Inquilab Logo Happiest Places to Work

جب حضرت عباسؓ نے مکہ میں ایک ایک کو بتایا کہ سچ وہ نہیں جسے سن کر تم خوش ہو

Updated: February 24, 2023, 11:25 AM IST | Maulana Nadeem Al-Wajdi | Mumbai

سیرتِ نبی ٔ کریم ؐ کی اس خصوصی سیریز میں آج حضرت ابو ہریرہؓ کے علاوہ حجاج بن علاط سلمی کا تذکرہ پڑھئے کہ غزوۂ خیبر کے بعد وہ حضورؐکی اجازت سے کس طرح مکہ واپس گئے، مشرکین سے کیا کہا اَور حضرت عباسؓ بن عبدالمطلب کو کیسے تسلی دی

Hazrat Abbas bin Abdul Muttalib, the uncle of the Holy Prophet lived in Makkah and he was well-wisher of Islam and Muslims in the love of his nephew.
حضور ؐ کے چچا حضرت عباسؓ بن عبد المطلب مکہ میں ہی رہتے تھے اور بھتیجے کی محبت میں وہ اسلام اور مسلمانوں کے خیر خواہ تھے

حضرت ابوہریرہؓ بھی خیبر پہنچے
مشہور صحابی حضرت ابوہریرہؓ بھی فتح خیبر کے بعد مدینے پہنچے۔  ان کا اصل نام عبد الشمس تھا۔ قبول اسلام کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا نام عبد الرحمٰن رکھا، ابوہریرہ کنیت تھی۔   ہرۃ  عربی میں بلی کو کہتے ہیں، انہیں بلّی پالنے کا بڑا شوق تھا، گھر باہر ہر جگہ بلی ان کے ساتھ رہتی تھی۔ لوگوں نے بلیوں کے ساتھ ان کی یہ غیر معمولی دلچسپی دیکھی تو ان کو ابوہریرہ کہنے لگے۔ یمن کے قبیلۂ دوس سے تعلق تھا، باپ کا سایہ بچپن ہی میں سر سے اٹھ گیا تھا، پوری زندگی غربت اور افلاس میں گزری، حضرت طفیل بن عمرو دوسی ہجرت سے قبل مشرف بہ اسلام ہوچکے تھے۔ واپس جاکر انہوں نے اپنے قبیلے میں محنت کی، اس کے نتیجے میں دوس میں اسلام پھیلا۔ فتح خیبر کے زمانے میں حضرت طفیل بن عمرو اور ان کے مسلمان ساتھی ہجرت کے ارادے سے یمن سے نکلے۔ 
 حضرت ابوہریرہؓ بھی ان کے ساتھ ہی تشریف لائے۔ مدینہ پہنچے تو معلوم ہوا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم خیبر گئے ہوئے ہیں۔ یہ حضرات وہیں پہنچ گئے۔ حضرت ابوہریرہؓ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دست مبارک پر اسلام قبول کیا اور قبول اسلام کے بعد پوری زندگی دامان نبوت سے وابستہ رہے۔ حدیث نبویؐ کا بڑا سرمایہ ان کے ذریعے ہی امت تک پہنچا ہے۔ کئی غزوات میں بھی شرکت فرمائی، غزوۂ خیبر کے علاوہ تمام غزوات میں مال غنیمت میں حصہ ملا، غزوۂ خیبر میں اس لئے نہیں ملا کہ یہ اہل حدیبیہ کے ساتھ مخصوص تھا، اہل حدیبیہ کے علاوہ کچھ لوگوں کو بھی خیبر کی غنیمت میں سے کچھ نہ کچھ ان کی خصوصیت کی بنیاد پر دیا گیا، جیسا کہ حضرت جعفرؓ بن طالب اور ان کے مہاجر رفقاء کو دیا گیا۔ (مختصر تاریخ دمشق: ۸/۴۲۸، اسد الغابہ: ۳/۲۵۸)
حجاج بن عِلَاط سُلَمی کا قصہ
 مشہور صحابی ہیں، پیشہ تجارت تھا، کافی دولت مند تھے۔ غزوۂ خیبر میں شریک رہے۔ فتح خیبر کے بعد انہوں نے ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کیا: یارسولؐ اللہ! مکہ مکرمہ میں میرے بیوی بچے ہیں اور میرا کافی پیسہ بھی وہاں کے لوگوں کے ذمے باقی ہے، اگر میں ان سے وصول کرنے نہیں گیا تو میرا سارا پیسہ ڈوب جائے گا، اگر آپؐ اجازت دیں تو میں مکہ  چلا جاؤں، وہاں سے اپنا پیسہ بھی لے آؤں اور بیوی بچوں سے بھی ملاقات کرلوں۔ ان کی اہلیہ ام شیبہ؛ بنی عبد الدار سے تعلق رکھتی تھیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو مکّہ جانے کی اجازت دے دی۔ حجاج نے عرض کیا: یارسولؐ اللہ! مجھے اپنا پیسہ نکلوانے کے لئے کچھ باتیں خلاف ِ واقعہ بھی کہنی پڑیں گی، سچ سے گریز بھی کرنا پڑے گا اور کچھ ایسا ہی آپؐ کے تعلق سے بھی کہنا سننا  پڑے گا، قریش کی ہاں میں ہاں بھی ملانی ہوگی، کیا میں ایسا کرسکتا ہوں؟  آپؐ نے ان کو اجازت مرحمت فرما دی۔  
 حجاج بن علاطؓ دربار نبویؐ سے اجازت پاکر عازم مکہ ہوئے، ان کی کوشش یہ تھی کہ کسی طرح وہ فتح خیبر کی خبر عام ہونے سے پہلے مکہ پہنچ جائیں اور اپنا مقصد پورا کرکے لوَٹ آئیں۔ وہ تیز رفتاری کے ساتھ سفر کرتے ہوئے مکّہ پہنچے، اپنی بیوی کے پاس گئے، اور اس سے کہا کہ جو مال تمہارے پاس ہے وہ سب اکٹھا کرکے مجھے دو، میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے اموالِ غنیمت خریدنا چاہتا ہوں، انہیں شکست ہوچکی ہے اور بہت کچھ مالِ غنیمت دشمنوں کے ہاتھ لگا ہے، اس سے پہلے کہ دوسرے تاجروںکو اس کی بھنک لگے میں زیادہ سے زیادہ مال خرید لینا چاہتا ہوں۔ ذرا سی دیر میں یہ خبر پورے مکّہ میں پھیل گئی، وہاں جو مسلمان تھے وہ یہ خبر سن کر رنجیدہ ہوگئے جبکہ مشرکین خوشی سے رقص کرنے لگے۔
 ایک روایت میں یہ ہے کہ حجاج بن علاط ثنیۃ الوداع میں پہنچے جو مکّہ سے پہلے ایک وادی ہے، وہاں کچھ مشرکین بیٹھے ہوئے آنے جانے والوں سے مدینہ کی خبریں معلوم کررہے تھے، انہوں نے حجاج کو دیکھا تو ایک دوسرے سے کہنے لگے، یہ تو حجاج بن علاط ہے، وہ ان کے اسلام سے بے خبر تھے۔ انہیں دیکھ کر کہنے لگے: ابومحمد! ہمارے لئے بھی تمہارے پاس کوئی خبر ہے، ہمیں معلوم ہوا ہے کہ محمد خیبر گئے ہوئے ہیں، اور خیبر یہودیوں کا بڑا شہر اور بڑا زرخیز علاقہ ہے۔ حجاج نے کہا: میرے پاس تمہارے لئے ایک خوش کن خبر ہے، یہ سنتے ہی وہ حجاج کی اونٹنی کے ارد گرد جمع ہوگئے اور ان سے وہ خبر سننے کیلئے بے تاب نظر آنے لگے، حجاج نے انہیں بتلایا کہ یہودیوں نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو کراری شکست دی ہے، ایسی شکست کے بارے میں تم نے کبھی سوچا بھی نہ ہوگا، ان کے ساتھی (صحابۂ کرام) بھی بری طرح قتل کردیئے گئے ہیں، تم نے اس طرح کے قتل کا تصور بھی نہیں کیا ہوگا، محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) گرفتار کرلئے گئے ہیں، یہودی کہتے ہیں کہ ہم انہیں خود قتل نہیں کریں گے، بلکہ ان کو مکّہ بھیجا جائے گا، اہل مکّہ محمد کو ان لوگوں کے سامنے قتل کریں گے، جن کے آدمیوں کو انہوں نے مارا ہے۔
 حجاج بن علاط کہتے ہیں کہ میری یہ باتیں سن کر قریش کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہ رہا، وہ ایک دوسرے کو بتلانے لگے کہ یہ ابومحمد (حجاج بن علاط) وہاں سے آیا ہے، اور ہمارے لئے نہایت خوش کن خبر لے کر آیا ہے، محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کو یہاں لایا جائے گا اور انہیں سب کے سامنے قتل کیا جائے گا، میں نے قریش مکہ کو بتلایا کہ مکہ کے کچھ لوگوں پر میرا قرض ہے، ان سے میرا قرض واپس دلانے میں میری مدد کرو، میں واپس جاکر اس موقع سے فائدہ اٹھانا چاہتا ہوں، محمد اور ان کے ساتھیوں سے لو‘ٹا ہوا سامان خرید لینا چاہتا ہوں جو سستے داموں بک رہا ہے، ایسا نہ ہو کہ دوسرے تاجر مجھ سے پہلے وہاں پہنچ جائیں۔ قریشیوں نے یہ سن کر میری مدد میں کوئی کسر نہ چھوڑی، اور اتنی تیزی سے میرا قرض وصول کرایا کہ میں نے ایسا منظر کبھی نہ دیکھا تھا۔
 حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا حضرت عباس بن عبد المطلب مکہ میں ہی رہتے تھے، وہ مسلمان نہیں ہوئے تھے، لیکن بھتیجے کی محبت میں وہ اسلام اور مسلمانوں کے خیر خواہ تھے، انہوں نے یہ خبر سنی تو دل تھام کر بیٹھ گئے، حضرت ثابت بن انسؓ کہتے ہیں کہ یہ خبر سن کر انہوں نے اپنے ایک غلام کو حجاج کے پاس بھیج کر یہ کہلوایا کہ او بدبخت انسان تو یہ کیسی خبر لے کر آیا ہے، اللہ تعالیٰ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے خیر کا وعدہ کررکھا ہے، اس خبر کی حقیقت کیا ہے؟ حجاج نے غلام سے کہا: ابو الفضل سے میرا سلام کہنا اور عرض کرنا کہ میں ان سے تنہائی میں ملاقات کروں گا، خبر آپ کیلئے باعث مسرت ہے، حجاج کی خبر سن کر حضرت عباس بیمار پڑ گئے تھے۔ غلام نے آکر یہ بات بتلائی تو اٹھ کر بیٹھ  گئے، غلام کی پیشانی پر بوسہ دیا اور اس خوشی میں اسے آزاد بھی کردیا، جب حجاج اپنے کام سے فارغ ہوگئے تب وہ حضرت عباس سے ملنے گئے، حضرت عباس بے تابی سے ان کا انتظار کررہے تھے، انہیں دیکھتے ہی کہنے لگے: کیسی خبر ہے جو تم لے کر آئے ہو؟ حجاج اتنے عرصے میں اپنا مال جمع کرچکے تھے، اور اب وہ جلد از جلد یہاں سے نکلنا چاہتے تھے، انہیں ڈر تھا کہ کہیں مدینے کے اطراف سے کوئی شخص ادھر نہ آنکلے اور قریشیوں کو صحیح صورت حال سے آگاہ نہ کردے، مکّے والے صحیح بات سن کر برداشت نہیں کرپائیں گے، انہیں  قتل بھی کردیں گے اور ان کامال بھی چھین لیں گے۔ حجاج نے حضرت عباس سے کہا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر فتح کرلیا ہے، بہت سا مال غنیمت ہاتھ آیا ہے، اللہ کے مقرر کردہ اصولوں کے مطابق اس کی تقسیم عمل میں آچکی ہے،  پورا خیبر محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے ساتھیوں کا ہے، میں یہاں صرف اپنا مال لینے کے لئے آیا ہوں، اگر میں یہ تدبیر اختیار نہ کرتا تو یہاں کے لوگ میرا ایک حبّہ بھی واپس نہ کرتے، میں نے جو کچھ کیا ہے اور جو کچھ کہا ہے وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مرضی اور اجازت سے کیا اور کہا ہے، مَیں مسلمان ہوچکا ہوں اور اب یہاں سے رخصت ہورہا ہوں، آپ تین دن تک خاموش رہیں، تین دن کے بعد جس سے جو کہنا ہو کہیں۔
 یہ تین دن حضرت عباسؓ کے لیے ہجرکی تین راتوں کی طرح طویل تھے، ان سے اس خوشی کو جو حجاج کے ذریعے ملی تھی چھپانا مشکل تھا، ایک ایک دن ان پر بھاری گزر رہا تھا، جب تین دن پورے ہوگئے تو حضرت عباسؓ حجاج کے گھر گئے اور خاتونِ خانہ سے پوچھا کہ حجاج کہاں ہیں، اس نے جواب دیا کہ وہ تین دن پہلے ہی یہاں سے جا چکے ہیں، اس کے ساتھ ہی اس خاتون نے حضرت عباس کے ساتھ اظہار ہمدردی کے طور پر یہ بھی کہا کہ اے ابو الفضل! اللہ تعالیٰ تمہیں رسوا اور ذلیل نہ کرے، ہمیں بھی اس خبر سے بہت دکھ ہوا ہے۔ حضرت عباسؓ نے جواب دیا، اللہ مجھے رسوا نہ کرے، بات ایسی نہیں ہے جیسی تم لوگوں تک پہنچی ہے، حقیقت تو یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے میرے بھتیجے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو خیبر فتح کرا دیا ہے، مال غنیمت کی تقسیم عمل میں آچکی ہے۔
حجاج کے گھر سے حضرت عباسؓ قریش مکہ کی بیٹھکوں اور ان کی قیام گاہوں پر پہنچے، اور ایک ایک کو پکڑ پکڑ کے یہ بتلایا کہ صحیح خبر وہ نہیں تھی جسے سن کر تم خوش ہو، صحیح خبر یہ ہے۔ تین چار دن تک قریش کا حال یہ رہا کہ وہ حضرت عباسؓ کی طرف دیکھ کر تمسخرانہ انداز میں مسکراتے، اور  بظاہر ہمدردی کے دو چار بول بھی بول دیتے، اب موقع ملا تو حضرت عباسؓ نے پورا پورا بدلہ لے لیا۔ قریش یہ سن کر ہکا بکا رہ گئے، کہنے لگے: اے ابو الفضل! تمہیں یہ خبر کس نے دی ہے، فرمایا: یہ خبر وہی شخص لایا ہے جو تمہارے پاس پہلی خبر لے کرآیا تھا، وہ مسلمان تھا، اس نے اس تدبیر سے اپنا مال حاصل کیا اور چلتا بنا۔ قریش ایک دوسرے سے کہنے لگے: تمہارا ناس ہو، دشمن ِ خدا ہاتھ سے نکل گیا، خدا کی قسم اگر ہمیں معلوم ہوجاتا تو ہم ہوتے اور وہ ہوتا۔ (سیرت ابن ہشام: ۴/۲۶۰، ۲۶۱، مسند احمد بن حنبل: ۲۵/۹، رقم الحدیث: ۱۱۹۶۰، اللؤلؤ المکنون فی سیرۃ النبی المامون ص:۴۷۹)
(جاری)

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK