آج ہماری زمین ایک ایسے ہولناک دوراہے پر کھڑی ہے جہاں اسے نہ صرف بیرونی خطرات یعنی ماحولیاتی تبدیلیوں کا سامنا ہے، بلکہ اندرونی طور پر انسانی معاشرہ، اخلاقیات اور نفسیاتی صحت کے اعتبار سے بھی شدید ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے۔
EPAPER
Updated: June 05, 2026, 4:37 PM IST | Dr. Simin Azaar | Mumbai
آج ہماری زمین ایک ایسے ہولناک دوراہے پر کھڑی ہے جہاں اسے نہ صرف بیرونی خطرات یعنی ماحولیاتی تبدیلیوں کا سامنا ہے، بلکہ اندرونی طور پر انسانی معاشرہ، اخلاقیات اور نفسیاتی صحت کے اعتبار سے بھی شدید ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے۔
آج ہماری زمین ایک ایسے ہولناک دوراہے پر کھڑی ہے جہاں اسے نہ صرف بیرونی خطرات یعنی ماحولیاتی تبدیلیوں کا سامنا ہے، بلکہ اندرونی طور پر انسانی معاشرہ، اخلاقیات اور نفسیاتی صحت کے اعتبار سے بھی شدید ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے۔ ایک طرف کارخانوں اور جنگی بارود کا دھواں زمین کا درجہ حرارت بڑھا رہا ہے، دوسری طرف نفرتوں کی سیاست اور جنگوں کی آگ انسانی دلوں کو بنجر بنا رہی ہے۔ اکیسویں صدی کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ انسان نے مادی اور تکنیکی ترقی تو کر لی، لیکن وہ اپنے ماحول اور اپنے اندر کے انسان کو بچانے میں ناکام ثابت ہو رہا ہے۔
گلوبل وارمنگ اور ماحولیاتی تبدیلی: زمین کا بڑھتا ہوا بخار
سائنسدانوں اور ماحولیات کے ماہرین کے مطابق، موجودہ دور تاریخ کا گرم ترین دور ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔ `گلوبل وارمنگ اب کوئی ایسا خطرہ نہیں رہا جو مستقبل میں آئے گا، بلکہ یہ اب ہماری تلخ حقیقت بن چکا ہے۔ بے وقت کی بارشیں، شدید ترین سیلاب، طویل قحط سالی اور گلیشیئرز کا تیزی سے پگھلنا اس بات کا ثبوت ہیں کہ زمین اب مزید ظلم برداشت کرنے کے قابل نہیں رہی۔ ترقی یافتہ ممالک کی بے لگام صنعتی دوڑ اور کاربن کے اخراج نے اوزون کی پرت کو شدید نقصان پہنچایا ہے، جس کا خمیازہ پوری دنیاکو بھگتنا پڑ رہا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: شہری آبادکاری اور تعمیرات کے سلسلے میں سردار الانبیاءؐ کی بے مثال منصوبہ بندی
جنگ کی ہولناکی: فضا، پانی اور آب و ہوا پر حملے
موجودہ دور کی جنگیں صرف دو ممالک کے مابین بالادستی کی جنگ نہیں ہیں، بلکہ یہ زمین اور اس کے قدرتی نظام کے خلاف ایک کھلا اعلانِ جنگ ہیں۔ جب دنیا کے مختلف خطوں میں جدید میزائل، راکٹ اور بم دھماکے ہوتے ہیں، تو ان سے نکلنے والی زہریلی گیسیں فضا کو مستقل طور پر آلودہ کر دیتی ہیں۔ فوجی جیٹ طیاروں، ٹینکوں اور بحری جہازوں میں استعمال ہونے والا لاکھوں گیلن ایندھن فضا میں کاربن کی مقدار کو خطرناک حد تک بڑھا رہا ہے۔ بمباری اور بارود کے نتیجے میں لگنے والی آگ جب ہفتوں جلتی رہتی ہے، تو اس سے نکلنے والا ’’بلیک کاربن‘‘ (کاجل) فضا کی اوپری تہوں میں جمع ہو کر سورج کی گرمی کو جذب کرتا ہے، جو زمین کے درجہ حرارت میں اضافےکا باعث بنتا ہے۔اس تباہی کا دوسرا شکار پانی کے ذخائر ہیں۔ جنگیں پینے کے صاف پانی کے نیٹ ورک اور ڈیموں کو تباہ کر دیتی ہیں۔ بارود میں موجود کیمیکلز، سیسہ اور تابکار مواد مٹی میں جذب ہو کر زیرِ زمین پانی کو ہمیشہ کے لئے زہریلا بنا دیتے ہیں، جس سے `پانی کا شدید بحران جنم لیتا ہے۔
سماجی انتشار اور پناہ گزینوں کا المیہ
فطرت کے اس بگاڑ کے ساتھ ساتھ انسانی معاشرہ بھی شدید خلفشار کا شکار ہے۔ بارود کے دھویں نے عالمی معیشت اور سماجی ڈھانچے کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ لاکھوں معصوم لوگ اپنے گھروں کو چھوڑ کر ہجرت کرنے پر مجبور ہیں، اور پناہ گزینوں کا بحران ایک سنگین سماجی مسئلہ بن چکا ہے۔ جنگوں نے دنیا کو امن اور ترقی کے راستے سے ہٹا کر خوف، بھوک اور عدم تحفظ کے سائے میں دھکیل دیا ہے، جہاں غریب اور پسماندہ طبقات سب سے زیادہ پس رہے ہیں۔
جذباتی گراوٹ اور جدید معاشرہ
ان تمام بیرونی اور ماحولیاتی بحرانوں کا سب سے ہولناک اثر انسانی نفسیات اور احساسات پر پڑا ہے۔ آج کا انسان مادی اور ڈیجیٹل طور پر جڑا ہوا ہونے کے باوجود اندر سے بالکل اکیلا ہے۔ تکنیکی ترقی اور سوشل میڈیا کے بے جا استعمال نے انسانوں کے درمیان سے حقیقی ہمدردی، رواداری اور خلوص کو ختم کر دیا ہے۔اس جذباتی گراوٹ کی وجہ سے معاشرے میں عدم برداشت، خود غرضی، اور ذہنی تناؤ میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے۔ جب ایک عام انسان اپنے آس پاس جنگ کی ہولناکی، معصوم بچوں کی موت، بھوک، اور ماحولیاتی تباہی کی خبریں تواتر سے دیکھتا ہے، تو اس کے اندر کی حسِ ہمدردی مفلوج ہو جاتی ہے۔ یہ جذباتی سرد مہری ہے جو ہمیں دوسروں کے دکھ اور تکلیف پر خاموش تماشائی بنا دیتی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: مردم شماری میں حصہ لیں، غفلت نہ ہو، یہ آپ کی اہم ذمہ داری ہے
اب نہیں تو کب؟ تبدیلی کی پکار
اب وقت آ گیا ہے کہ عالمی رہنما، دانشور اور عام شہری اس مشترکہ تباہی کے خلاف بیدار ہوں۔ ماحولیاتی تحفظ اور امن کا قیام صرف حکومتوں کا کام نہیں بلکہ ہر فرد کی ذمہ داری ہے۔ ہمیں اپنی زمین کو بچانے کے لئے بڑے پیمانے پر شجرکاری کو فروغ دینا ہوگا، کاربن کے اخراج کو کم کرنا ہوگا اور جنگی جنون کے بجائے سفارتی ذرائع اور مذاکرات کے راستے اختیار کرنے ہوں گے۔ دوسری طرف، ہمیں اپنے اندر کے انسان کو بھی زندہ کرنا ہوگا اور دلوں میں محبت، اخوت، امن اور رواداری کو جگہ دینی ہوگی۔ اگر ہم نے آج اپنے رویوں کو نہ بدلا، اپنے ماحول اور اپنے احساسات کی حفاظت نہ کی، تو تاریخ ہمیں کبھی معاف نہیں کرے گی۔ زمین کو بچانے کا مطلب کسی ایک خطے کو بچانا نہیں، بلکہ خود انسانیت کے وجود کو بچانا ہے۔