تعلیماتِ خواجہؒ کا مختصر تجزیہ

Updated: February 19, 2021, 8:58 AM IST | Mohammed Aurangzeb Misbahi

اللہ رب العزت کا بندوں پر فضل و احسان ہے کہ اس نے اپنے بندوں کی ہدایت کے لئے ہر زمانے میں کسی نہ کسی کو ضرور بھیجتا ہے۔

Ajmer Sharif - Pic : INN
اجمیر شریف ۔ تصویر : آئی این این

   اللہ رب العزت کا بندوں پر فضل و احسان ہے کہ اس نے اپنے بندوں کی ہدایت کے لئے ہر زمانے میں کسی نہ کسی کو ضرور بھیجتا ہے۔ اولین زمانہ میں انبیاء کرام لوگوں کو سیدھی راہ پر لانے کے لئے بھیجے جاتے تھے مگر چونکہ ہادیٔ عالم رحمۃ للعالمین حضور محمدمصطفیٰ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے بعد نبوت کا دروازہ بند ہو گیا، آپؐ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا، اس لئے رب کائنات اپنے بندوں کی ہدایت کے لئے مجددین، اولیاء،علماء،صلحاء اور متقین کو بھیجتا ہے تاکہ وہ صراط مستقیم سے بھٹکے ہوؤں کو سیدھے راستے پر چلائیں۔ ایسے ہی مخصوص و محبوب بندوں میں سے ایک نام حضرت خواجہ معین الدین حسن چشتی رحمۃ اللہ علیہ کا بھی ہے ، جنہوں نے دعوت و تبلیغ کے ساتھ ساتھ اپنے پاکیزہ کردار کے ذریعے اخوت و بھائی چارہ ، باہمی رواداری اور ضبط نفس کا پیغام دیا اور مخلوق خدا کی تربیت کی ذمہ داری کو بخوبی نبھایا۔
مختصر حالات زندگی
حضرت خواجہ معین الدین چشتیؒ کی ولادت ۵۳۶ھ مطابق ۱۱۴۱ء میں سجستان یا سیستان (موجودہ ایران) میں ہوئی۔ ۱۵؍ سال کی عمر میں ہی آپ کے سر سے والد محترم کا سایہ اٹھ گیا، ترکہ میں ایک باغ ملا جس کی نگرانی آپ کیا کرتے تھے۔ ایک مرتبہ ایک مجذوب صفت بزرگ ابراہیم قندوزی باغ میں آئے۔ آپ نے انتہائی عقیدت سے ان کی دست بوسی کی اور ان کی خدمت میں انگور کا خوشہ پیش کیا۔ابراہیم قندوزی نے اپنے پیرہن میں ہاتھ ڈال کر جیب سے روٹی کا ایک خشک ٹکڑا نکال کر معین الدین کی طرف بڑھایا۔ اس ٹکڑے کا حلق سے نیچے اترنا ہی تھا کہ معین الدین چشتی کی دنیا ہی بدل گئی۔ 
(سیر العارفین) اس کے بعد ہی آپ نے دنیا کو خیرباد کہہ کر طلب خدا کی راہ لی، پہلے بخارا  اور  سمرقند جا کر علم ظاہر(فقہ ، تفسیر ، حدیث اور تواریخ) سے سرفراز ہوئے، پھر اس کی تکمیل کے بعد علم باطن کی طرف متوجہ ہوئے اور شیخ عثمان ہارونی ؒکی بارگاہ میں اس کی بھی تکمیل کی۔
سلسلۂ چشتیہ کا ارتقاء ہندوستان میں
حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیریؒ ہندوستان میں سلطان الاولیاء اور سلسلہ چشتیہ کے بانی ہیں، یہ سلسلہ خراسان کے ایک مشہور شہر چشت سے منسوب ہے، اللہ کے محبوب بندوں نے اس شہر کو تزکیہ نفس اور اصلاح باطن کا مرکز بنایا جس کے باعث یہ سلسلہ شہر کی جانب نسبت کرتے ہوئے چشتیہ کہلانے لگا۔ ہندوستان کا رخ کرنے والے سب سے پہلے چشتی بزرگ حضرت خواجہ ابو محمد چشتیؒ تھے لیکن اس سرزمین پر اس سلسلہ کو پروان چڑھانے اور پھیلانے کا سہرا خواجہ معین الدین ؒہی کے سر ہے کہ اجمیر اسلامی تعلیمات کی آماجگاہ بن گیا۔ 
آپ کی تعلیمات
خواجہ معین الدین چشتیؒ کا مشن اسلام کے پیغام کو عام کرنا اور  ہدایت کے نور کو پھیلا کر کفر و شرک کی تاریکی کو مٹانا تھا۔ آپ اس مشن میں درس ایمانی، طرز عمل، زہدوتقویٰ ، اتباعِ سنت اور  اللہ کی مدد و نصرت سے بخوبی کامیاب بھی ہوئے۔ 
     آپ کی تعلیمات ہی کا نتیجہ تھا جو ہندوستان میں مختلف مسلم بادشاہوں کو فتح و نصرت حاصل ہوئی اور ہندوستان میں مسلمان عروج پر فائز ہوئے تھے مگر جب مسلمانوں نے دین سے غفلت برتی تو اس کے تباہ کن نتائج بھی سامنے آئے۔ اس لئے ضرورت ہے کہ خواجہ معین الدین چشتیؒ کی تعلیمات کو عام کریں، غیرمسلموں تک دین کی دعوت پہنچائیں اور مسلمانوں کے درمیان اتحاد کی نئی کرن پیدا کریں۔ کامیابی کا واحد راستہ یہی نظر آتا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK