ماضی کی ایک گمشدہ کڑی اور اُس کی تلاش

Updated: April 20, 2020, 12:24 PM IST | Shahid Nadeem

’دی گرل فرام فارین ‘ امریکی ادیبہ سعدیہ شیپارڈ کا اپنی مرحومہ نانی سے کئے ہوئے وعدہ کی تکمیل ہے۔

The Girl from Foreign
دی گرل فرام فرین

 ’دی گرل فرام فارین ‘ امریکی ادیبہ سعدیہ شیپارڈ کا اپنی مرحومہ نانی سے کئے ہوئے وعدہ کی تکمیل ہے۔ سعدیہ نے وعدہ تو کرلیا مگر وہ نہیں جانتی تھی کہ آخر یہ کہانی کیا ہے، کئی مہینوں کی تحقیق  اور ان مقامات پر جانے کے بعد ، جہاں انہوں نے زندگی گزاری تھی مجھے ان داستانوں کو جاننے سمجھنے کا موقع ملا ۔ سعدیہ کا یہ پہلا سوانحی ناول تھا ۔ وہ اسٹین فوڈ یونیورسٹی کی تعلیم یافتہ ہے۔ اسکی ماں مسلمان اور باپ رچرڈ شیپارڈ کولوراڈو ،امریکہ کے سفید فام پروٹسٹنٹ تھے۔ اس کی پرورش ایک بالکل مختلف ماحول میں ہوئی ۔ اس موضوع سے دلچسپی کے بارے میں بتاتی ہے کہ ’’میں ان (نانی ) سےبے حد قریب تھی ۔ تیرہ برس کی عمر میں میں نانی کے چند پرانے کاغذات اور زیورات کے مخملی ڈبے کو دیکھ رہی تھی ۔ اس میں نرس کودئیے جانے والے چاندی کے نیم پلیٹ پر راچیل جیکب لکھا تھا ۔ میرے لئے یہ  بالکل نیا نام تھا ۔ مسلمانوں جیسا نہیں لگتا تھا ۔ نانی نے بتایا کہ شادی سے پہلے یہ میرا یہودی نام تھا ۔ وہ ایک تعلیم یافتہ نرس تھیں۔ اپنے بچپن  اور جوانی کی باتیں بہت کم کرتی تھیں۔ وہ بمبئی میں پیدا ہوئی تھیں۔ تقسیم کے بعد وہ اپنے شوہر اور اس کی دو بیویوں اور کئی بچوں سمیت کراچی منتقل ہوگئیں۔ سعدیہ کی والدہ وہیں پیدا ہوئیں۔ ان کا پرانا نام راچیل جیکب تھا  اور نیا نام راحت صدیقی تھا ۔ وہ بمبئی کی قدیم یہودی نسل سے تھیں۔ سعدیہ کے مطابق انہوں نے مجھ سے وعدہ لیا تھا کہ میں زندگی میں کم از کم ایک مرتبہ ہندوستان ضرور جائوں۔ وہ جانتی تھیں کہ میں یہ کام کرسکتی ہوں۔ اس کتاب کی تحریک ان سے ہی ملی ۔ 
 نانی نے خاندان والوں سے چھپ کر ایک مسلم سے شادی کرلی تھی ۔ سعدیہ نے ایک مرتبہ ان سے سوال کیا ’’ آپ مسلم ہیں یا یہودی ؟‘‘ ان کا جواب تھا ’’ اب میں مسلمان ہوں ، دونوں مذاہب کا خدا ایک ہی ہے۔‘‘ ایک موقع پر وہ کہتی ہیں کہ ایک میرے اجداد کا مذہب ہے اور دوسرا میرے بچوں کا۔  وہ توریت بھول چکی تھیں مگر ایک آدھ دعاء اب بھی یاد تھی ۔ وہ ایک خدا کی عبادت کرتی تھیں۔ سعدیہ کی زندگی کا یہ بڑا اہم لمحہ تھا۔ اس نے ماضی کی تصویروں کو جوڑ کر اپنے خاندان کی ایک تصویر بنانے کا فیصلہ کیا۔مگر راچیل  سے سعدیہ صدیقی کا یہ سفر آسان نہیں تھا ۔ اسےنانی کے پرانے کمرے کی دراز سےوہ چند پرانے خطوط ، قدیم دستی نقشہ اور خاندانی شجرہ بھی مل گئے  اور وہ ان کے گمشدہ ماضی کو تلاش کرنے میں لگ گئی ۔ 
 سعدیہ بتاتی ہیں کہ ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر حملے کے بعد میں اپنے کلچر کو ایک نئے زاوئیے سے دیکھنا چاہتی تھی ۔ اس دوران اسے ممبئی کے سفر کا ایک موقع بھی مل گیا۔ نُل برائٹ اسکالر شپ پر وہ ممبئی آگئی اور دو برس تک ہند نژاد یہودی نسل کی دستاویزات کا مطالعہ کرتی رہی ۔ ممبئی اور کراچی میں بہت سے لوگوںسے ملی ۔  پونے اور ممبئی اور اس کے اطراف کے سینے گاگ بھی گئی۔مختلف مقامات پر گئی۔ غیرمنقسم ہندوستان کی یادوں کو زندہ کیا۔ اس تھکادینے والے سفر کے دوران ایک ناکام محبت اور گمشدہ تاریخ کی ایک کھوئی ہوئی کڑی اس کے ہاتھ لگی اور ان سب سے زیادہ اپنی شناخت کا ایک سرا۔ 
 یہ خاندان  دو ہزار سال پرانے بنی اسرائیل کی یہودی نسل کے ایک چھوٹےسے قبیلے سے تعلق رکھتا ہےجو آج تاریخ کے دھندلکے میں گم ہو چکا ہے۔ عبرانی بائبل میں اس کا ذکر ملتا ہے۔ تقریباً دو ہزار سال پہلے اسرائیل سے ساڑھے تین ہزار لوگ بحری جہاز کے ذریعے کوکن کے ساحل پر اترے اور کوکن اور ممبئی کے اطراف میں آباد ہو گئے ۔ دی گرل فرام فارین سعدیہ نے ۲۰۰۱ء میں لکھنی شروع کی اور ۲۰۰۸ء میں اسے شائع کیا۔ وہ کہتی ہے کہ  یہ طویل عرصہ ضرور ہے گوکہ کتاب لکھنا زیادہ مشکل نہیں تھا مگر جب ممبئی پہنچی تو وہاں کی کہانیاں منتظر تھیں۔ کافی مواد تھا ، اسے یکجا کرکے اور پھر اس پر غور کرنے میں کافی وقت نکل گیا۔ 
 ۲۰۰۰ء میں نانی کا انتقال ہو گیا اور وہ اپنے ماضی کی داستان کو کتابی صورت میں نہیں دیکھ سکیں۔ کتاب کی اشاعت کے بعد اپنے خاندان والوں کے رد عمل کے بارے میںوہ کہتی ہیں کہ اس دوران والدین اور بھائی نے کافی تعاون دیا۔ جب میں اپنے چچا وارث سے ملنے گئی تو ان کا کہنا تھا کہ تم نے جوکچھ کتاب میں لکھا ہے میں اس سے پوری طرح سے متفق نہیں ،مگر انہوں نے یہ  صاف کردیا کہ تم نے یہ سب اپنے نقطہ نظر سے بیان کیا ہے اور یہ تمہارا حق ہے۔ جسے کوئی نہیں چھین سکتا ، مجھے تم پر فخر ہے۔
 سعدیہ شیپارڈ کا خاندان نیویارک میں آباد ہے اور دیگر رشتہ دار ہندوستان اور پاکستان میں پھیلے ہوئے ہیں۔ سعدیہ اور اس کےبھائی قاسم کا بچپن ڈینور میں گزرا ۔ ماں ثمینہ قریشی کی پیدائش اور پرورش کراچی میں ہوئی۔ان کے والدین کا تعمیراتی کاروبار تھا ۔ باپ آرکیٹیکٹ تھے ۔ اس کتاب کے بعد سعدیہ کی اور بھی کتابیں شائع ہو چکی ہیں۔ لکھنے کے علاوہ وہ ڈاکیومنٹری فلمیں بھی بناتی ہیں۔ اپنے بارے میں بتاتی ہیں کہ روایت سے مختلف ہونے کے باوجود مذہبی رواداری پر یقین رکھتی ہوں۔ میرے والدین نے ہمارے لئے کوئی مذہب نہیں چھوڑا ۔ اسکے باوجود میں تینوں مذاہب پر عمل کرتی ہوں۔ میں سمجھتی ہوں کہ ہر مذہب خدا کی طرف ہی  لے جاتا ہے

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK