Inquilab Logo Happiest Places to Work

فتاوے: ایام تشریق کی قضا نماز، گوشت کی تقسیم کا مسئلہ، قربانی میں شرکت

Updated: June 05, 2026, 5:02 PM IST | Mufti Azizurrehman Fatehpuri | Mumbai

شریعت کی روشنی میں اپنے سوالوں کے جواب پایئے۔ آج پڑھئے: (۱) ایام ِتشریق کی قضا نماز۔قربانی میں مشترکہ شرکت کا مسئلہ۔ (۲) گوشت تقسیم کرنے کے بجائے دعوت کرنا۔(۳) قربانی میں مشترکہ شرکت کا مسئلہ۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

ایام ِتشریق کی قضا نماز

تشریق کے دنوں میں اگر کوئی نماز قضا ہوئی تو کیا تکبیر تشریق بھی پڑھنی پڑے گی قضا نماز کے بعد؟ عبدالرحمٰن، ممبئی

باسمہ تعالیٰ۔ ھوالموفق:تکبیر تشریق کا حکم ایام تشریق میں اور  ایام تشریق میں ادا کی جانے والی نمازوں کے ساتھ خاص ہے لہٰذا ۹؍ ذ ی الحجہ کی نماز فجر کے بعد سے ۱۳؍ ذی الحجہ کی عصر تک ہر فرض نماز کے بعد بآواز بلند تکبیر تشریق امام ومقتدی سب پڑھتے ہی ہیں۔ اس کے علاوہ ایک صورت یہ بھی ہے کہ ان ایام کی کوئی فرض نماز قضا ہوجائے پھر اسی سال ایام تشریق میں مصلی  اس کی قضا پڑھے اس صورت میں بھی قضا نماز کے بعد تکبیر تشریق پڑھےگا۔ لیکن غیر ایام تشریق کی فوت شدہ نماز کی قضا ایام تشریق میں پڑھی جائے یا ایام تشریق کی فوت شدہ نماز ایام تشریق کے بعد یا اگلے سال ایام تشریق میں یہ قضا پڑھی جائےتو تکبیر تشریق ان صورتوں میں نہ کہی جائےگی۔ واللہ اعلم وعلمہ اتم

یہ بھی پڑھئے: فتاوے: حاجیوں کا احرام کی حالت میں کریم استعمال کرنا

قربانی میں مشترکہ شرکت کا مسئلہ

چھ آدمیوں نے قربانی کے لئے جانور خریدا، جو ساتواں حصہ تھا۔  وہ اللہ کے نبیؐ کے لئے سارے لوگوں نے رکھا اور تھوڑا تھوڑا سب  نے پیسے دیے تو کیا اس طرح ان سب کی قربانی ہو جائے گی؟ فہیم الدین ،ممبئی

باسمہ تعالیٰ: ھوالموفق: صورت مسئولہ کے مطابق چھ اشخاص نے ایک جانور خریدا ، انہوں نے ایک ایک حصہ تو اپنے لئے رکھا اور ایک حصہ مشترکہ طور سے حضورؐ  کی طرف قربانی کے لئے خاص کیا، اس ساتویں حصے میں بھی سب کی رقم برابر برابر لگی ہے۔  اس بابت بعض فضلاء کی رائے یہ ہے کہ اس حصے کی ادائیگی کسی ایک کی طرف سے ہو تو قربانی درست ہوگی ورنہ نہیں لیکن  عالمگیری وغیرہ کتب فقہ میں اس کی ایک نظیرموجود ہے کہ سات آدمیوں نے مشترکہ طور پر ایک جانور خریدا پھر قربانی سے پہلے ہی ایک شریک کی وفات ہوگئی۔ ظاہر ہے کہ یہ حصہ انفرادی طور سے مرنے والے کی تنہا ملکیت ہے لیکن اس کی وفات کے بعد اب تمام ورثاء مشترکہ طور اسکے مالک ہیں۔ فقہاء نے اس صورت میں یہ اجازت دی ہے کہ ورثاء رضامند ہوں تو متوفی کی طرف سے قربانی کی جاسکتی ہے، اگر ایک حصہ ایک مالک کا اصول ہوتا تو مذکورہ صورت میں مشترکہ ملکیت والے حصے کی قربانی کی اجازت نہ ہوتی اسکے بجائے کوئی دوسرا طریقہ بتایا جاتا (مثلاً یہ کہ کوئی ایک وارث  باقی کو ان کے حصے کی رقم دے کر تنہا مالک بن کر مرحوم کی طرف سے قربانی کرے وغیرہ)۔  اس نظیر سے ظاہر ہے کہ صورت مسئولہ میں حضور صلی اللہ علیہ کے نام کی جانے والی قربانی بھی صحیح ہے اور باقی سب کی قربانی بھی  درست ہے۔  واللہ اعلم وعلمہ اتم

یہ بھی پڑھئے: فتاوے: ٹول کا حکم، قربانی کے جانور کی عمر، مطلوبہ مال نہ ملنے پر واپس کرنا

گوشت تقسیم کرنے کے بجائے دعوت کرنا

قربانی کے ایام میں کچھ علاقوں میں یہ ایک نئی بات  دیکھنے کو ملی کہ گوشت کا جو حصہ تقسیم کیا جاتا ہے اسے تقسیم کرنے کے بجائے گھر میں ہی پکا کر لوگوں کو اس کی دعوت کی گئی ہے۔ کیا اس طرح کرنا ٹھیک ہے، یہ درست عمل ہے؟  اسماعیل خان ،وسئی

باسمہ تعالیٰ۔ ھوالموفق:قربانی میں گوشت مطلوب نہیں ہوتا۔ قرآن کریم میں ارشاد ربانی ہے کہ قربانی کا گوشت یا خون اللہ تک نہیں پہنچتا بلکہ تمہارا تقویٰ ہے جو درجہ قبولیت حاصل کرتا ہے ،پھر یہ ضروری نہیں کہ قربانی کرنے والا اس کا گوشت بھی ضرور کھائے۔مستحب یہ بتا یا گیا ہے کہ غرباء و مساکین اور دوست احباب کو ایک ایک حصہ دیا جائے اور ایک حصہ اپنے استعمال کے لئے رکھ لے ،مگر یہ بھی مستحب ہے، واجب نہیں ۔تقسیم کی صورت میں یہ حکم ہے کہ سب میں مساوی طور پر گوشت تقسیم کیا جائے لیکن تقسیم کے بجائے ان میں سے کسی ایک کو یا دوسرے کسی کو پورا گوشت دینے کی کوئی ممانعت نہیں پھر چاہے کچا گوشت دیا جائے یا پکاکر کھلادیا جائے۔ دونوں طرح درست ہے۔  لہٰذا پکاکر لوگوں کی دعوت میں بھی کوئی حرج نہیں البتہ مناسب اور بہتر طریقہ یہ ہوگا کہ غربا ومساکین کو بھی دعوت میں شامل رکھا جائے۔ واللہ اعلم وعلمہ اتم

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK