Inquilab Logo Happiest Places to Work

معاشرہ کس رُخ پر جارہا ہے؟ فکر کیجئے

Updated: June 05, 2026, 4:43 PM IST | Mudassir Ahmad Qasmi | Mumbai

مَیں جس علاقے میں رہتا ہوں، رواں ہفتے تقریباً پانچ ایسے افسوسناک واقعات پیش آئے ہیں جن میں ایک رشتہ دار نے دوسرے رشتہ دار کو قتل کر دیا۔ ان میں کچھ کی بنیاد لین دین کے تنازعات تھے، جبکہ کچھ ناجائز تعلقات اور اخلاقی بے راہ روی کے نتیجے میں رونما ہوئے۔

Debt and transaction matters are ordered to be written. Photo: INN
قرض اور لین دین کے معاملات لکھنے کا حکم دیا گیا ہے۔ تصویر: آئی این این

مَیں جس علاقے میں رہتا ہوں، رواں ہفتے تقریباً پانچ ایسے افسوسناک واقعات پیش آئے ہیں جن میں ایک رشتہ دار نے دوسرے رشتہ دار کو قتل کر دیا۔ ان میں کچھ کی بنیاد لین دین کے تنازعات تھے، جبکہ کچھ ناجائز تعلقات اور اخلاقی بے راہ روی کے نتیجے میں رونما ہوئے۔ ان سانحات نے پورے علاقے کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ سب سے زیادہ حیرت اور افسوس کی بات یہ ہے کہ ان تمام واقعات میں قاتل اور مقتول دونوں مسلمان ہیں۔ یہ صورت حال نہ صرف معاشرتی انحطاط کی علامت ہے بلکہ ہمارے دینی اور اخلاقی زوال کی بھی  دردناک تصویر پیش کرتی ہے۔

سوال یہ ہے کہ ایک مسلمان اس قدر سنگین جرم کا ارتکاب کیسے کر سکتا ہے، جبکہ اسلام نے انسان کی جان، مال اور عزت کو انتہائی محترم قرار دیا ہے؟ قرآنِ کریم نے انسانی جان کی حرمت کو اس قدر اہمیت دی ہے کہ ایک جگہ ارشاد فرمایا:’’جس نے کسی شخص کو ناحق قتل کیا، گویا اس نے تمام انسانوں کو قتل کر دیا، اور جس نے کسی ایک جان کو بچایا گویا اس نے پوری انسانیت کو بچا لیا۔‘‘ (سورۃ المائدہ:۳۲) یہ آیت اس حقیقت کو واضح کرتی ہے کہ اسلام میں انسانی جان کی قدر و قیمت کتنی بلند ہے۔ ایک مسلمان سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ اپنے غصے، جذبات اور ذاتی مفادات پر قابو رکھے اور ہر حال میں اللہ تعالیٰ کے احکام کی پابندی کرے۔ لیکن جب ایمان کی حرارت کمزور پڑ جاتی ہے اور دین کی تعلیمات زندگی سے دور ہو جاتی ہیں تو انسان ایسے ہولناک جرائم کا مرتکب ہو جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: بحران کی زَد میں زمین: جنگوں کی آگ، بدلتا موسم اور دم توڑتے انسانی احساسات

عام طور پر اس طرح کے بیشتر واقعات مادیت پرستی اور دنیا کی بے جا محبت سے جنم لیتے ہیں۔ جب دولت، جائیداد، زمین، کاروبار اور مالی مفادات انسان کی زندگی کا سب سے بڑا مقصد بن جائیں تو رشتوں کی اہمیت کم ہونے لگتی ہے۔ بھائی بھائی کا دشمن بن جاتا ہے، اولاد والدین کے خلاف کھڑی ہو جاتی ہے اور قریبی عزیز معمولی مالی تنازعے پر ایک دوسرے کے خون کے پیاسے بن جاتے ہیں۔ مادیت پرستی انسان کے دل سے رحم، محبت، ایثار اور قناعت جیسی صفات کو ختم کر دیتی ہے۔ آج بہت سے لوگ مال و دولت کے حصول کے لیے جائز و ناجائز کی تمیز کھو بیٹھتے ہیں۔ جب دنیا کی محبت دل میں حد سے بڑھ جائے تو پھر انسان کو نہ اللہ کا خوف باقی رہتا ہے اور نہ آخرت کی جواب دہی کا احساس، اور یہی کیفیت بسا اوقات قتل جیسے سنگین جرائم کا سبب بن جاتی ہے۔اسی طرح بعض واقعات نفسانی خواہشات کی غلامی کا نتیجہ ہوتے ہیں۔ جب انسان اپنے نفس کی خواہشات کو شریعت اور عقل پر مقدم کر دیتا ہے تو بے قابو ہوجاتا ہے اور گناہوں کے دلدل میں پھنستا چلا جاتا ہے۔ 

ناجائز تعلقات، بے حیائی، بدنگاہی اور اخلاقی بے راہ روی اکثر ایسے ہی سانحات کی بنیاد بنتے ہیں۔ جب کسی شخص کی خواہشات کے راستے میں کوئی رکاوٹ آتی ہے یا اس کے غلط تعلقات بے نقاب ہونے کا اندیشہ پیدا ہوتا ہے تو وہ اپنے جرم کو چھپانے یا اپنی خواہشات کی تکمیل کے لیے انتہائی خطرناک اقدامات تک پہنچ جاتا ہے۔ قرآنِ کریم نے نفسِ امارہ کے شر سے خبردار کیا ہے، کیونکہ بے لگام نفس انسان کو ظلم، زیادتی اور تباہی کی طرف لے جاتا ہے۔ جو شخص اپنے نفس کو اللہ کے احکام کا پابند بنا  لیتا ہے وہ امن، پاکیزگی اور سعادت کی زندگی گزارتا ہے، لیکن جو نفس کا غلام بن جاتا ہے وہ خود بھی تباہ ہوتا ہے اور دوسروں کی زندگیوں کو بھی برباد کر دیتا ہے۔

اسلامی احکام میں ہمارے لئے یہ سبق ہے کہ اگر ہم اپنے مالی اور معاشرتی معاملات میں صفائی، دیانت داری اور عدل و انصاف کو اختیار کریں اور نفسانی خواہشات کو شریعت کے تابع رکھیں تو اس طرح کے ہولناک جرائم سے بڑی حد تک محفوظ رہ سکتے ہیں۔ قرآنِ کریم نے معاملات کی درستگی اور حقوق کی ادائیگی کا حکم دیتے ہوئے فرمایا:  ’’بے شک اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں ان کے حق داروں تک پہنچاؤ اور جب لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو تو انصاف کے ساتھ فیصلہ کرو۔‘‘ (سورۃ النساء: ۵۸) اسی طرح قرض اور لین دین کے معاملات میں وضاحت اور شفافیت کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے ارشاد فرمایا: ’’اے ایمان والو! جب تم کسی مقررہ مدت تک کے لئے  قرض کا معاملہ کرو تو اسے لکھ لیا کرو۔‘‘ (سورۃ البقرۃ: ۲۸۲) یہ ہدایات اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ اسلام مالی تنازعات اور باہمی جھگڑوں کی جڑ کاٹنے کیلئے معاملات میں صفائی اور انصاف کو ضروری قرار دیتا ہے۔ دوسری جانب قرآنِ کریم نے نفسانی خواہشات کی پیروی سے بھی سختی کے ساتھ روکا ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ’’اور خواہشِ نفس کی پیروی نہ کرو، ورنہ وہ تمہیں اللہ کے راستے سے بھٹکا دے گی۔‘‘ (سورۃ ص: ۲۶) قرآن مجید میں رب العالمین نے مزید فرمایا:  ’’اور جو اپنے رب کے سامنے کھڑے ہونے سے ڈرا اور اپنے نفس کو خواہشات سے روکے رکھا، تو یقیناً جنت ہی اس کا ٹھکانا ہوگا۔‘‘ (سورۃ النازعات:۴۰۔۴۱)  

یہ بھی پڑھئے: ماحولیات کا تحفظ دینی، اخلاقی اور انسانی فریضہ

معاشرے کے سمجھدار، بااثر اور ذمہ دار افراد  کیلئے یہ لمحۂ فکریہ ہے۔ علماء، ائمہ مساجد، اساتذہ، دانشور، سماجی کارکنان اور خاندانوں کے بزرگوں پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ معاشرے میں بڑھتی ہوئی مادیت پرستی، اخلاقی بے راہ روی اور رشتوں کے تقدس کو پامال کرنے والے رجحانات کے خلاف مؤثر آواز بلند کریں۔ گھروں میں اولاد کی دینی و اخلاقی تربیت کا اہتمام کیا جائے، نوجوانوں کے دلوں میں خوفِ خدا، جواب دہیِ آخرت اور احترامِ انسانیت کا جذبہ پیدا کیا جائے، اور مالی و خاندانی معاملات میں شفافیت، انصاف اور صبر و تحمل نیز جذبۂ ایثار کو فروغ دیا جائے۔

اگر آج بھی ہم نے اپنی ذمہ داریوں کا احساس نہ کیا تو ایسے المناک واقعات مزید بڑھ سکتے ہیں، لیکن اگر قرآن و سنت کی تعلیمات کو اپنی زندگیوں کا رہنما بنا لیا گیا تو یقیناً ہمارا معاشرہ امن، محبت، بھائی چارے اور باہمی اعتماد کا گہوارہ بن سکتا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK