اقراء کائنات سے فائدہ اٹھانے کا ہنر سکھاتا ہے، تو باسمِ ربک اس فائدے کو انسانیت کی بھلائی کیلئے استعمال کرنے کا ظرف بھی دیتا ہے۔
EPAPER
Updated: June 05, 2026, 4:49 PM IST | Abdul Ahad Asadi | Mumbai
اقراء کائنات سے فائدہ اٹھانے کا ہنر سکھاتا ہے، تو باسمِ ربک اس فائدے کو انسانیت کی بھلائی کیلئے استعمال کرنے کا ظرف بھی دیتا ہے۔
لبرل ازم اور جدید تہذیب کے علمبرداروں کو جھنجھوڑتے ہوئے لسان العصر اکبر الہ آبادی نے کیا خوب کہا تھا:
تم شوق سے کالج میں پڑھو،پارک میں پُھولو
جائز ہے غباروں میں اُڑو، چرخ پہ جھولو
پر ایک سخن بندۂ عاجز کا رہے یاد
الله کو ، اور اپنی حقیقت کو نہ بھولو!
خالق ِ کائنات نے جب انسانیت کی ہدایت کے لئے وحی کا آغاز فرمایا، تو سب سے پہلا لفظ جو نازل کیا وہ علم سے متعلق تھا:
’’اپنے اس رب کے نام سے پڑھئے جس نے پیدا کیا۔‘‘ (سورہ العلق:۱)
ہمارے دین و مذہب میں علم و تعلیم کو جو عظمت اور اہمیت دی گئی ہے، اس کا اندازہ اس پہلی آیتِ مبارکہ سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے۔ آج امت مسلمہ میں عصری (دنیاوی) تعلیم حاصل کرنے کا رجحان دن بہ دن بڑھ رہا ہے، جو کہ ایک خوش آئند بات ہے۔ بیشک اگر انسان علم سے محروم ہو، تو وہ کائنات کی تسخیر نہیں کر سکتا اور نہ ہی کائنات کی چیزوں کے نفع اور نقصان میں تمیز کر سکتا ہے۔لیکن یہاں ایک المیہ جنم لے رہا ہے؛ آج ’’اقراء‘‘ (پڑھنے) پر تو پوری طاقت سے عمل ہو رہا ہے، مگر باسمِ ربک (رب کے نام کے ساتھ) کو پسِ پشت ڈال دیا گیا ہے۔ یاد رکھئے، ’’اقراء‘‘ ہمیں کائنات سے فائدہ اٹھانے کا ہنر سکھاتا ہے، لیکن باسمِ ربک ہمیں اس فائدے کو انسانیت کی تباہی کے بجائے اس کی بھلائی کے لئے استعمال کرنے کی طرف راغب کرتاہے نیز اس کا ظرف دیتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ماحولیات کا تحفظ دینی، اخلاقی اور انسانی فریضہ
اگر علم کا تعلق اللہ کی ذات اور اس کی خشیت (خوف) سے ٹوٹ جائے، تو وہ علم ’’نعمت‘‘ کے بجائے ’’زحمت‘‘ بن جاتا ہے۔ اس کی سب سے بڑی مثال البرٹ آئنسٹائن کی نیوکلیئر تھیوری ہے۔ جب سائنس نے یہ ترقی کی تو دنیا نے جشن منایا، لیکن جب اسی علم کو خدا بیزار ذہنوں نے استعمال کیا تو ہیروشیما اور ناگاساکی پر ایٹم بم بن کر گرا، جس نے لمحوںمیں لاکھوں ہنستے کھیلتے انسانوں کو لقمۂ اجل بنا دیا۔ ثابت ہوا کہ جب تک علم کو اللہ تعالیٰ کی ذات سے نہیں جوڑا جائے گا، وہ انسانیت کے لئے نفع بخش نہیں ہو سکتا۔
آج ہمارے معاشرے کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ ہم تعلیم کے حصول میں اتنے اندھے ہو چکے ہیں کہ دین کے بنیادی مقصد اور ایمان کی حفاظت کو پیچھے چھوڑ رہے ہیں۔ مسلم معاشرے کا ایک بڑا طبقہ اپنے بچوں کو اعلیٰ انگریزی تعلیم دلانے کی دھن میں غیر مسلم تعلیمی اداروں کو ترجیح دے رہا ہے۔ ہم اپنے ہاتھوں سے اپنے بچوں کو ایسے ماحول میں دھکیل رہے ہیں جہاں ان کے عقائد پر حملے ہو رہے ہیں، اور نادانستگی میں ہم خود ارتداد (ایمان سے دوری) کی بنیادیں تیار کر رہے ہیں۔جدید کالجوں اور یونیورسٹیوں کا ماحول کسی سے چھپا نہیں؛ وہاں اخلاقی بگاڑ، بے حیائی اور بے راہ روی عروج پر ہے۔ ستم ظریفی دیکھیے کہ آج معاشرے میں چوری، مالیاتی گھپلے، کارپوریٹ فراڈ، دھوکہ دہی اور طلاق و خاندانی تنازعات کے سب سے زیادہ کیسز پڑھے لکھے طبقے میں ہی ملتے ہیں۔ ایک جاہل انسان شاید اتنی بڑی چوری یا فراڈ نہیں کر سکتا، جتنا ایک ڈگری ہولڈر ذہن کر لیتا ہے، کیونکہ اس کے پاس ڈگری تو ہے مگر دل میں خدا کا خوف اور اخلاقی تربیت نہیں ہے۔
دوسری طرف، یہ ایک مائنڈ سیٹ (سوچ یا ذہنیت) بن چکا ہے کہ ترقی صرف انگریزی میڈیم سے ہی ممکن ہے، جبکہ ماہرینِ تعلیم کا ماننا ہے کہ بچہ اپنی مادری زبان میں سب سے زیادہ اور بہترین انداز میں سیکھتا ہے اور ترقی کرتا ہے۔ اگر ہم اپنے آس پاس کے ماحول پر طائرانہ نظر دوڑائیں، تو ہمیں بے شمار ایسے کامیاب ڈاکٹر، انجینئر اور پروفیشنلز ملیں گے جنہوں نے اپنی ابتدائی تعلیم اُردو یا مقامی مادری زبان میں حاصل کی اور آج اعلیٰ مقامات پر فائز ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: تواضع محض ایک اخلاقی خوبی نہیں بلکہ انسانی شخصیت کا باطنی توازن بھی ہے
انگریزی زبان سیکھنا اور جدید علوم حاصل کرنا وقت کی ضرورت ہے اور ہم اس کے خلاف نہیں ہیں، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا اس تعلیم کی قیمت ہمارا ایمان اور ہمارے بچوں کی آخرت ہوگی؟
ہمارے مسلم تعلیمی اداروں میں ایسی کیا کمی ہے کہ ہمارے بچے دوسرے اداروں کا رخ کر تے ہیں؟ کیا ہم مسلم اسکولوں کو جدید خطوط پر استوار کر کے انہیں ’’معیاری تعلیم‘‘ کا مرکز نہیں بنا سکتے؟اگر ہم اپنی نسلوں کے دین و ایمان کی حفاظت چاہتے ہیں، تو اب ہمیں محض زبانی جمع خرچ، منبر و محراب سے صرف نصیحتیں کرنے، جلسوں کے ڈائس سے محض رونے دھونے اور چار دیواری میں بیٹھ کر شکوے کرنے کا سلسلہ بند کرنا ہوگا؛ ہمیں عملی میدان میں آنا ہوگا۔
ہمارے بچے روزانہ صبح کی شروعات غیر مسلم اسکولوں میں ایسے کلمات اور دعاؤں سے کرتے ہیں جو براہِ راست عقیدۂ توحید کے خلاف ہیں، اور وہ دن کے ۶؍ قیمتی گھنٹے اسی ماحول میں گزارتے ہیں۔ بہت سے والدین یہ کہہ کر مطمئن ہو جاتے ہیں کہ ’’ہم گھر پر آدھا یا ایک گھنٹہ دینی تعلیم دلوا تے ہیں۔‘‘ خدارا سوچئے! جہاں بچہ روزانہ ۶؍ گھنٹے ایک الگ ماحول میں گزار رہا ہو، جہاں کے نصاب میں مخصوص نظریاتی مواد شامل کر کے اس کے ذہن کو مسموم کیا جا رہا ہو، وہاں گھر کا ایک گھنٹہ اس طوفان کے آگے کیسے بندھ باندھ سکتا ہے؟
وقت کا تقاضا ہے کہ ہم بیدار ہوں! ہمیں اپنے بچوں کو ایسے مسلم تعلیمی اداروں میں داخل کروانا ہوگا جہاں جدید ترین عصری علوم (سائنس، میتھس اور انگریزی) کے ساتھ ساتھ، مخلص علماء اور مفتیانِ کرام کی نگرانی میں ان کی دینی تربیت اور اخلاقی نشوونما بھی ہو۔ جب تک ہم اقراء اورباسمِ ربک کا یہ حسین امتزاج پیدا نہیں کریں گے، تب تک ہم ایک بہترین اور باحیا معاشرے کی تشکیل کا خواب نہیں دیکھ سکتے۔