ادب نئی اور پرانی نسل کے معنوں میں نیا یا پرانا نہیں ہوتا۔ ادب میں عجائب خانے نہیں پائے جاتے جہاں پرانی نسل کے ادیبوں کی تخلیقات رکھی جاتی رہیں کیونکہ اس طرح سوچنے پر ہر نئی نسل پرانی ہوتی چلی جائے گی اور ادب کا کام زندگی کی تعمیر کی جگہ صرف عجائب خانوں کی تعمیر رہ جائے گا۔
نئی نسل یقیناً وجود رکھتی ہے اور تاریخی ارتقاء کی ایک ضروری کڑی ہوتی ہے۔ لیکن نئی اور پرانی نسل میں غیرضروری امتیازات پیدا کرنے سے بچنے کی ضرورت ہے۔ تصویر: آئی این این
نئے حالات میں یہ ضروری نہیں ہے کہ نیا لکھنے والا نئے عہد کو لبیک ہی کہے۔ وہ نئے حالات کو ممکن ہے زندگی کے لئے فال نیک نہ سمجھے اور نئی اقدار کو مسترد کرکے قدیم زمانے ہی میں لوٹ جانا چاہتا ہو یا قدیم اور جدید دونوں سے بیزار ہوکر اپنی ہی ذات کی تلاش میں کھوجائے اور اسی کو اپنی فکر کا حاصل سمجھے، بعینہ اسی طرح کا ردعمل پرانی نسل کے لکھنے والوں میں ہوسکتا ہے اگرچہ ان کے ردعمل کی توجیہ ایک حدتک کی جاسکتی ہے اس لئے کہ یہ پرانے دور سے نئے دور میں آنے کامسئلہ ہوتا ہے جس کے لئے ان کی فکر ممکن ہے آمادہ نہ ہو اور وہ نئے عہد کو کوئی خوشگوار تبدیلی نہ سمجھتے ہوں۔
اس نوع کا ردعمل اکثر و بیشتر اس لئے پایا جاتا ہے کہ ایسے لکھنے والوں کا فکری مزاج پہلے ہی سے تعمیر ہوچکا ہوتا ہے اور ان کا فکری تسلسل نئے دور میں ٹوٹ جانے یا آسانی سے بدل جانے کی جگہ خود کو برقرار رکھنے ہی کو تخلیقی عمل سمجھتا ہے۔ لیکن ان تمام توجیہات کے باوجود یہ بھی ممکن ہے کہ پرانی نسل کے بعض لکھنے والے نئے اور پرانے دونوں عہد سے بیزار یا غیرمطمئن ہوں اور انہوں نے دونوں ادوار کو مسترد کردیا ہو۔ اس مقام پر پہنچ کر بعض نئے اور پرانے لکھنے والوں میں لب و لہجے اور انداز بیان کے فرق کے باوجود فکری یکسانیت ہوسکتی ہے۔ دونوں مجموعی طور پر نئے اور پرانے ادوار سے غیرمطمئن، بیزار اور گریزاں ہوسکتے ہیں۔
اس پہلو سے، اس قسم کے لکھنے والوں کے اندازِ فکر پر غور کیا جائے اور ان کے اس مخصوص ردعمل کے اسباب کو متعین کرنے کی کوشش ہو تو بحث لامحالہ فرد اور اجتماع کے داخلی اور خارجی روابط کو دیکھنا پڑتا ہے۔ یہاں صرف اس بات کو سمجھ لینا چاہئے کہ نئی اور پرانی نسل کے فرق کو واضح اور متعین کرنے کیلئے ’’سالگرہ‘‘ اور ’’برسی‘‘ منانے ہی پر اکتفا کرلینا زیادہ مستحسن طریقۂ کار نہیں ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ’’بشیر پروازؔ کے مکالمے آج بھی اسٹیج پر گونج رہے ہیں‘‘
طبعی عمر اور ذہنی عمر میں مطابقت اور عدم مطابقت دونوں ممکن ہے۔ دونوں نسلوں کی فکر قدیم بھی ہوسکتی ہے جدید بھی، سطحی بھی ہوسکتی ہے گہری بھی، نئی فکر ہونے کے باوصف غیر دلکش ہوسکتی ہے اور قدیم فکر ہونے کے باوجود موثر ہوسکتی ہے۔ ادبی شعری لحاظ سے ان دونوں نسلوں کی تخلیقات جدت اور قدامت سے قطع نظرپست اور بلند دونوں ہوسکتی ہیں اور اس چیز کو بھی دیکھتے چلئے کہ شعر و ادب ہو یا سائنس و معاشیات، فلسفہ ہو یا نفسیات، ملکی امور ہوں یا بین الاقوامی، غرض کہ زندگی کا کوئی بھی شعبہ ہو اس میں معتبر، مستند، ذمے دار اور بالغ فکر انہیں لوگوں کو سمجھا جاتا رہا ہے جو عمر کی اس منزل پر ہوتے ہیں جہاں نئی نسل پرانی ہوکر پہنچتی ہے۔
اب جب بات یہاں تک پہنچ گئی ہے تو ہم کچھ ایسا محسوس کرنے لگتے ہیں کہ یہ ساری دلیلیں صرف نئی نسل کی بیخ کنی کے لئے ہیں اور ان کا ایک ہی مطلب ہے کہ نئی نسل کے پاس کہنے سننے کی نہ کوئی چیز ہے اور نہ وہ اپنے عہد کو کوئی نئی چیز دے ہی سکتی ہے۔ اس کا عدم، وجود برابر ہے اور اس کے سپرد صرف یہ کام ہے کہ وہ بوڑھی ہوجایا کرے، تب کہیں جاکر اس کی باتیں درخود اعتناء سمجھی جاسکتی ہیں۔ اس بات پر ممکن ہے پرانی نسل کے چند ادیب و شاعر خوش ہوجائیں اور نئی نسل کے چند شعراء اور ادباء غصے میں آجائیں۔ ہمارا اشارہ ان ’’غصہ ور نوجوانوں ‘‘ کی طرف نہیں ہے جنہیں اپنے غصے سے محبت ہے اور معاشرتی نشوونما کے اسباب دریافت کرنے سے نفرت۔ اسی لئے ان کا غصہ قہردرویش برجان درویش ہوکر رہ گیا اور ان کی تحریک اعصاب زدگی کی بناپر ٹوٹ گئی۔ بہرحال ان باتوں کا مقصد ایک نسل کو گھٹانا اور دوسری نسل کو بڑھانا نہیں ہے۔
نئی نسل یقیناً تاریخی وجود رکھتی ہے اور تاریخی ارتقاء کی ایک ضروری کڑی ہوتی ہے۔ لیکن نئی اور پرانی نسل میں غیرضروری امتیازات پیدا کرنے سے بچنے کی ہمیشہ ضرورت ہے۔ ادیبوں کی نئی نسل فیشن نہیں ہے، یہ نئی تخلیق اور نئی ضرورت ہے۔ مگر اسے پرانی نسل کا یکسر حریف یا یکسر ضد سمجھ لینا خود نئی نسل کے ساتھ ناانصافی اور معاشرہ کے ارتقائی رشتوں سے ناواقفیت ہوگی۔ نئے اور پرانے عہد میں تمام تر اختلافات کے باوجود ایک چیز اور ہوتی ہے جسے ہم قدر مشترک کہتے ہیں اور اسی بناپر ایک دور کا ادب اپنے دور کے ختم ہوجانے کے باوجود اہم، زندہ اور دلکش ہوتا ہے بلکہ بعض اوقات یہ اپنے دور کے مقابلے میں آنے والے ادوار میں زیادہ توجہ سے پڑھا جاتا ہے اور اپنی دلکشی کو زیادہ نمایاں کرتا ہے۔ اس کی دلکشی کو ابھارنے اور چمکانے میں نئے دور اور نئی نسل ہی کا ہاتھ ہوتا ہے۔ بہرصورت اسی قدر مشترک کی بناپر ہم میرؔ اور غاؔلب کو آج بھی پڑھتے اور پسند کرتے ہیں اور نئی نسل کا بڑے سے بڑا حامی بھی انہیں صرف یہ کہہ کر نہیں ٹرخاسکتا کہ میر و غالب پرانے ہوچکے ہیں۔ انہیں پرانی نسل سے تعبیر کرتے وقت بڑے تامل سے کام لینا ہوگا۔
بات یہ ہے کہ ادب نئی اور پرانی نسل کے معنوں میں نیا یا پرانا نہیں ہوتا۔ ادب میں عجائب خانے نہیں پائے جاتے جہاں پرانی نسل کے ادیبوں کی تخلیقات رکھی جاتی رہیں کیونکہ اس طرح سوچنے پر ہر نئی نسل پرانی ہوتی چلی جائے گی اور ادب کا کام زندگی کی تعمیر کی جگہ صرف عجائب خانوں کی تعمیر رہ جائے گا۔
پھر نئی نسل کیا چیز ہے؟ اس کی امتیازی خصوصیات کیا ہوسکتی ہیں ؟ اس سوال کے جواب سے قبل یہ بھی سوچئے کہ مختلف ادوار کے ادب میں قدر مشترک کا پایا جانا اپنی جگہ صحیح تو ہے لیکن کیا ہر دور کے ادب کی الگ الگ خصوصیتیں بھی ہوتی ہیں ؟ اس طرح سوچنے پر شاید نئی نسل کی خوبیوں اور خصوصیتوں کو متعین کرنے میں آسانی ہو۔ اب طلسم ہوشربا کی داستانوں اور پریم چند کے افسانوں کو سامنے رکھئے اور اس بات پر غور کیجئے کہ ان دونوں میں زبان و بیان کے علاوہ اور بھی کچھ فرق پایا جاتا ہے؟ اور اگر یہ فرق پایا جاتا ہے تو اس کی نوعیت کیاہے۔ اس طرح غور کرنے پر سب سے اہم فرق اس معاشرت میں ملے گا جو پریم چند کے دور میں پائی جاتی تھی اور جو طلسم ہوشربا کے دور میں نہیں پائی جاتی تھی اور نہ پائی جاسکتی تھی۔ یہاں ہمیں دو جداگانہ ماحول ملیں گے۔ ان دو مختلف ماحول کے آدمی ہاتھ پیر، آنکھ ناک کا ن میں ایک جیسے ہونے کے باوجود دوجداگانہ راہوں پر چلتے اور سوچتے ملیں گے۔ ان کے دماغ مختلف ہوں گے اور ہم تھوڑی سی کاوش کے بعد اس نتیجے پر یقیناً پہنچ جائیں گے کہ مختلف ادوار میں مشترک اقدار کے باوجود علاحدہ اقدار بھی ہوتی ہیں۔ نئے دور کی بعض اقدار اپنے پیش رَو زمانے یا دَور کی اقدار سے نہ صرف جدا ہوتی ہیں بلکہ بعض اوقات ان کی ضد اور مختلف معاشرتی مسائل کا نچوڑ یا مظہر ہوتی ہیں۔ لہٰذا سیدھی سادی زبان میں یوں کہہ لیجئے کہ نیا عہد اپنے ساتھ نئے معاشرتی مسائل بھی لے کر آتا ہے جو نئی فکر کو جنم دیتاہے۔