بشیر پرواز کا ڈرامہ بھی ختم نہیں ہوا ہے،اس کے کردار اسٹیج پر موجود ہیں، ان کے شاگرد موجود ہیں، ان کی مسکراہٹ موجود ہے اوران کا خلوص موجود ہے۔
EPAPER
Updated: September 07, 2026, 12:56 PM IST | Mujeeb Khan | Mumbai
بشیر پرواز کا ڈرامہ بھی ختم نہیں ہوا ہے،اس کے کردار اسٹیج پر موجود ہیں، ان کے شاگرد موجود ہیں، ان کی مسکراہٹ موجود ہے اوران کا خلوص موجود ہے۔
بشیر پروازؔ صاحب سے میری ملاقات کا سلسلہ تقریباً چالیس برسوں پر محیط ہے۔ چالیس برس.... ایک انسان کو جاننے، سمجھنے اور اس کی شخصیت کے کئی رنگ دیکھنے کے لئے کم مدت نہیں ہوتی۔ لیکن بشیر پرواز کو یاد کرتے ہوئے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے یہ چالیس برس بھی کسی طویل ڈرامے کے مختلف مناظر تھے، جن میں ایک کردار ہر بار اپنی مخصوص مسکراہٹ کے ساتھ اسٹیج پر آتا رہا اور آج اچانک پردے کے پیچھے چلا گیا۔ بشیر صاحب اسکول ٹیچر تھے، فطرتاً شاعر، شوق سے ناٹک باز اور دل سے ایک بے حد پیارے انسان۔جب بھی ان سے ملاقات ہوتی، وہ دورہی سے مسکراتے ہوئے آتے اور اس قدر خلوص سے ملتے کہ یوں محسوس ہوتا جیسے ہم ایک دوسرے کے غم گسار اور دیرینہ ساتھی ہوں۔ حالانکہ ہماری ملاقاتیں عموماً اردو اکادمی کے ڈراما مقابلوں تک ہی محدود رہتی تھیں۔ ان کی یہ مسکراہٹ شاید ان کی شخصیت کا سب سے خوبصورت مکالمہ تھی ،ایسا مکالمہ جس کے لئےکسی اسکرپٹ کی ضرورت نہیں تھی۔اکثر ہمارے ڈرامے دیکھنے کے بعد وہ ہم سے گفتگو کرتے۔ کبھی ٹیکنیک پر، کبھی موضوع پر اور کبھی اردو اکادمی کے ججوں پر بھی تبادلۂ خیال ہوجاتا۔ ان کی گفتگو میں ایک فنکار کی نظر بھی تھی اور ایک استاد کی فکر بھی۔ وہ صرف ڈرامہ دیکھتے نہیں تھے، اسے پڑھتے تھے؛ کرداروں کے اندر جھانکتے تھے اور اسٹیج پر کہی گئی بات کے پیچھے چھپی ہوئی بات کو محسوس بھی کرتے تھے۔
یہ بھی پڑھئے: ’’یہ ناقابل فہم تھا کہ جو کتاب چھوٹی باجی پڑھ سکتی ہیں وہ میں کیوں نہیں؟‘‘
وہ زمانہ شولاپور میں ڈراموں کا ایک سنہرا دور تھا۔ ڈرامے دیکھنے والوں کی بھی ایک اچھی خاصی تعداد تھی۔ ممبئی میں اس زمانے میں بھی اردو ناٹکوں کے ناظرین کم تھے اور آج بھی صورتِ حال کچھ مختلف نہیں۔ شاید اسی لیے شولاپور کا وہ ماحول اردو تھیٹر سے وابستہ لوگوں کیلئے کسی نعمت سے کم نہ تھا۔ وہاں ڈرامہ صرف اسٹیج پر نہیں ہوتا تھا، لوگوں کی گفتگو، گھروں اور چائے کی محفلوں میں بھی زندہ رہتا تھا۔ شولاپور میں ڈرامہ مقابلے کے انعقاد کا مطالبہ اردو اکادمی سے کیا جا رہا تھا۔ آخرکار ایک سال وہاں بھی ڈرامہ مقابلہ منعقد ہوا اور خاکسار کو بھی شولاپور جانے کا موقع ملا۔اس مرتبہ محترم بشیر پرواز سے ملاقات ایک نئے انداز میں ہوئی۔ یہ ملاقات ممبئی جیسی مختصر ملاقات نہیں تھی بلکہ ان کے اپنے شہر میں تھی۔ چائے کا سلسلہ تقریباً ہر گھنٹے جاری رہتا۔ کراجیکر سر بھی ساتھ ہوتے اور راجہ باغبان اور اقبال سید بھی چائے کے ساتھی رہتے۔ اس وقت راجہ اور اقبال جونیئر تھے۔ ہماری گفتگو وہ زیادہ تر خاموشی سے سنتے لیکن پرواز صاحب کے وہاں سے ہٹتے ہی اپنے دل کے سوالات پوچھ بیٹھتے۔آج پیچھے مڑ کر دیکھتا ہوں تو لگتا ہے وہ چائے کی محفلیں بھی اپنے اندر ایک چھوٹا سا تھیٹر تھیں۔ ایک طرف استاد پرواز تھے، دوسری طرف ہم لوگ اور سامنے بیٹھے دو نوجوان، راجہ اور اقبال جو شاید اس وقت خود بھی نہیں جانتے تھے کہ وہ ایک دن اپنے استاد کے سکھائے ہوئے فن کے وارث بن کر اسی اسٹیج کو روشن کریں گے۔
میں نے بشیر صاحب کو کبھی پریشان یا ڈسٹرب نہیں دیکھا۔ انہیں انعام ملا یا نہ ملا، ان کے چہرے پر کبھی ملال نظر نہیں آیا۔ مقابلہ ان کے لئے جیتنے یا ہارنے کا نام نہیں تھا، اصل کامیابی یہ تھی کہ ڈرامہ اسٹیج تک پہنچا، فنکاروں نے کچھ سیکھا اور اردو زبان کا ایک چراغ جلتا رہا۔ بطورایک ڈرامہ نگار میں جانتا ہوں کہ اسٹیج پر تالی صرف چند لمحوں کی ہوتی ہے، مگر ایک استاد کی دی ہوئی تربیت کا اثر برسوں تک رہتا ہے۔ بشیر پرواز شاید انہی طویل تالیوں کے مستحق تھے جو ان کے شاگردوں کے فن میں آج بھی سنائی دیتی ہے۔نہ جانے کتنے بچوں کو انہوں نے پڑھایا اور کتنے بچوں کو ڈرامہ سکھایا۔ ان کے شاگردوں میں راجہ باغبان اور سید اقبال آج بھی ان کی دی ہوئی تعلیم اور تربیت کو اسٹیج کی زینت بنا رہے ہیں۔ استاد چلا جاتا ہے، سبق رہ جاتا ہے، کردار ختم ہوجاتا ہے، اس کا مکالمہ باقی رہتا ہے۔ بشیر صاحب بھی چلے گئے، مگر ان کا سکھایا ہوا مکالمہ آج بھی اسٹیج پر بولا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھئے:مٹھی میں بند انقلاب
ان کے بھائی میرافضل سے بھی میرے گہرے مراسم ہیں۔ وہ تھیٹر سے نہیں بلکہ شاعری سے وابستہ ہیں۔ دراصل شاعری اور ڈرامہ دونوں ہی بشیر صاحب کو وراثت میں ملے تھے۔ ان کے والد بزرگوار، جناب قدیر شولاپوری، اپنے دور کے نامور شاعر اور ڈرامہ نگار تھے۔ کئی مرتبہ اسکولوں کے مقابلوں میں ان کے لکھے ہوئے ناٹکوں کو ایوارڈ سے نوازا گیا۔گویا پرواز صاحب کے گھر میں لفظ محض لفظ نہیں تھا،وہ کبھی شعر بنتا تھا، کبھی مکالمہ اور کبھی اسٹیج پر ایک زندہ کردار۔یہ بھی ایک عجیب اور شاید قدرت کی لکھی ہوئی ڈرامائی سطروں جیسا اتفاق ہے کہ قدیر صاحب کا یومِ پیدائش ۴؍ ستمبر ہے اور بشیر صاحب کا یومِ وفات ۳؍ ستمبر۔ زندگی بھی کبھی کبھی ایسے منظر لکھ دیتی ہے جنہیں کوئی ڈرامہ نگار لکھے تو شاید اسے بھی اتفاق کہہ کر یقین کرنا مشکل ہو۔
بشیر صاحب نے بزمِ غالب کی بنیاد رکھی اور اس کے بینر تلے ادبی سرگرمیوں کا سلسلہ جاری رکھا۔ ہر سال ڈراموں کے مقابلے بھی منعقد کرواتےرہے۔ حالانکہ وہ کافی عرصے سے علیل تھے، اس کے باوجود انہوں نے امسال بھی ڈرامہ مقابلے کا اہتمام کیا۔یہ ان کی شخصیت کا ایک اور روشن پہلو تھا۔ جسم تھک سکتا تھا، بیماری حوصلہ توڑ سکتی تھی، مگر فن کے لئے ان کا جذبہ بیمار نہیں ہوا۔ جب زندگی کا اپنا اسٹیج مدھم پڑ رہا تھا، تب بھی وہ دوسروں کے لئے اسٹیج کی روشنیاں جلانے میں مصروف تھے۔شولاپور میں اردو میلے کے انعقاد میں بھی مرحوم نے نمایاں کردار ادا کیا تھا۔ آل انڈیا ڈرامہ فیسٹیول، جس کے روحِ رواں عمر بیریا صاحب تھے، اس میں بھی بشیر صاحب کی کوششیں اور خدمات قابلِ ذکر رہیں۔ وہ ان لوگوں میں سے تھے جو صرف پروگرام کا حصہ نہیں بنتے بلکہ پردے کے پیچھے کھڑے ہو کر اسے ممکن بناتے ہیں۔
شولاپور انہیں ہمیشہ اردو ڈراموں کے ایک سچے، مخلص اور بے لوث خادم کی حیثیت سے یاد رکھے گا۔ ان کا سکھایا ہوا ڈرامہ، ان کا خلوص اور ان کی وہ پیاری مسکراہٹ آج بھی ان کے شاگردوں راجہ باغبان اور اقبال سید میں نظر آتی ہے۔
یہ بھی پڑھئے:مولوی صاحب علی گڑھ کے ذہین طلباء میں ممتاز اورساتھیوں نیز اساتذہ میں مقبول تھے
اور شاید یہی کسی استاد کی سب سے بڑی کامیابی ہے۔پردہ گرتا ہے، فنکار اسٹیج سے چلا جاتا ہے، تالیاں خاموش ہوجاتی ہیں… مگر اگر اس نے اپنے پیچھے چند اچھے فنکار، چند اچھے انسان اور فن سے محبت کرنے والے چند دل چھوڑ دیے ہوں تو ڈرامہ ختم نہیں ہوتا۔بشیر پرواز کا ڈرامہ بھی ختم نہیں ہوا ہے۔اس کے کردار اسٹیج پر موجود ہیں۔ ان کے شاگرد موجود ہیں۔ ان کی مسکراہٹ موجود ہے۔ ان کا خلوص موجود ہے۔ اور اردو تھیٹر کی وہ روشنی بھی موجود ہے جسے انہوں نے اپنی زندگی میں بجھنے نہیں دیا۔اردو تھیٹر کو راجہ باغبان اور اقبال سید سے امید ہے کہ وہ اپنے استاد کی جلائی ہوئی اس روشنی کو ہمیشہ آگے کی نسلوں تک پہنچاتے رہیں گے۔ یہی اپنے استاد کو سب سے خوبصورت خراجِ عقیدت ہوگا۔
’’آج وہ ہمارے درمیان نہیں ہیں۔ ڈرامے کی زبان میں کہیں تو ان کا آخری منظر ادا ہوچکا ہے، مگر کہانی ابھی باقی ہے۔ کیونکہ کچھ فنکار اپنے جانے کے بعد بھی اپنے کرداروں، اپنے مکالموں اور اپنے شاگردوں کے ذریعے اسٹیج پر موجود رہتے ہیں۔بشیر پرواز بھی ایسے ہی فنکار تھے۔ شولاپور انہیں یاد رکھے گا۔ اردو تھیٹر انہیں یاد رکھے گا۔ ان کے شاگرد انہیں یاد رکھیں گے اور ہم جیسے لوگ جنہوں نے ان کی مسکراہٹ اور خلوص کو قریب سے دیکھا، شاید انہیں سب سے زیادہ ان ہی چھوٹی چھوٹی ملاقاتوں کے سبب یاد کریں گے۔‘‘