زندگی متحرک ہے اور تغیر پزیر ہے: اسلام اللہ تعالیٰ کا آخری پیغام ہے، اور کامل و مکمل طور پر دنیا کے سامنے آچکا ہے، اور اعلان کیا جاچکا ہے کہ :’’ آج کے دن مَیں نے تمہارے لئے تمہارا دین مکمل کردیا اور تم پر اپنی نعمت تمام کردی اور دین کی حیثیت سے اسلام کو تمہارے لئے پسند کرچکا۔‘‘ (المائدہ:۳)
زندگی متحرک ہے اور تغیر پزیر ہے: اسلام اللہ تعالیٰ کا آخری پیغام ہے، اور کامل و مکمل طور پر دنیا کے سامنے آچکا ہے، اور اعلان کیا جاچکا ہے کہ :’’ آج کے دن مَیں نے تمہارے لئے تمہارا دین مکمل کردیا اور تم پر اپنی نعمت تمام کردی اور دین کی حیثیت سے اسلام کو تمہارے لئے پسند کرچکا۔‘‘ (المائدہ:۳) ایک طرف تو اللہ کا دین مکمل ہے، دوسری طرف یہ حقیقت ہے کہ زندگی متحرک اور تغیر پزیر ہے، اور اس کا شباب ہر وقت قائم ہے۔
جاوداں، پیہم دواں، ہردم جواں ہے زندگی
اس رواں دواں اور سداجواں زندگی کا ساتھ دینے اور اس کی رہنمائی کے لئے اللہ تعالیٰ نے آخری طور پر جس دین کو بھیجا ہے، اس کی بنیاد اگرچہ ’’ابدی عقائدوحقائق‘‘ پر ہے مگر وہ زندگی سے پُر ہے، اور حرکت اس کی رگ و پے میں بھری ہوئی ہے۔ اس میں اللہ تعالیٰ نے یہ صلاحیت رکھی ہے کہ وہ ہر حال میں دُنیا کی رہنمائی کرسکے، اور ہر منزل میں تغیر پزیر انسانیت کا ساتھ دے سکے، وہ کسی خاص عہد کی تہذیب یا کسی خاص دَور کا فن تعمیر نہیں ہے جو اس دور کی یادگاروں کے اندر محفوظ ہو اور اپنی زندگی کھوچکا ہو، بلکہ ایک زندہ دین ہے جو علیم و حکیم صانع کی صنعت کا بہترین نمونہ ہے:
’’یہ بہت غالب بڑے علم والے (ربّ) کا مقررہ اندازہ ہے۔‘‘ (الانعام:۹۶)
’’(یہ) اللہ کی کاریگری ہے جس نے ہر چیز کو (حکمت و تدبیر کے ساتھ) مضبوط و مستحکم بنا رکھا ہے۔‘‘ (النمل: ۸۸)
اُمتِ اسلامیہ کا زمانہ سب سے زیادہ پُر از تغیرات
یہ دین چونکہ آخری اور عالمگیر دین ہے اور یہ امت آخری اور عالمگیر اُمت ہے اس لئے یہ بالکل قدرتی بات ہے کہ دنیا کے مختلف انسانوں اور مختلف زمانوں سے اس امت کا واسطہ رہے گا اور ایسی کشمکش کا اس کو مقابلہ کرنا ہو گا، جو کسی دوسری امت کو دنیا کی تاریخ میں پیش نہیں آئی۔ اس امت کو جو زمانہ دیا گیا ہے، وہ سب سے زیادہ پُر از تغیرات اور پُر از انقلابات ہے اور اس کے حالات میں جتنا تنوع ہے، وہ تاریخ کے کسی گزشتہ اور سابقہ دور میںدکھائی نہیں دیتا۔
اسلام کی بقا اور تسلسل کے لئے غیبی انتظامات
ماحول کے اثرات کا مقابلہ کرنے کیلئے اور مکان و زمان کی تبدیلیوں سے عہدہ برآ ہونے کے لئے اللہ تعالیٰ نے اس امت کے لئے دو انتظامات فرمائے ہیں۔ ایک تو یہ کہ ان سے جناب رسول اللہ صلی علیہ وسلم کو ایسی کامل و مکمل اور زندہ تعلیمات عطا فرمائی ہیں جو ہر کشمکش اور ہر تبدیلی کا بہ آسانی مقابلہ کر سکتی ہیں اور ان میں ہر زمانہ کے مسائل و مشکلات کو حل کرنے کی پوری صلاحیت موجود ہے۔ دوسرے اس نے اس کا ذمہ لیا ہے (اور اس وقت کی تاریخ اس کی شہادت دیتی ہے) کہ وہ اس دین کو ہر دور میں ایسے زندہ اشخاص عطا فرماتا رہے گا جو ان تعلیمات کو زندگی میں منتقل کرتے رہیں گے۔ اور مجموعاً یا انفراداً اس دین کو تازہ اور اس امت کو سرگرم عمل رکھیں گے۔ اس دین میں ایسی شخصیات کے پیدا کرنے کی جو صلاحیت و طاقت ہے اس کا اس سے پہلے کسی دین و مذہب سے اظہار نہیں ہوا اور یہ امت تاریخ عالم میں جیسی ’’مردم خیز‘‘ ثابت ہوئی ہے دنیا کی قوموں اور امتوں میں اس کی کوئی نظیر نہیں ملتی۔ یہ محض اتفاق یا اتفاقی بات نہیں ہے بلکہ انتظام خداوندی ہے کہ جس دور میں جس صلاحیت و قوت کے آدمی کی ضرورت تھی اور زہر کو جس ’’تریاق‘‘کی طلب اور حاجت تھی وہ اس امت کو عطا ہوا ۔
اسلام کے قلب و جگر پر حملے
شروع ہی سے اسلام کے قلب و جگر اور اس کےاعصاب پر ایسے حملے ہوئے ہیں کہ دوسرا مذہب ان کی تاب نہیں لا سکتا۔ دنیا کے دوسرے مذاہب جنہوں نے اپنے اپنے وقت میں دنیا فتح کرلی تھی اس سے کم درجہ کے حملوں کو سہہ نہیں سکے اور انہوں نے اپنی ہستی کو گم کر دیا، لیکن اسلام نے اپنے ان سب حریفوں اور مخالفوں کو شکست دی،اور اپنی اصلی شکل میں قائم رہا۔
ایک طرف باطنیت اور اس کی شاخیں، اسلامی روح، اور اس کے نظام عقائد کیلئے سخت خطرہ تھیں، دوسری طرف مسلمانوں کو زندگی سے بے دخل کرنے کیلئے، صلیبیوں کی یورش اور تاتاریوں کا حملہ بالکل کافی تھا، دنیا کا کوئی دوسرا مذہب ہوتا تو وہ اس موقع پر اپنے تمام امتیازات کھو دیتا ،اور ایک تاریخی داستان بن کر رہ جاتا لیکن اسلام ان سب داخلی وخارجی حملوں کو برداشت کر لے گیا،اور اس نے نہ صرف اپنی ہستی قائم رکھی بلکہ زندگی کے میدان میں نئی نئی فتوحات حاصل کیں۔ تحریفات و تاویلات، عجمی اثرات، مشرکانہ اعمال و رسوم، بدعات، الحاد و لادینیت مادیت، نفس پرستی، تعیشات اور عقلیت پرستی کا اسلام پر بار ہا حملہ ہوا اور کبھی کبھی محسوس ہونے لگا کہ شاید اسلام ان حملوں کی تاب نہ لاسکے اور ان کے سامنے سپر ڈال دے،لیکن امت مسلمہ کے ضمیر نے صلح کرنے سے انکار کردیا، اور اسلام کی روح نے شکست نہیں کھائی ۔
ہر دور میں ایسے افراد پیدا ہوئے جنہوں نے تحریفات و تاویلات کا پردہ چاک کر دیا اور حقیقت اسلام اور دین خالص کو اجاگر کیا، بدعات اور عجمی اثرات کے خلاف آواز بلند کی، سنت کی پر زور حمایت کی، عقائد باطلہ کی بے باکانہ تردید اور مشرکانہ اعمال و رسوم کے خلاف جدوجہد کی، مادیت اور نفس پرستی پر کاری ضرب لگائی، تعیشات اور اپنے دَور کے’’مترفین‘‘ (متکبر دولتمندوں اور مستغنی آسودہ حال اور فارغ البال لوگوں کو قرآن نے ’’مترفین‘‘ نام دیا ہے) کی سخت مذمت کی اور جابرانہ سلاطین کے سامنے کلمہ حق بلند کیا، عقلیت پرستی کا بت توڑا اور اسلام میں نئی قوت و حرکت اور مسلمانوں میں نیا ایمان اور نئی زندگی پیدا کردی۔
یہ افراد دماغی علمی ، اخلاقی اور روحانی اعتبار سے اپنے زمانہ کے ممتاز ترین افراد تھے اور طاقتور اور دلآویز شخصیتوں کے مالک تھے ، جاہلیت اور ضلالت کی ہر نئی ظلمت کے لئے ان کے پاس کوئی نہ کوئی ید بیضاء تھا جس سے انہوں نے تاریکی کا پردہ چاک کردیا اور حق روشن ہو گیا۔ اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو اس دین کی حفاظت اور بقاءمنظور ہے اور دنیا کی راہنمائی کا کام اسی دین اور اسی امت سے لینا ہے ، اور جو کام وہ پہلے تازہ نبوت اور انبیاء سے لیتا تھا اب رسول اللہ ﷺ کے نائبین اور امت کے مجددین ومصلحین سے لے گا۔
ہر فتنہ اور نئے خطرے کے لئے
نئی شخصیت و طاقت
اس حقیقت سے کوئی انکار نہیں کر سکتا کہ اسلام کی اس طویل اور پُرآشوب تاریخ میں کوئی قلیل سے قلیل مدت ایسی نہیں پائی جاتی، جب اسلام کی حقیقی دعوت بالکل بند ہو گئی ، حقیقت ِ اسلام بالکل پردہ میں چھپ گئی ہو یا امّت اسلامیہ کا ضمیر بالکل بے حس ہو گیا ہو اور تمام عالم اسلام پر اندھیرا چھا گیا ہو۔ یہ تاریخی واقعہ ہے کہ جب کبھی اسلام کے لئے کوئی فتنہ نمودار ہوا، اس کی تحریف اور اس کو مسخ کرنے کی کوشش کی گئی، یا اس کو غلط طریقہ پر پیش کیا گیا، مادیت کا کوئی سخت حملہ ہوا، کوئی طاقتور شخصیت ایسی ضرور میدان میں آ گئی، جس نے اس فتنہ کا پوری طاقت سے مقابلہ کیا، اور اس کو میدان سے ہٹا دیا، بہت سی دعوتیں اور تحریکیں ایسی ہیں جو اپنے وقت میں بڑی طاقتور تھیں، لیکن آج ان کا وجود صرف کتابوں میں رہ گیا ہے۔ ان کی حقیقت کا سمجھنا بھی آج مشکل ہے۔ کتنے آدمی ہیں جو قدریت ، جہمیت، اعتزال ،وحدۃ الوجود اور اکبر کے دین الہی کی حقیقت اور تفصیلات سے واقف ہیں، حالانکہ یہ اپنے اپنے وقت کے بڑے اہم عقائد ومذاہب تھے، ان میں سے بعض کی پشت پر بڑی بڑی سلطنتیں تھیں، اور اپنے زمانہ کے بعض بڑے ذہین اور لائق اشخاص ان کے داعی اور علمبردار تھے، لیکن بالآخر حقیقت اسلام نے ان پر فتح پائی، اور کچھ عرصہ کے بعد یہ زندہ تحریکیں اور سرکاری مذاہب علمی مباحث بن کر رہ گئے، جو صرف علم کلام اور تاریخ عقائد کی کتابوں میں محفوظ ہیں، دین کی حفاظت کی یہ جدوجہد ، تجدید وانقلاب کی کوشش اور دعوت واصلاح کا یہ سلسلہ اتنا ہی پرانا ہے ، جتنی اسلام کی تاریخ اور ایسا ہی مسلسل ہے جیسی مسلمانوں کی زندگی۔
اسلام کی میراث
یہ میراث جو ہمارے ہاتھ میں پہنچی اور جس کو ہم میراث کے معنی میں نہیں بول رہے ہیں جو اہل مغرب کا مفہوم ہے اسلئے کہ اسلام ایک زندہ جاوید دین ہے، ہم میراث سے وہ دولت اور ثروت مراد لیتے ہیں جو ہمارے اسلاف سے ہماری طرف منتقل ہوئی ہے، علم راسخ، محفوظ و مضبوط عقائد، طاقتور ایمان، سنت سنیہ، اخلاق عالیہ، فقہ وشریعت اور شاندار اسلامی ادب کی ثروت۔ اس میراث میں ہر اس فرد کا پورا حصہ ہے، جس نے اسلام کے کسی دور میں بھی منہاج خلافت پر حکومت قائم کی، جاہلیت اور مادیت کا مقابلہ کیا، اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دی، امت میں ایمانی روح پیدا کی۔ اس لازوال ثروت میں ہر اس شخص کا اضافہ تسلیم کیا جائے گا جس نے اس دین پر اس کے مآخذ اور اس کی تعبیرات پر اعتماد کو از سر نو استوار کیا، نووارد فلسفوں کا ابطال کیا، اسلام کی حقیقی فکر کی حفاظت کی، اور اس امت کو کسی نئے فتنہ میں پڑنے سے باز رکھا، جس نے اس امت کے لئے اس کے دین اور مصادر دین کی حفاظت کی، حدیث وفقہ کی تدوین جدید کا کام انجام دیا، اجتہاد کا دروازہ کھولا، اور امت کو تشریح کا خزانہ ٔعامرہ اور زندگی ومعاشرہ کا منظم قانون عطا کیا، جس نے معاشرہ میں احتساب کا فرض اداکیا ، اور اس کے انحراف اور کج روی پر کھل کر تنقید کی، اور صحیح وحقیقی اسلام کی برملا وآشکارا دعوت دی، جس نے شکوک وشبہات کے دور اور اضطراب عقائد کے زمانہ میں علمی طرز استدلال اختیار کرکے دماغوں کو مطمئن کرنے کی کوشش کی،اور ایک نئے علم کلام کی بنیاد ڈالی ، جس نے دعوت وتذکیر اور انداز تبشیر میں انیباء علیہم السلام کی نیابت کی، اور ایمان کی دبی ہوئی چنگاریوں کو شعلہ جوالہ کی حرارت وحرکت بخشی، جس نے مادہ پرستی کے تندوتیز دھارے کے سامنے کھڑے ہوکر اس کی تیزی وبلاخیزی کم کی اور خدا کی مخلوق کو اس دھارے میں بہہ جانے یا اس میں دب جانے سے محفوظ رکھا۔ n
( تاریخ دعوت و عزیمت جلد اول )