اس بار ترنمول کانگریس کا مقابلہ صرف بی جے پی سے نہیں بلکہ الیکشن کمیشن سے بھی ہے۔ ابھی تک الیکشن کمیشن کا رویہ بے حد متعصبانہ رہا ہے اوراس کے تمام فیصلے ترنمول کانگریس کی پریشانیاں بڑھارہے ہیں۔
EPAPER
Updated: March 18, 2026, 10:55 AM IST | Parvez Hafeez | Kolkata
اس بار ترنمول کانگریس کا مقابلہ صرف بی جے پی سے نہیں بلکہ الیکشن کمیشن سے بھی ہے۔ ابھی تک الیکشن کمیشن کا رویہ بے حد متعصبانہ رہا ہے اوراس کے تمام فیصلے ترنمول کانگریس کی پریشانیاں بڑھارہے ہیں۔
الیکشن کمیشن نے مغربی بنگال سمیت پانچ صوبوں میں اسمبلی انتخابات کی تاریخ کا اعلان تو اتوار کے دن کیا لیکن وزیر اعظم نریندر مودی جی نے ایک دن قبل ہی کلکتہ میں انتخابی بگل بجادیا۔ بریگیڈ پریڈ گراؤنڈ میں سنیچر کوایک ریلی سے خطاب کرتے ہوئے مودی جی نے اپنی پارٹی کا جو انتخابی روڈ میپ پیش کیا اس سے یہ بات واضح ہوگئی کہ بی جے پی نے بنگال کا قلعہ فتح کرنے کیلئے مذہبی منافرت اور فرقہ وارانہ پولرائزیشن کو ہی ہتھیار بنانے کا فیصلہ کیاہے۔آپ پوچھیں گے کہ اس میں نئی بات کیا ہے۔ تو قارئین نئی بات یہ ہے کہ بی جے پی نے اپنے پرانے آزمودہ ہتھیار کو ووٹر لسٹ کی جامع نظر ثانی(SIR) کے پتھر پر رگڑ رگڑ کرمزید دھاردار اور مہلک بنادیا ہے۔
اپنی تقریر میں SIR کے خلاف ممتا کے جمہوری احتجاج پرمودی جی نے جتنی شدت سے حملے کئے اس سے اس بات کا بخوبی اندازہ ہوگیا کہ بنگال میں اسمبلی الیکشن جیتے کیلئے بی جے پی SIR کی بیساکھی پر کس قدر انحصار کررہی ہے۔مودی جی نے پچھلے سال یوم آزادی کے موقع پر قوم کے نام کئے گئے اپنے خطاب میں ہی ملک کے متعدد صوبوں میں آبادیاتی تبدیلی (Demographic change)کے خطرے کا شوشہ چھوڑا تھا۔ ممتا بنرجی کا اصرار ہے کہ بی جے پی کا یہ پورا بیانیہ مغربی بنگال اور آسام جیسے صوبوں میں ہندوآبادی کو خوف زدہ کرکے ان کے ووٹ حاصل کرنے کا حربہ ہے۔ مودی جی کی تقریر سے یہ واضح ہوگیا کہ بنگال میں آبادیاتی تبدیلی بی جے پی کا مرکزی انتخابی ایشو ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ترنمول کانگریس SIRکی اتنی سختی سے مخالفت اس لئے کررہی ہے تاکہ گھس پیٹھیوں پر مشتمل اپنے بیش قیمت ووٹ بینک کو بچاسکے۔ مودی جی نے یہ الزام تک لگایا کہ بنگال میں ممتا بنرجی منصوبہ بند طریقے سے ہندوؤں کو اقلیت بنارہی ہیں اور اسی مقصد کے تحت غیر قانونی دراندازی کو فروغ دے رہی ہیں۔انہوں نے بغیر کوئی ثبوت پیش کئے یہ دعویٰ بھی کرڈالا کہ ممتا بنرجی کے پندرہ سالہ دور اقتدار میں بنگال میں غیر قانونی دراندازی اتنے بڑے پیمانے پر ہوئی ہے کہ صوبے کے متعدد علاقوں کی demographic شکل پوری طرح بدل چکی ہے۔مودی جی کی مانیں تو صوبے کے بہت سے حصوں میں گھس پیٹھیوں کا سیلاب آجانے سے ہندوبنگالیوں کا وجود خطرے میں پڑ گیاہے۔مودی جی نے ہندوبنگالیوں کو اور زیادہ خوفزدہ کرنے کی خاطر یہ الزام بھی لگایا کہ گھس پیٹھیوں کی وجہ سے بنگال کی ’’بیٹی، روٹی اور ماٹی‘‘ پربہت بڑا خطرہ لاحق ہوگیا ہے۔ وزیر اعظم بار بار یہ دہراتے رہے کہ ترنمول کانگریس ان کے ووٹوں کی خاطر ان گھس پیٹھیوں کی سرپرستی کرتی ہے۔دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کے سربراہ کے منہ سے اس طرح کی باتیں زیب نہیں دیتی ہیں۔یہ بات مودی جی کو بھلا کون سمجھائے؟
ہفتے کے دن کلکتہ میں مودی جی بھاشن نہیں دے رہے تھے شعلہ اگل رہے تھے۔ ان کا لب و لہجہ بے حد جارحانہ تھا۔ انہوں نے ایک بار بھی ممتا بنرجی کا نام نہیں لیا۔ممتا کی جگہ وہ ہر بار’’ نرمم سرکار‘‘ یعنی ظالم حکومت کہتے رہے۔یہ ایک منتخب خاتون وزیر اعلیٰ کی کردار کشی نہیں تو اور کیا تھی؟ بی جے پی اور اس کی اتحادی جے ڈی یونے بہار میں لالو کے آر جے ڈی کی حکومت کو بدنام کرنے کیلئے’’ جنگل راج‘‘ کا واویلا مچایا تھا۔ مودی جی نے ممتا بنرجی کی ترنمول کانگریس حکومت کو بدنام کرنے کیلئے ایک نئی اصطلاح’’ مہاجنگل راج‘‘ گڑھ لی۔اس سے قبل بنگال کے تعلق سے اس طرح کاالزام کبھی نہیں سنا گیا تھا۔
’’ ممتا بنرجی حکومت کے دن پورے ہوچکے ہیں۔ بی جے پی ترنمول کو اگلے الیکشن میں اکھاڑ پھینکنے کے لئے پوری طرح تیار ہے۔ ظالم حکومت کا کاؤنٹ ڈاؤن شروع ہوچکا ہے۔ ایک بار پھربنگال میں قانون کی حکمرانی ہوگی۔ ترنمول کے کسی بھی ظالم گنہگار کو بخشا نہیں جائے گا۔بنگال میں جنگل راج کا خاتمہ ہوکر رہے گا۔‘‘ مودی جی گرج رہے تھے اور تھمنے کا نام نہیں لے رہے تھے۔انہوں نے جب اپنے مخصوص فلمی انداز میں یہ دھمکی دی کہ بی جے پی جب اقتدار میں آئے گی توترنمول کانگریس کے لیڈروں سے’’ چن چن کر ایک ایک بات کا حساب لیا جائے گا‘‘تو ریلی میں بھکتوں کی بھیڑ خوشی سے دیوانی ہوگئی۔مودی جی بنگال کی سرزمین پر اس سے پہلے کبھی بھی اتنے جارحانہ انداز میں نظر نہیں آئے تھے۔ ان کی تقریر توجوشیلی تھی ہی، ان کے تیوربھی کافی خطرناک لگ رہے تھے۔کسی بھی اہم الیکشن کے قبل بریگیڈپریڈ گراؤند میں امڈی بھیڑ مغربی بنگال کی انتخابی ہوا کے رخ کا اندازہ لگانے میں معاون ثابت ہوتی ہے۔ مودی جی کی ریلی میں اس بار بلاشبہ بہت بڑی بھیڑ اکٹھاہوئی تھی اور لوگوں کے جوش اور ولولے کو دیکھ کر لگ رہا تھا کہ ممتا بنرجی کے لئے اس بار کا الیکشن بے حد سخت ثابت ہونے والا ہے۔
نومبر میں SIRکی کاروائی شروع ہونے کے قبل مغربی بنگال میں ووٹروں کی مجموعی تعداد سات کروڑچھیاسٹھ لاکھ تھی۔ ۲۸؍ فروری کو فائنل لسٹ شائع ہوئی تو یہ تعداد گھٹ کر چھ کروڑ چوالیس لاکھ رہ گئی ہے۔ ساٹھ لاکھ ووٹروں کے نام ابھی بھی تصدیق کی خاطر under adjudicationہیں یعنی ان کی تقدیر کا فیصلہ ابھی ہونا باقی ہے۔ ممتا بنرجی کا یہ خدشہ درست ثابت ہوسکتا ہے کہ انتخابات کے وقت تک ایک کروڑ بیس لاکھ ووٹروں کے نام فہرست سے حذف ہوچکے ہوں گے۔ کلکتہ کی ریلی میں مودی جی کی انتہا تک پہنچی ہوئی خود اعتمادی کا راز کہیں حتمی ووٹرلسٹ سے ایک کروڑ سے زائد ناموں کے غائب ہونے کے امکان میں پوشیدہ تونہیں تھا۔
یہ بھی پڑھئے:پرینکا چوپڑا نے بیٹی مالتی کی پرائیویسی پر زور دیا، خوفناک واقعے کا انکشاف
ممتا بنرجی لگاتار تین بار وزیر اعلیٰ منتخب ہوچکی ہیں مگر آثار و قرائن بتا رہے ہیں کہ اس بار الیکشن میں انہیں بہت سخت مقابلہ کا سامنا ہے۔ کیونکہ اس بار ترنمول کانگریس کا مقابلہ صرف بی جے پی سے نہیں بلکہ الیکشن کمیشن سے بھی ہے۔ ابھی تک الیکشن کمیشن کا رویہ بے حد متعصبانہ رہا ہے اوراس کے تمام فیصلے ترنمول کانگریس کی پریشانیاں بڑھارہے ہیں۔ جمہوری پارلیمانی سسٹم میں الیکشن کمیشن کا یہ آئینی فرض ہے کہ وہ ہر سیاسی جماعت کو یکساں اور برابر کا موقع فراہم کرے جسے level-playing fieldکہتے ہیں۔ ممتا کا الزام ہے کہ چیف الیکشن کمشنر گیانیشور کمار ان کے ساتھ بھید بھاؤ برت رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے:ایران کے اعلیٰ سیکوریٹی عہدیدار علی لاریجانی کی شہادت کی تصدیق
ممتا بنرجی نے بنگال کے رائے دہندگان کے جمہوری حقوق کی حفاظت کیلئے کلکتہ کی سڑکوں پر مظاہرے بھی کئے اور سپریم کورٹ میں فریاد بھی کی۔ووٹر لسٹ میں صوبے کے تمام حقیقی ووٹروں کے ناموں کی اندراج کا مطالبہ منوانے کی خاطر حال میں وہ پانچ دنوں تک دھرنے پر بھی بیٹھی رہیں۔لیکن جمہوری ادارے ہی جب جمہوریت کی بیخ کنی میں معاونت کرنے لگیں پھر تو ملک کا اللہ ہی حافظ ہے۔