ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی ) نے ٹاٹا گروپ کی ہولڈنگ کمپنی ٹاٹا سنز کی جانب سے اپنی کور انویسٹمنٹ کمپنی ( سی آئی سی) رجسٹریشن ختم کرکے نجی اور غیر فہرست شدہ کمپنی کے طور پر برقرار رہنے کی درخواست مسترد کردی ہے۔
EPAPER
Updated: September 13, 2026, 4:04 PM IST | Mumbai
ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی ) نے ٹاٹا گروپ کی ہولڈنگ کمپنی ٹاٹا سنز کی جانب سے اپنی کور انویسٹمنٹ کمپنی ( سی آئی سی) رجسٹریشن ختم کرکے نجی اور غیر فہرست شدہ کمپنی کے طور پر برقرار رہنے کی درخواست مسترد کردی ہے۔
ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی ) نے ٹاٹا گروپ کی ہولڈنگ کمپنی ٹاٹا سنز (Tata Sons) کی جانب سے اپنی کور انویسٹمنٹ کمپنی ( سی آئی سی) رجسٹریشن ختم کرکے نجی اور غیر فہرست شدہ کمپنی کے طور پر برقرار رہنے کی درخواست مسترد کردی ہے۔ اس فیصلے کے بعد ٹاٹا سنز کے لیے اسٹاک ایکسچینج پر لسٹنگ کی راہ تقریباً صاف ہوگئی ہے۔ ذرائع کے مطابق آر بی آئی نے ہفتہ، ۱۲؍ ستمبر کو ٹاٹا سنز کے کمپنی سیکریٹری اور چیف فنانشل آفیسر کو خط کے ذریعے فیصلے سے آگاہ کیا۔ ٹاٹا سنز نے مارچ ۲۰۲۴ء میں آر بی آئی سے اپنی کور انویسٹمنٹ کمپنی (سی آئی سی ) رجسٹریشن واپس لینے کی درخواست کی تھی۔ کمپنی کا مقصد قرض سے پاک ہونے کے بعداین بی ایف سی کے دائرہ کار سے باہر نکل کر نجی اور غیر فہرست شدہ ادارے کے طور پر کام جاری رکھنا تھا۔ تاہم، آر بی آئی نے درخواست مسترد کرتے ہوئے ٹاٹا سنز کوپرلیئر نان بینکنگ فائنانشل کمپنی (اپر لیئر این بی ایف سی ) کے طور پر ریگولیٹری فریم ورک کے تحت برقرار رکھا ہے۔
یہ بھی پڑھئے:’’کامیابی فوراً نہیں ملتی، کبھی کبھی صبر کے ساتھ انتظار بھی کرنا پڑتا ہے‘‘
آر بی آئی نے ۲۰۲۲ء میں ٹاٹا سنز کواپر لیئر این بی ایف سی کے طور پر درجہ بندی کیا تھا۔ اس زمرے میں شامل اداروں پر عام این بی ایف سی کے مقابلے میں زیادہ سخت ضابطے نافذ ہوتے ہیں، جن میں اسٹاک ایکسچینج پر لازمی لسٹنگ بھی شامل ہے۔ آر بی آئی کے موجودہ ضوابط کے تحت ٹاٹا سنز کو ان تقاضوں کی پابندی کرنا ہوگی۔ ٹاٹا سنز کی موجودہ مالی حیثیت بھی اس معاملے میں اہم ہے۔ کمپنی کے اسٹینڈ الون اثاثے مارچ ۲۰۲۵ء تک تقریباً۷۵ء۱؍ لاکھ کروڑ روپے تھے، جبکہ نئے ریگولیٹری فریم ورک میں ایک لاکھ کروڑ روپے یا اس سے زیادہ کے اثاثوں والی این بی ایف سی کو اپر لیئر کے دائرے میں لایا جا سکتا ہے۔ ٹاٹا سنز ۲۷۔۲۰۲۶ء کے لیے آر بی آئی کی اپر لیئر این بی ایف سی فہرست میں بھی شامل رہی ہے۔
اس فیصلے کے نتیجے میں اب ٹاٹا سنز کے ممکنہ آئی پی اواور اسٹاک ایکسچینج لسٹنگ پر توجہ مرکوز ہوگی تاہم، ابھی تک ٹاٹا سنز کی جانب سے آئی پی او کی تاریخ، حجم یا ویلیوایشن کے بارے میں کوئی باضابطہ اعلان سامنے نہیں آیا ہے۔ اگر کمپنی لسٹ ہوتی ہے تو یہ ٹاٹا گروپ کے لیے ایک بڑی کارپوریٹ تبدیلی ہوگی اور اس سے کمپنی کی ملکیت، گورننس اور شیئر ہولڈرز کے درمیان حصص کی ساخت پر بھی اثر پڑ سکتا ہے۔
اس معاملے میں ٹاتا ٹرسٹس اور دیگر بڑے شیئر ہولڈرز کے مفادات بھی اہم ہیں۔ ٹاٹا ٹرسٹس ٹاٹا سنز میں تقریباً ۶۶؍ فیصد حصص رکھتے ہیں، جبکہ شاپورجی پلونجی گروپ تقریباً۱۸؍ فیصد حصص کے ساتھ ایک اہم اقلیتی شیئر ہولڈر ہے۔ لسٹنگ کی صورت میں اقلیتی شیئر ہولڈرز کو اپنے حصص کی قدر ظاہر ہونے اور ممکنہ طور پر حصص فروخت کرنے کا موقع مل سکتا ہے، جبکہ ٹاٹا گروپ کے کنٹرول اور مستقبل کی گورننس کے حوالے سے بھی نئی صورتحال پیدا ہوسکتی ہے۔
یہ بھی پڑھئے:مالیگاؤں: محکمۂ صحت میں عارضی ملازمت کیلئے امیدواروں کی کثرت
آر بی آئی کا یہ فیصلہ ٹاٹا سنز کے لیے ایک اہم موڑ قرار دیا جا رہا ہے۔ ۱۵۵؍ سال پرانے ٹاٹا گروپ کی بنیادی ہولڈنگ کمپنی کو اب نجی حیثیت برقرار رکھنے کے بجائے ریگولیٹری تقاضوں کے مطابق عوامی طور پر لسٹ ہونے کی سمت میں آگے بڑھنا پڑ سکتا ہے۔ تاہم، لسٹنگ کے حتمی عمل، ٹائم لائن اور ممکنہ آئی پی او کے بارے میں مزید تفصیلات کمپنی اور ریگولیٹر کی آئندہ کارروائی کے بعد ہی واضح ہوں گی۔