خلیج کی جنگ صرف علاقائی مسئلہ نہیں ہوگی۔ اگر تیل کی قیمتیں بے قابو ہوئیں تو یورپ اور ایشیا کی معیشتیں توانائی بحران کا شکار ہو سکتی ہیں۔عالمی سپلائی چین مزید دباؤ میں آ جائے گی۔
ایران کی جنگ کے بعد کا منظر۔ تصویر:آئی این این
عالمی تاریخ کے اوراق شاہد ہیں کہ مشرقِ وسطیٰ کی سیاست ہمیشہ عالمی طاقتوں کی دلچسپی کا مرکز رہی ہے، مگر خلیجی خطہ اس کشمکش کا سب سے حساس نقطہ ہے۔ اگر ایران سے جڑی کشیدگی یا کوئی وسیع جنگ طویل ہو جاتی ہے تو اس کے اثرات محض ایک یا دو ممالک تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پورا خلیجی نظام معیشت، سلامتی، سفارت کاری اور سماجی ڈھانچہ شدید دباؤ میں آ جائے گا۔ خلیجی ریاستیں جیسے سعودی عربیہ، متحدہ عرب امارات، قطر، کویت، بحرین اور عمّان اپنی جغرافیائی حیثیت اور توانائی کے ذخائر کے سبب اس بحران کے براہِ راست اثرات محسوس کر رہی ہیں۔خلیجی معیشتوں کی شہ رگ تیل اور گیس کی برآمدات ہیں۔ عالمی بازار میں توانائی کی بڑی مقدار آبنائے ہرمز سے گزرتی ہے، جو ایران اور عمان کے درمیان واقع ایک نہایت تنگ مگر اسٹریٹجک گزرگاہ ہے۔اس وقت امریکہ اور اسرائیل کی جارجیت نے ایران کے بے قصور معصوم شہری کو نشانہ بنا رکھا ہے اورپوری عالمی برادری تماشائی بنی ہوئی ہے۔ اگر جنگ پھیلتی ہے توتیل کی تنصیبات، بندرگاہیں اور شہری مراکز میزائل یا ڈرون حملوں کا نشانہ بن سکتے ہیںاور اس وقت بن بھی رہے ہیں۔غیر ملکی فوجی اڈے (خصوصاً امریکی اڈے) تنازعے کو مزید پیچیدہ بنا سکتے ہیں۔فضائی دفاعی نظام اور میزائل شکن ٹیکنالوجی پر مزید اربوں ڈالر خرچ کرنا پڑ سکتے ہیں۔
خلیجی ممالک گزشتہ چند برسوں سے اپنی معیشتوں کو تیل پر انحصار سے نکالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ مثال کے طور پر سعودی عربیہ کا ویژن ۲۰۳۰ء اور متحدہ عرب امارات کی معیشت میں سیاحت، ٹیکنالوجی اور فنانس کا فروغ۔جنگ کی صورت میںغیر ملکی سرمایہ کاری میں کمی آئے گی۔سیاحت کا شعبہ شدید متاثر ہوگا، خاص طور پر دبئی اور دوحہ جیسے شہروں میںعالمی کمپنیوں کے ہیڈکوارٹرز کسی محفوظ خطے کی طرف منتقل ہو سکتے ہیں۔اس طرح وہ خواب جو خلیجی قیادت نے معاشی تنوع کیلئے دیکھے تھے، سست روی یا تعطل کا شکار ہو سکتے ہیں۔جنگی حالات میں عموماً مالیاتی منڈیاں غیر مستحکم ہو جاتی ہیں۔ اسٹاک مارکیٹس میں تیزی سے گراوٹ، بانڈ مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ اور کرنسی پر دباؤ متوقع ہے۔خلیجی کرنسیاں زیادہ تر امریکی ڈالر سے منسلک ہیں، مگر سرمایہ کے انخلا کی صورت میں زرمبادلہ کے ذخائر پر دباؤ بڑھے گا۔ اس کے علاوہ، بیمہ اور شپنگ کے اخراجات بڑھنے سے تجارت مزید مہنگی ہو جائے گی۔خلیجی ممالک ایک نازک سفارتی توازن برقرار رکھتے ہیں۔ ان کے امریکہ اور مغربی ممالک سے قریبی تعلقات بھی ہیں، جبکہ ایران کے ساتھ جغرافیائی اور تجارتی روابط بھی۔ اگر جنگ وسیع ہو جاتی ہے تو انہیں واضح طور پر کسی ایک فریق کے ساتھ کھڑا ہونا پڑ سکتا ہے۔
عمّان روایتی طور پر ثالثی کا کردار ادا کرتا رہا ہے۔ اسی طرح قطرنے بھی کئی تنازعات میں سفارتی پل کا کردار ادا کیا ہے۔ مگرحالیہ جنگ نے دونوں کی حکمت عملی کو ناکام کردیا ہے اور خطہ کھلے بلاکس میں تقسیم ہو گیا ہے۔خلیجی ممالک کی آبادی کا بڑا حصہ غیر ملکی افرادی قوت پر مشتمل ہے، جس میں جنوبی ایشیا کے لاکھوں افراد شامل ہیں۔ اگر جنگی ماحول برقرار رہاتوغیر ملکی کارکنوں کی واپسی کا خدشہ ہوگا۔بالخصوص ہندوستان کو سب سے زیادہ خسارہ ہوگا کہ غیر ملکی کرنسی کی مقدار میں سب سے اہم کردار خلیجی ممالک میں رہنے والے ہندوستانی شہری ہی کرتے ہیں۔غرض کہ ترسیلات زر متاثر ہوں گی، جس کا اثر ہندوستان کے ساتھ ساتھ پاکستان، بنگلہ دیش اور نیپال جیسے ممالک پر پڑے گا۔داخلی سطح پر اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ اور بے چینی بڑھ سکتی ہے۔یہ پہلو خاص طور پر ہندوستانی ریاستوں جیسے کیرالا اور بہار کےلئے اہم ہے جہاں خلیج سے آنے والی رقوم مقامی معیشت میں کلیدی کردار ادا کرتی ہیں۔خلیج کی جنگ صرف علاقائی مسئلہ نہیں ہوگی۔ اگر تیل کی قیمتیں بے قابو ہوئیں تو یورپ اور ایشیا کی معیشتیں توانائی بحران کا شکار ہو سکتی ہیں۔عالمی سپلائی چین مزید دباؤ میں آ جائے گی۔یوں خلیجی نقصان دراصل عالمی بحران کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔اگر جنگ چند ہفتوں تک محدود رہے تو نقصان اربوں ڈالر تک ہو سکتا ہے، خصوصاً تیل کی تنصیبات اور دفاعی اخراجات کے سبب۔ لیکن اگر تنازع مہینوں یا سالوں تک جاری رہا توکھربوں ڈالر کے ترقیاتی منصوبے متاثر ہو سکتے ہیں۔معیشتوں کی شرح نمو سست ہو جائے گی۔بیروزگاری اور سماجی عدم اطمینان میں اضافہ ہوگا۔بالخصوص ہندوستان میں جس طرح اشیائے پٹرولیم اور خانہ داری گیس کی قلت شروع ہوئی ہے اس سے پورے ملک ایک اضطرابی کیفیت دیکھنے کو مل رہی ہے۔ ریاست بہار میں گیس کیلئے ہزاروں کی قطار لگی رہتی ہے۔ گویا کہ چہار جانب افراتفری کا عالم ہے جب کہ حکومت ہند کی طرف سے یہ باور کرایا جا رہاہے کہ اس پر جلد قابو پا لیا جائے گا۔ چوں کہ اس وقت ہندوستان کی خارجہ پالیسی ایران کے معاملے میں مشتبہ ہوگئی ہے کہ ہمارے وزیر اعظم کے دورہ اسرائیل کے فوراً ایک دن بعد یہ جنگ شروع ہوئی ہے اس سے یہ پیغام گیا ہے کہ ہندوستان ایران کے ساتھ اپنے قدیم رشتے کے معاملے میں وفا دار نہیں رہاہے۔ اگرچہ آج ہی ہمارے وزیر اعظم نے ایران کے وزیر اعظم سے گفتگو کی ہے جس کا خلاصہ انہوں نے اپنے ٹیوٹر ہینڈل پر کیاہے۔
بہر کیف!خلیجی ریاستوں کی مجموعی طاقت ان کے معاشی استحکام، تزویراتی محلِ وقوع اور توانائی کے ذخائر میں مضمر ہے۔ مگر یہی عناصر جنگ کی صورت میں کمزوری میں تبدیل ہو سکتے ہیں۔ اس لئے ان ممالک کے لئے سب سے دانشمندانہ حکمتِ عملی یہی ہے کہ وہ سفارتی ذرائع کو فعال کریں، علاقائی مکالمہ کو فروغ دیں اور کشیدگی کو محدود رکھنے میں کردار ادا کریں۔اگر جنگ طویل ہوتی ہے تو خلیج کو وقتی فائدے کے باوجود مجموعی طور پر معاشی، سماجی اور سفارتی نقصانات کا سامنا ہوگا۔ امن اور علاقائی تعاون ہی وہ راستہ ہے جو اس خطے کو تباہ کن نتائج سے بچا سکتا ہے۔یہ بحران خلیجی قیادت کے لئے ایک امتحان بھی ہے۔کیا وہ طاقت کی سیاست میں الجھ کر اپنے ترقیاتی خوابوں کو خطرے میں ڈالیں گے، یا دانشمندی سے امن کی راہ اختیار کریں گے؟ آنے والا وقت اس کا فیصلہ کرے گا۔اس لئے ہندوستان کو بہت ہی سنجیدگی کے ساتھ اس مسئلے پر غور وخوض کرنا ہوگا کہ اس جنگ سے ہمارے ملک کی معیشت کو بڑا خسارہ ہونے کا اندیشہ ہے