Inquilab Logo Happiest Places to Work

ٹرمپ کا ایران سے ممکنہ جنگ بندی کا اشارہ، دعویٰ کیاتمام نشانے تباہ

Updated: March 11, 2026, 10:45 PM IST | Washington

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کا ایران جنگ سے ممکنہ جنگ بندی کا اشارہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ تمام اہداف تباہ کئے جاچکے ہیں، موقف میں اس تبدیلی سے یہ سوالات اٹھتے ہیں کہ کیا واشنگٹن اپنے مقاصد حاصل کرنے کانام نہاد دعویٰ کرنے کے بعد جنگ سے باوقار فرار کی تلاش میں ہے؟

Photo: X
تصویر: ایکس

امریکی انتظامیہ کی جانب سے اسرائیل پر ایران کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حملے روکنے کے لیے زور دینے کے محض چند دن بعد، صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے امریکی میڈیا کو بتایا کہ ایران کے خلاف جاری امریکی-اسرائیلی فوجی حملے جلد ختم ہو جائیں گے، ان کا کہنا تھا کہ ایرانی اہداف تقریباً مکمل طور پر تباہ ہو چکے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: خامنہ ای کےایکس اکاؤنٹ سےٹرمپ کا کارٹون وائرل، وحشی درندہ قرار دیا، ایپسیٹن فائلز معاملے پر بھی طنز

نیوز سائٹ ایکسیوس کو بدھ کو دیئے گئے ایک مختصر فون انٹرویو میں ٹرمپ نے کہا کہ’’۲۸؍ فروری کو امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ حملوں سے شروع ہونے والی جنگ، جس میں سپریم لیڈر علی خامنہ ای اور دیگر اعلیٰ ایرانی حکام مارے گئے تھے، توقعات سے بڑھ کر کامیاب رہی ہے۔‘‘ٹرمپ نے مزید کہا کہ ،’’جنگ زبردست چل رہی ہے۔ ہم ٹائم ٹیبل سے بہت آگے ہیں۔ ہم نے اس سے زیادہ نقصان پہنچایا ہے جتنا ہم نے ممکن سمجھا تھا۔‘‘انہوں نے مزید کہا،’’جب بھی میں چاہوں گا کہ یہ ختم ہو، یہ ختم ہو جائے گی۔‘‘یہ یاد رہے کہ فروری کو جس دن حملے شروع ہوئے تھے، ٹرمپ نے واضح طور پر "باہر نکلنے کے راستے کا ذکر کرتے ہوئے کہا تھا، ’’میں طویل جنگ لڑ سکتا ہوں اور پوری چیز پر قبضہ کر سکتا ہوں۔ 
حالانکہ ٹرمپ پہلے ہی منگل کو صحافیوں کو بتا چکے تھے کہ جنگ بہت جلد ختم ہو جائے گی۔پیر کو، ٹرمپ نے سی بی سی نیوز کو بتایا کہ ایران کے ساتھ امریکی جنگ تقریباً ختم ہو سکتی ہے۔فلوریڈا کے ڈورل گولف کلب سے بات کرتے ہوئے صدر نے کہا، ’’میرے خیال میں جنگ بہت حد تک مکمل ہو چکی ہے۔ایران کے پاس کوئی بحریہ نہیں، کوئی مواصلات نہیں، ان کے پاس کوئی فضائیہ نہیں ہے۔ ان کے میزائل بکھر کر رہ گئے ہیں۔ ان کے ڈرون ہر جگہ اڑائے جا رہے ہیں، بشمول ان کے ڈرون کی سہولیات۔ ‘‘ٹرمپ نے کہا، اگر آپ دیکھیں، ان کے پاس کچھ نہیں بچا۔ فوجی لحاظ سے کچھ بھی نہیں بچا۔دن میں بعد میں ایک پریس کانفرنس میں، ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے خلاف جنگ بہت جلد ختم ہو جائے گی، اور یہ بھی کہا کہ تیل کی قیمتیں گر جائیں گی۔ٹرمپ نے تبصرہ کیاکہ ،’’ہم اپنے فوجی مقصد کی تکمیل کی جانب بڑی پیش رفت کر رہے ہیں۔‘‘

یہ بھی پرھئے: ایران جنگ پر عالمی سفارتی کشیدگی، امریکہ اور روس کے بیانات

امریکی صدر نے کہا، ’’ہم ان پر اتنی زوردار ضرب لگائیں گے کہ ان کے لیے یا دنیا کے اس خطے میں ان کی مدد کرنے والے کسی اور کے لیے دوبارہ کبھی سنبھلنا ممکن نہ ہو سکے۔‘‘واضح رہے کہ یہ تازہ ترین تبصرے ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب ٹرمپ انتظامیہ نے اسرائیل سے کہا ہے کہ وہ ایرانی تیل کی تنصیبات پر حملہ نہ کرے اور اس طرح کی کسی بھی کارروائی سے پہلے واشنگٹن کو مطلع کرے ۔ یاد رہے کہ دس روز قبل مشترکہ آپریشن شروع ہونے کے بعد واشنگٹن کی جانب سے اپنے اتحادی کو روکے جانے کا یہ پہلا موقع ہے۔تاہم میڈیا رپورٹس کے مطابق، یہ درخواست ان خدشات کی وجہ سے کی گئی ہے کہ توانائی کے بنیادی ڈھانچے پراسرائیلی حملے سے خلیجی تیل کی تنصیبات کے خلاف ایرانی جوابی کارروائی کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔جبکہ ٹرمپ خود ایرانی تیل پر حملوں کوایک متبادل قرار دے چکے ہیں، جو صرف اس صورت میں استعمال کیا جائے گا جب ایران پہلے خلیجی توانائی کی فراہمی پر حملہ کرے۔ٹرمپ دعوے کے برخلاف اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے بدھ کو کہا کہ ،’’جنگ بغیر کسی وقت کی حد کے، جب تک ضرورت ہو، جب تک ہم تمام مقاصد حاصل نہیں کر لیتے اور فیصلہ کن کامیابی حاصل نہیں کر لیتے، جاری رہے گی۔امریکہ کی طرف سے ابھی تک کارروائیاں روکنے کے لیے کوئی اندرونی ہدایت نامہ جاری نہیں کیا گیا ہے، یہاں تک کہ ٹرمپ عوامی طور پر اشارہ دے رہے ہیں کہ مشن بڑی حد تک مکمل ہو چکا ہے۔‘‘ادھر، ایران کا کہنا ہے کہ جنگ کب ختم ہونی ہے یہ صرف تہران کو طے کرنا ہے۔ایرانی عہدیداروں نے کہا ہے کہ قومی سلامتی کے لیے جب تک ضرورت ہو لڑائی جاری رہے گی۔ساتھ ہی ایران نے امریکہ کے ساتھ مذاکرات کو بارہا مسترد کیا ہے، اور عہدیداروں نے گزشتہ مذاکرات سے حاصل کردہ تلخ تجربے کا حوالہ دیا ۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK