائیاں۲۸؍ فروری کو شروع ہوئی تھیں، وہ ختم ہو چکی ہیں، انہوں نے بتایا  کہ۷؍ اپریل کی جنگ بندی کے بعد سے امریکہ اور ایران کے درمیان کوئی فائرنگ کا تبادلہ نہیں ہوا۔ 

یہ بھی پڑھئے: خلیج کا مستقبل ’امریکی موجودگی کے بغیر‘ ہوگا: ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای

دوسری جانب فاکس نیوز کی جمعرات کی رپورٹ کے مطابق، امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کے کمانڈر نے صدر ڈونالڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف ممکنہ حتمی حملےکے آپشنز سے آگاہ کر دیا ہے۔ ایڈمرل بریڈ کوپر نے صدر ٹرمپ کے ساتھ’’ سیچویشن روم ‘‘میں ہونے والی بریفنگ کے دوران ممکنہ آپشنز پیش کیے، جس میں ’’مختصر اور طاقتور حملوں کی لہر‘‘ کا خاکہ پیش کیا گیا، اگر صدر جنگی کارروائیاں دوبارہ شروع کرنے کا فیصلہ کریں۔براڈکاسٹر کے مطابق، ممکنہ اہداف میں ایران کے باقی ماندہ فوجی اثاثے، قیادت اور بنیادی ڈھانچہ شامل ہیں۔فاکس نیوز کے مطابق، پینٹاگون جدید ہتھیاروں کے نظام کی تعیناتی پر بھی غور کر رہا ہے، جس میں ’’ڈارک ایگل‘‘نامی ایک نیا ہائپرسونک میزائل بھی شامل ہے۔براڈکاسٹر نے کہا کہ یہ نظام۲؍ ہزار میل دور تک کے اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے،اس کے علاوہ ممکنہ طور پر باقی ماندہ بیلسٹک میزائل لانچروں کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔اس میں مزید کہا گیا کہ  بی ون بی لانسر بمبار طیارے، جنہیں ۵؍ہزار پاؤنڈ تک ہائپرسونک ہتھیاروں سے لیس کیا جا سکتا ہے، خطے میںموجود ہیں اور بڑے بم گولے لے جا سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: ایران کے ساتھ جنگ ۶۰؍ روزہ ڈیڈ لائن سے پہلے ’ختم‘ ہوگئی: ٹرمپ انتظامیہ کا دعویٰ

واضح رہے کہ امریکہ اور اسرائیل نے۲۸؍ فروری کو ایران پر حملے شروع کیے تھے، جس کے جواب میں ایران نے خلیج میں امریکی اتحادیوں کے خلاف جوابی کارروائی کی اور آبنائے ہرمز کو بند کر دیا ۔ بعد ازاں اپریل میں پاکستانی ثالثی کے ذریعے جنگ بندی کا اعلان کیا گیا، اس کے بعد۱۱؍ تا ۱۲؍ اپریل کو اسلام آباد میں مذاکرات ہوئے، لیکن کوئی معاہدہ طے نہ ہو سکا۔تاہم  ٹرمپ نے پاکستان کی درخواست پر، بغیر کوئی حتمی تاریخ  متعین کیے، یکطرفہ طور پر جنگ بندی میں توسیع کر دی جو ہنوز جاری ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK