Inquilab Logo Happiest Places to Work

’میری رہائی اہم نہیں لداخ کی فلاح ضروری ہے ‘

Updated: March 18, 2026, 12:04 PM IST | Agency | New Delhi

سونم وانگ چک کی دہلی میں پریس کانفرنس، حکومت سے گفتگو کیلئے تیار۔

Sonam Wangchuck.Photo:INN
سونم وانگ چک- تصویر:آئی این این
لداخ کے عالمی شہرت یافتہ  سماجی کارکن سونم وانگ چک نے منگل کو دہلی میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کیا۔ انہوں نے کہا کہ’’یہ لڑائی صرف میری نہیں بلکہ لداخ کی ہے۔ میں اسی وقت اسے( اپنی رہائی کو) جیت اسی وقت مانوں گا  جب لداخ کا حقیقی بھلا ہوگا۔‘‘ ان کے مطابق لداخ کے مفادات کی جدوجہد صرف ان کی ذاتی نہیں بلکہ وہاں کے تمام لوگوں کی لڑائی ہے۔ پریس کانفرنس میں ان کی اہلیہ گیتانجلی بھی موجود تھیں۔  یاد رہے کہ  وانگ چک تقریباً ۶؍ ماہ جیل میں رہنے کے  بعد حال ہی میں رہا ہوئے ہیں۔
 
 
سونم وانگ چک کا کہنا ہے کہ جیل میں رہتے ہوئے بھی انہیں پورا یقین تھا کہ انصاف ملے گا۔ وہ کہتے ہیں کہ ’’ہمیں معلوم تھا کہ عدالت میں ہماری جیت ہوگی اور جیل میں بھی یہی یقین قائم رہا۔میں جیل سے باہر آ گیا ہوں، اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ میری رہائی کوئی مسئلہ ہی نہیں تھی۔ میں ذاتی جیت کو اہم نہیں سمجھتا۔ میرے  لئے اصل کامیابی تب ہوگی جب لداخ کے لوگوں کے مطالبات پورے ہوں گے اور وہاں کے مستقبل کو محفوظ بنایا جائے گا۔ جیل میں رہتے ہوئے بھی مجھے پورا یقین تھا کہ انصاف ملے گا اور عدالت میں جیت ہوگی۔‘‘
 
 
 
رہائی کے بعد حکومت کی جانب سے بات چیت کی پیشکش پر وانگ چک نے کہا کہ ہم اس پیشکش سے خوش ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک ’وِن-وِن صورتحال‘ ہے، اس سے حکومت بھی اچھی نظر آئے گی اور ہم بھی۔ انہوں نے کہا کہ ہم ہمیشہ سے مذاکرات کیلئے تیار تھے، تحریک سے لے کر جیل تک ہمارا صرف ایک مقصد تھا کہ لداخ کے مسائل پر بات چیت ہو۔ انہوں نے مزید کہا کہ انہوں نے خود کو ذہنی طور پر پورے ایک سال جیل میں رہنے کیلئے تیار کر لیا تھا۔ ان کے مطابق جیل میں اپنا موقف پیش کرنا مشکل تھا اور اپنی بات وکیلوں اور صحافیوں تک پہنچانا بھی آسان نہیں تھا، لیکن وہاں لوگ مہربان تھے۔ انہوں نے کہا کہ لداخ میں پیش آئے تشدد کی تحقیقات ہونی چاہئےتاکہ معلوم ہو سکے کہ کیا ہوا اور تشدد کیسے بھڑکا، انہوں نے کہا کہ لداخ میں ایسا ماحول دوبارہ قائم کرنا ضروری ہے جو وہاں کے لوگوں کے مفاد میں ہو۔وانگ چک کا کہنا ہے کہ ’’ہم بھوک ہڑتال نہیں کرنا چاہتے، لیکن مجبوری میں ایسا کرنا پڑتا ہے اور یہ ہم نے گاندھی جی سے سیکھا ہے کہ ہر شخص کو کم از کم ایک بار جیل ضرور جانا چاہئے۔‘‘

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK